بیہودہ آڈیو میں کس حکومتی وزیر کی آواز ہے؟


ویڈیوز اور آڈیو سکینڈلز کے عمرانی دور میں اب ایک اور آڈیو مارکیٹ ہونے جا رہی ہے جس میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے ایک وزیر مملکت ایک خاتون کے ساتھ نہایت بیہودہ اور اخلاق باختہ گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سینئر صحافی عمران شفقت نے انکشاف کیا ہے کہ اس آڈیو میں وزیر مملکت ایک مجبور خاتون سے اپنی دس سیکنڈ کی اخلاق باختہ ویڈیو بنوا کر بھیجنے کا مطالبہ کرتے سنائی دیتے ہیں۔
نیا دور پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں نعیم الحق مرحوم اور مفتی سعید کی ایک خاتون کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان اور خاتونِ اول کے ساتھ کے حوالے سے آڈیو لیک بھی سامنے آ چکی ہے۔ اس کے بعد ایک سابق سینیئر جج رانا شمیم نے دعویٰ کیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کے سامنے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کو فون کر کے اسے ہدایات دیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو انتخابات سے پہلے ضمانت پر رہا نہیں ہونا چاہیے۔ پھر صحافی احمد نورانی ایک آڈیو کلپ سامنے لے آئے جس میں مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس کسی کو یہ کہتے سنے جا سکتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم کو سزائیں دینی ہیں کیونکہ ادارے چاہتے ہیں کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ پھر مریم نواز کا ایک آڈیو کلپ بھی سامنے آیا جس میں وہ ہدایات دیتی سنی جا سکتی تھیں کہ فلاں فلاں چینل کو اشتہارات دینا بند کر دیں۔ اب ایف آئی اے کی قید بھگتنے والے سینئر صحافی سید عمران شفقت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایک وزیرِ مملکت کی آڈیو ٹیپ موجود ہے جس میں موصوف ایک خاتون کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے سنے جا سکتے ہیں۔
اپنے یوٹیوب چینل پر عمران شفقت نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک وزیر مملکت کی ایک بیہودہ آڈیو لیک ہو چکی ہے جو انکے پاس بھی موجود یے لیکن وہ اسے خود اس لیے سامنے نہیں لانا چاہتے کیونکہ اس میں نہایت گری ہوئی اور اخلاق بافتہ باتیں کی گئی ہیں۔ عمران نے کہا کہ افسوس یہ ہے کہ وزیرِ مملکت سے ایک خوبصورت خاتون، جن کا سال پیدائش 1986 ہے، اپنے بیمار والد کے علاج کے لیے حکومتی امداد مانگتی سنائی دیتی ہیں۔ وہ وزیر مملکت کو بتاتی ہیں کہ میرے والد بیمار ہیں، اور وہیل چیئر پر ہیں لہذا مہربانی کر دیں۔ لیکن وزیر موصوف نے مہربانی کرنے کے بجائے خاتون سے الٹے سیدھے مطالبات کرنا شروع کر دیے جس کے آڈیو ثبوت موجود ہیں۔
عمران شفقت کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ پاکستان سے باہر آڈیو کلپ بھجوا کر اس کا فارنزک کروا سکیں اور پاکستان میں ایسی کوئی کمپنی موجود نہیں کہ یہاں سے فرانزک ہو سکے۔ انہوں نے بتایا کہ آڈیو خاتون نے ریکارڈ کی اور اس کا علم ان کے والد کو بھی ہو گیا جو کہ اس دباؤ میں مزید بیمار ہو گئے کہ میری بیماری کی وجہ سے میری بیٹی کی عزت پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ بقول عمران شفقت، جب وزیرِ مملکت کو پتہ چلا کہ ان کی آڈیو بن چکی ہے اور کچھ لوگ اس بارے پریس کانفرنس کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے اپنے ایک قریبی دوست کو معاملہ سنبھالنے کے لیے بیچ میں ڈالا۔ آڈیو میں خاتون کا بھانجا بھی وزیر مملکت سے گفتگو کر رہا ہے، اس کا بھی آڈیو ریکارڈ موجود ہے۔ عمران نے کہا کہ میں خاتون کا نام نہیں بتا رہا لیکن میرے پاس خاصے ثبوت موجود ہیں۔ اس واقعے کے بعد خاتون نے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے تحریکِ انصاف کے ایک نوجوان رہنما سے رابطہ کیا، جس سے بات پھیل گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اداکارہ فاطمہ سہیل نے دوسری شادی کر لی ہے؟
سینئیر صحافی نے دعویٰ کیا کہ آڈیو میں وزیرِ مملکت خاتون کو یہ کہتے سنائی دیتے ہیں پہلے مجھے اتنے سیکنڈز کی اپنی ایک ویڈیو بنا کر بھیجو، اگر تم مجھے دس سیکنڈ کی ویڈیو بھیج دو گی تو کیا ہو جائے گا۔ عمران شفقت نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان صبح شام قوم کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں لیکن ان کے اپنے وزرا کی اخلاقیات کا یہ حال ہے۔ دوسری جانب بتایا جا رہا ہے کہ اس آڈیو کے فرانزک کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور جیسے ہی اس کی رپورٹ سامنے آئے گی آڈیو کو ریلیز کر دیا جائے گا۔

Back to top button