پاکستان سے ڈالرز ٹوکریاں بھر کر افغانستان کیوں جا رہے ہیں؟

ایک ایسے وقت میں کہ جب پاکستان ڈالر کی کمی کے ساتھ ساتھ اسکی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے بحران در بحران کا شکار ہے، ایسی خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں کہ پاکستان سے ہر ماہ بھاری تعداد میں امریکی ڈالرز سرحد پار افغانستان بھجوائے  رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق پاکستان سے ڈالرز فروٹ کی ٹوکریوں میں بھر بھر کر ٹرکوں کے ذریعے سرحد پار افغانستان سمگل کیے جا رہے ہیں۔ ڈالر کے پاکستان سے افغانستان سمگل کیے جانے کی ایک وجہ پاکستان اور افغانستان میں ڈالر کے ریٹ کا فرق ہے جس کے باعث یہاں سے سستا ڈالر خرید کر افغانستان لے جایا جاتا ہے اور مہنگا بیچا جاتا ہے۔

اسی دوران اب افغانستان کی طالبان حکومت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایک دوست ملک کی جانب سے 40 ملین ڈالرز وصول ہوئے ہیں۔ اس خبر کے ساتھ ایک جہاز کی تصویر بھی دکھائی گئی ہے جس میں سے ڈالرز کے بڑے بڑے بنڈل نکالے جا رہے ہیں  لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ لکشمی کہاں سے آئی ہے۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ شاید طالبان حکومت کو یہ امدادی رقم پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی، لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی صداقت نہیں کیونکہ پاکستان خود ڈالرز کے اتنے بڑے بحران کا شکار ہے کہ وہ دیوالیہ ہونے کے خطرات سے دوچار ہے۔

اسی دوران امریکی حکومت کے ایک نگران ادارے کا کہنا ہے کہ انہیں پتا چلا ہے کہ طالبان نے ممکنہ طور پر ان لاکھوں ڈالروں تک رسائی حاصل کر لی ہے جو امریکہ نے افغان حکومت کے خاتمے سے قبل اسے منتقل کیے تھے۔سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن نے، اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا ہے کہ طالبان نے محکمہ خارجہ، محکمہ دفاع اور یو ایس ایڈ سے بھیجے گئے تقریباً 5 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کے فنڈز تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ سگار نے رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغانستان میں فنڈز کی منتقلی کے بعد، امریکی ایجنسیوں نے ان کے استعمال پر توجہ نہیں کی اور افغان حکومت پر انحصار کیا کہ وہ اپنے مطلوبہ مقاصد کے لیے فنڈز تقسیم کرلیں گے جو اب طالبان کے ہاتھ لگ گئے۔ لہذا خیال کیا جا رہا ہے کہ جو رقم طالبان ایک جہاز سے نکالتے ہوئے دکھا رہے ہیں یہ وہی ہے۔

دوسری جانب پاکستان ڈالرز کے شدید بحران کا شکار ہے اور اب تو ایل سیز کھلوانے کے لیے بھی ڈالرز دستیاب نہیں۔ پاکستان سے ڈالر سمیت غیر ملکی کرنسی کی بیرون ملک سمگلنگ کے واقعات میں اس سال کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ کیسز کا سراغ تو کسٹمز اہلکاروں نے مختلف ایئرپورٹس اور بارڈرز پر لگایا ہے، جبکہ سمگلنگ کی کامیاب وارداتوں کا تخمینہ اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مختلف پاکستانی ایئرپورٹس اور زمینی سرحدوں پر اس سال کے 11 ماہ میں ملک سے غیر ملکی زرمبادلہ سمگل کرنے کے 94 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں تقریباً ساڑھے چار ملین ڈالر کے برابر غیر ملکی کرنسی غیر قانونی طور پر لے جائی جا رہی تھی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پکڑی جانے والی یہ سب سے زیادہ رقم ہے۔ گزشتہ سال ملک بھر میں کسٹمز اہلکاروں نے ایسے 26 کیسز پکڑے تھے جس میں صرف دو لاکھ ستر ہزار ڈالر کی سمگلنگ کی کوشش کی گئی تھی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی پیر کو ڈالر کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ انہوں نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ اگر سمگلنگ روکنے کے لیے بارڈر سِیل کرنا پڑے تو وہ بھی کریں۔ اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ ’یہاں سے گندم، کھاد اور ڈالرز ایک پڑوسی ملک میں سمگل کیے جا رہے ہیں۔ اور پھرو ہاں سے وسطی ایشیا کے ممالک میں جا رہے ہیں۔‘

