پاکستانی ماڈل نے سکھ برادری کے جذبات کیسے مجروح کیے؟

سکھ مذہب کے مقدس مقام گردوارہ کرتارپور صاحب کے احاطے میں ایک پاکستانی فیشن برانڈ کو فوٹو شوٹ کرنے اور خاتون ماڈل کو ننگے سر فلمانے کی اجازت دئیے جانے پر سکھ برادری ناراض ہے اور حکومت پاکستان سے سخت احتجاج کیا گیا ہے۔
گوردوارہ کرتار صاحب کی سکھ انتظامیہ نے اس واقعے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے سوال کیا ہے کہ کیا کسی مقدس مقام کو بھی کمرشل مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ پہلے لاہور میں بادشاہی مسجد کے باہر وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے چند فنکاروں کے ساتھ بھنگڑا ڈالا تھا تو پاکستانی عوام نے اس کی شدید مذمت کی تھی لہٰذا اپنے مقدس مقامات کے حوالے سے سکھوں کے جذبات بھی ویسے ہی ہیں جیسے کہ مسلمانوں کے۔ سکھوں کو بڑا اعتراض یہ ہے کہ پاکستانی خاتون ماڈل نے فیشن برانڈ ’منت کلاتھنگ‘ کے لیے گوردوارہ کرتارپور صاحب میں ننگے سر ماڈلنگ کی اور ان کے مذہبی جذبات کو سخت مجروح کیا۔
دوسری جانب فیشن برانڈ ’منت کلاتھنگ‘ نے فوٹو شوٹ کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر معذرت کر لی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر انہیں ایک بلاگر کی جانب سے مہیا کی گئیں تھیں جن میں ماڈل نے انکے ملبوسات پہنے ہوئے ہیں۔
انڈیا میں مقیم سکھ رویندر سنگھ روبن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’خواتین کے لباس کے لیے گردوارہ کرتارپور صاحب کے احاطے میں لاہور کی ایک خاتون نے ماڈلنگ کرکے سکھوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔‘انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد یہ تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی گئیں۔
دوسری جانب پاکستانی فیشن برانڈ ’منٹ کلاتھنگ‘ کے مطابق اس فوٹو شوٹ کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ انہون نے اپنے کپڑوں کی قیمتیں 50 فیصد تک کم کر دی ہیں۔ فوٹو شوٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ماڈل گردوارہ کی مرکزی عمارت کے سامنے بیٹھی ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین پاکستانی حکومت اور وزیراعظم عمران خان سے اس ’ناقابل قبول‘ رویے کو روکنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں مقیم سکھ رہنما منجندر سنگھ سرسا نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ایسا رویہ اور حرکت گرو ناننک دیوجی کے مقدس مقام پر بالکل ناقابل قبول ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان اور پاکستانی حکومت کو پاکستانی لوگوں کو کرتارپور صاحب کو پکنک کی جگہ کی طرح ٹریٹ کرنے سے روکنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔‘
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیزائنر اور ماڈل کو سکھ برادری سے معذرت کرنی چاہیے۔‘ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور صاحب مقدس مقام ہے کوئی ’فلم کا سیٹ نہیں۔‘ فیشن برانڈ ’منت کلاتھنگ‘ نے معذرت کرتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہٹا لی ہیں۔ ایک انسٹاگرام پوسٹ میں کمپنی نے وضاحت کی کہ ’جو تصاویر ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لگائی گئی ہیں وہ کسی شوٹ کا حصہ نہیں۔‘ کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تصاویر ہمیں ایک تھرڈ پارٹی (بلاگر) کی جانب سے مہیا کی گئیں تھیں جن میں وہ ہمارے ملبوسات پہنے ہوئے تھیں۔‘ تاہم فیشن برانڈ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں یہ مواد پوسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا اور ’ہم معذرت چاہتے ہیں ہر اس شخص سے جس کی دل آزاری ہوئی ہے۔ تمام مذہبی مقامات ہمارے لیے مقدس ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: کرونا نے مزید 9 افراد کی جان لے لی
خیال رہے کہ کرتارپور پاکستان کے ضلع نارووال میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد سے چار کلومیٹر دور واقع ہے۔
سکھوں کے لیے یہ علاقہ اس لیے مقدس ہے کہ یہاں پر ان کے مذہبی پیشوا بابا گرو نانگ نے اپنی زندگی کے آخری 18 سال گزارے تھے اور یہیں ان کی آخری رسومات ادا کی گئی تھیں۔تقسیم ہند کے بعد یہ علاقہ پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ سرحد کے اس پار گردوارہ ڈیرہ بابا نانک موجود ہے۔
