بلوچوں کو ریکوڈک معاہدے پر بنیادی اعتراض کیا ہے؟

ایک ایسے موقع پر جب کہ ملک نازک سیاسی صورتحال سے دوچار ہے، حکمران اتحاد میں پہلی بار اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور سردار اختر جان مینگل کی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی نے ریکوڈک معاہدے پر بلوچوں کو اعتماد میں نہ لینے کے خلاف بطور احتجاج حکومت چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔ اس سے پہلے انکی جماعت نے ریکوڈک تانبے اور سونے کی کان کے منصوبے کی بحالی بارے ایک متنازع بل پر وفاقی کابینہ کے اجلاس کا بھی بائیکاٹ کر دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا دو اتحادی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل نے بائیکاٹ کیا۔

صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جے یو آئی (ف) اور بی این پی کے تحفظات دور کرنے کے لیے کابینہ کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور ناراض جماعتوں کی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ انکی مشاورت سے جلد ایک ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ دونوں ناراض جماعتوں کا مؤقف تھا کہ سینیٹ میں حال ہی میں منظور ہونے والا ریکوڈک سے متعلق فارن انویسٹمنٹ (پروموشن اینڈ پروٹیکشن) بل 2022 بلوچستان کے عوام کے حقوق کے خلاف ہے اور اسکی تیاری کے دوران دونوں جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

لیکن وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد جے یو آئی (ف) اور بی این پی(مینگل) دونوں نے اپنے علیحدہ علیحدہ اجلاس منعقد کیے اور اپنے مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں اتحاد چھوڑنے کے آپشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اختر مینگل کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکومتی اتحاد میں شامل رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لئے 15 دسمبر کو اپنی پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلا لیا ہے۔ یاد رہے کہ حکومتی اتحادی جماعتوں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کا بائیکاٹ تب کیا جب کابینہ نے ریکوڈک کی تشکیل نو کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی منظوری دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے 9 دسمبر کو حکومت پاکستان اور دو عالمی فرمز کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کے شکار ریکوڈک کان کنی کے منصوبے کی بحالی کے لیے طے ہونے والے معاہدے کو شفاف اور قانونی قرار دیا تھا۔ 13 دسمبر کو سینیٹ نے فارن انویسٹمنٹ (پروموشن اینڈ پروٹیکشن) بل 2022 منظور کر لیا جس کے بعد ریکوڈک کان کنی منصوبے کی تشکیل نو کی راہ ہموار ہوگئی۔ لیکن دو اتحادی جماعتیں اس پر ناراض ہو گئیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اتحادی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے پر حکومت نے ہمارے نکات نہیں مانے تو ہم اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ مینگل نے کہا کہ صوبائی حکومت اور سابقہ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے 2013 کےفیصلے پر ان کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایک معاہدہ کیا، وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو ریکوڈک معاملے کے حل کے لئے میرے پاس آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین کے مالکان صوبے کے عوام ہیں، ہمیں مختص فیصد کے بجائے اس منصوبے کی ملکیت دی جائے، ایسا معاہدہ ہمیں قابل قبول نہیں، حکومت نے پہلے ہی غیر ملکی سرمایہ کاری تحفظ و فروغ بل کے آرٹیکل 144 کے تحت تمام اختیارات صوبے سے لے کر مرکز کو دے دیے ہیں جو کہ صوبائی خودمختاری کے اصول کے خلاف ہے اور اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے۔

بی این پی کے سربراہ نے کہا کہ اس قانون کے تحت ٹیکسیشن، معدنیات، پالیسی میں تبدیلی، لیبر ترمیم سمیت کافی ایسے اختیارات ہیں جو 18ویں ترمیم سے قبل صوبے کے پاس تھے، ان اختیارات کو ریکوڈک تک محدود نہیں رکھا گیا۔ اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہمارا حکومت کے ساتھ اتحاد بلوچستان کی احساس محرومی کے خاتمے کے لئے تھا، ہمیں اُمید تھی کہ یہ حکومت کچھ معاملات کا ازالہ کرے گی تاہم لاپتہ افراد کی بازیابی کے بجائے جعلی ان کاؤنٹرز  میں انہیں دہشتگرد قرار دے کر شہید کیا جا رہا ہے، حکومت ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک بل لانے سے قبل حکومت کو ہم سے مشاورت کرنی چاہئے تھی۔ مینگل نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے نکات پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا تو ہم اتحادی حکومت کو خیرباد کہہ دیں گے، اپنی پارٹی کے ساتھیوں کے ہمراہ میٹنگ رکھ کر اس معاملے پر فیصلہ کریں گے۔

یاد رہے کہ ریکوڈک کان کنی کے منصوبے کے اصل معاہدے پر 2006 میں دستخط کیے گئے تھے اور اس میں کینیڈا کی کمپنی بیرک گولڈ اور چلی کی کمپنی اینٹو فاگاسٹا کو 37.5 فیصد حصہ دیا گیا تھا جبکہ بلوچستان حکومت کو 25 فیصد شیئر ملا تھا۔

یہ دونوں عالمی کمپنیاں کنسورشیم ٹیتھیان کاپر کمپنی کا حصہ تھیں اور انہوں نے بلوچستان میں ریکوڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر دریافت کیے تھے۔ انتہائی نفع بخش اوپن پٹ مائن پروجیکٹ 2011 میں اس وقت رک گیا تھا جب مقامی حکومت نے ٹیتھیان کاپر کی لیز کی توسیع سے انکار کر دیا تھا اور 2013 میں سپریم کورٹ نے معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ 2019 میں عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل کمیٹی نے کان کنی پروجیکٹ کو غیرقانونی طریقے سے روکنے پر پاکستان پر جرمانہ عائد کیا تھا۔ مارچ میں وفاق اور بلوچستان حکومتوں نے دونوں کمپنیوں کے ساتھ ریکوڈک پروجیکٹ کی تشکیل نو کے فریم ورک سے متعلق معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اینٹو فاگاسٹا اس سے باہر ہو گئی تھی۔

نو تشکیل شدہ پروجیکٹ جو بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر کو نکالنے کے لیے کام کرے گا، کے تحت پاکستان ریکوڈک کیس میں 11 ارب ڈالر کے جرمانے سے بچ گیا ہے۔ نئے معاہدے کے تحت بیرک گولڈ نے منصوبے میں پاکستان اور بلوچستان کی حکومتوں اور 3 سرکاری اداروں کے ساتھ 50 فیصد شراکت دار بننے کا فیصلہ کیا جبکہ چلی کی فرم پاکستانی شیئر ہولڈر کی جانب سے ادا کیے گئے 900 ملین ڈالر کے عوض معاہدے سے باہر نکل گئی۔ بلوچستان حکومت نئے معاہدے کے تحت منصوبے میں 25 فیصد شیئر رکھتی ہے اور دیگر 25 فیصد شیئر ہولڈنگ مساوی طور پر 3 سرکاری اداروں کے پاس ہے۔

Back to top button