اس حوالے سے اب کسٹمز، ایف آئی اے اور رینجرز کے علاوہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی سمگلنگ روکنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔ کسٹمز نے بھی چمن میں پاک افغان بارڈر پر پاک  آرمی کے تعاون سے 5 لاکھ سے زائد ڈالرز سمیت کروڑوں روپے کی پاکستانی کرنسی اگلے روز برآمد کی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پشاور میں کلکٹر انفورسمنٹ معین الدین وانی کا کہنا تھا کہ اس بار سمگلرز نت نئے طریقوں سے ڈالرز ملک سے باہر سمگل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’ہم نے کئی ایسے کیسز پکڑے ہیں جن میں ذہنی طور پر معذور افراد کو ڈالرز کی سمگلنگ کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ کسٹم حکام کو ان پر شک نہ پڑے۔ اس کے علاوہ خواتین اور بزرگ افراد کے ذریعے بھی سمگلنگ کی کوشش کی جا رہی تھی۔ سمگلرز نے یہ تکنیک بھی اپنائی ہے کہ زیادہ لوگوں کے ذریعے تھوڑی تھوڑی رقم سمگل کر رہے ہیں تاکہ پکڑے جانے کا چانس کم ہو سکے۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس سال کیسز زیادہ ہونے کی ایک وجہ تو سرویلنس نظام کا متحرک ہونا ہے مگر اس کی کئی دیگر وجوہات بھی ہیں۔ انکے مطابق سمگلنگ کی ایک وجہ پاکستان اور افغانستان میں ڈالر کے ریٹ کا فرق ہے جس کے باعث یہاں سے سستا ڈالر خرید کر افغانستان لے جایا جاتا ہے اور مہنگا بیچا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ انڈر انوائسنگ تجارت کے لحاظ سے ڈالر کی سمگلنگ ایک اہم ترین وجہ ہے۔ ملک بھر میں اور افغانستان سے درآمد کے لیے رسیدیں پہلے سے طے شدہ قیمت کے مطابق بنائی جاتی ہیں۔ تاہم یہ قیمت کم طے کی جاتی ہے اور بقیہ رقم کی ادائیگی کیش سمگلنگ کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک تیسری وجہ افغانستان میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ بھی ہے۔ چونکہ بین الاقوامی امداد کی بندش اور امریکہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے افغانستان کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں اس سے وہاں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہے اور ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی وجہ سے بھی سمگلنگ کا رجحان بڑھا ہے۔ چونکہ پاکستان اور دیگر ممالک بین الاقوامی سطح پر اس بات کے پابند ہیں کہ وہ لینڈ لاکڈ ممالک کی درآمدات کو راستہ دیں۔ افغانستان اپنی درآمدات پاکستان اور ایران کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ میں لاتا ہے۔ تاہم اس کے بعد پاکستانی سمگلرز وہی سامان کو پہلے ٹرانزٹ کے ذریعے پہنچنے دیتے ہیں اور پھر اسے پاکستان میں سمگل کیا جاتا ہے۔ یہ سب ایک غیر قانونی اور بے قاعدہ تجارت ہے جہاں غیر قانونی طریقوں سے اور خاص طور پر بڑی تعداد میں نقدی کی سمگلنگ کے ذریعے رقم کی منتقلی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کرنسی کی سمگلنگ روکنی ہے تو اس کے لیے طورخم بارڈر پر موجودہ کارگو سکینرز کو ہائی ٹیک بیگیج سکینرز سے تبدیل کرنا ہوگا۔ اسی طرح سٹیٹ بینک افغانستان سے لا کر طورخم میں دکھائی گئی برآمدی رقم کو جلد جمع کرنے کے لیے ہدایات جاری کرے۔ اسکے علاوہ سرحدی سٹیشنوں پر کسٹم کے عملے کے لیے رہائش کا اہتمام ہونا چاہیے۔

Back to top button