آئی ایم ایف کی طرح سعودی امداد پر بھی کڑی شرائط عائد


آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر حاصل ہونے والے قرض کی طرح اب سعودی کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی امداد سخت شرائط پر دی جا رہی ہے جو تحریک انصاف حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کروائے جانے والے تین ارب ڈالرز صرف ذخائر کو سہارا دیں گے جبکہ پاکستان انہیں استعمال نہیں کر پائے گا، یعنی ان ذخائر کی صرف علامتی حیثیت ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ اس جمع شدہ رقم، جسے پاکستان خرچ کرنے کا مجاز نہیں، پر ایک سال میں 120 ملین ڈالرز کا سالانہ سود بھی ادا کرنا ہو گا۔ علاوہ ازیں دونوں ممالک کے تعلقات میں کسی تنازعے کی صورت میں سعودی قوانین کے تحت ڈیپازٹ شدہ رقم کی واپسی کا فیصلہ ہوگا یعنی جب تک پاکستان کے پاس سعودی عرب کے تین ارب ڈالر محفوظ ہیں تب تک پاکستان کو سعودیہ کے ساتھ بنا کر رکھنا ہوگی ورنہ ماضی کی طرح ایک بار پھر اچانک رقم کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے مرکزی بینک اور سعودی فنڈ برائے ترقی نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس ڈپازٹ ایگریمنٹ کے تحت پاکستان کے مرکزی بینک کو آئندہ چند روز میں تین ارب ڈالر منتقل ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس رقم سے مرکزی بینک کو زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور کرونا وبا کے اس پر پڑنے والے منفی اثرات کو زائل کرنے میں مدد ملے گی۔
سعودی عرب سے اس معاشی پیکج کے تحت پاکستان کو نہ صرف تین ارب ڈالرز مل رہے ہیں بلکہ 1.2 ارب ڈالرز کا تیل بھی مؤخر ادائیگیوں پر مل سکے گا۔ یوں مجموعی طور پر یہ 4.2 ارب ڈالرز پر مشتمل پیکج ہے جو سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دیا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ رواں برس اکتوبر میں وزیرِ اعظم عمران خان کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر ہوا تھا جسے اب حتمی شکل دی گئی ہے۔ پاکستانی حکام نے اس سے قبل یہ توقع ظاہر کی تھی کہ سعودی حکومت کی جانب سے یہ رقم اس وقت تک پاکستانی خزانے میں موجود رہے گی جب تک پاکستان اکتوبر 2023 میں آئی ایم ایف سے کیا گیا معاشی پروگرام مکمل نہیں کر لیتا۔ تاہم دوسری جانب اس معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے پر کئی معاشی ماہرین اس پر سوالات بھی اٹھاتے نظر آ رہے ہیں۔ معاشی ماہر فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے جمع کرائی گئی یہ رقم پاکستان استعمال نہیں کر پائے گا، اور اس کی صرف علامتی حیثیت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ سے پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ جن میں گزشتہ تین ماہ میں ساڑھے چار سے پانچ ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے اور نومبر تک درآمدات میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔ اُن کے بقول ایسے میں پاکستان کو غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کے لیے ڈالرز کی سخت ضرورت تھی۔ لہذٰا تین ارب ڈالرز کی منتقلی سے پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر 25 ارب ڈالرز کے قریب پہنچ جائیں گے۔
اس رقم کی واپسی میں کسی تنازع کی صورت میں سعودی قوانین کے اطلاق سے متعلق ایک سوال کے جواب میں فرخ سلیم کہتے ہیں کہ قرض دینے والا اپنی شرائط کے ساتھ ہی قرض دیتا ہے۔ اسی لیے معاہدے میں یہ شق شامل کی گئی ہے کہ تنازع کی صورت میں سعودی قوانین کے تحت ہی فیصلہ ہو گا۔ فرخ سلیم کہتے ہیں کہ قرض کی یہ سہولت کڑی شرائط کے تحت پاکستان کو مل رہی ہے لیکن اس سے قبل بجلی کے حصول کے لیے کیے گئے نجی بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز سے معاہدے بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ جن میں ورلڈ بینک کے سیٹلمنٹ ڈسپیوٹ میکنزم کے تحت یا برطانیہ کی عدالتوں کا قانون لاگو ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایک پیغام بھی ہے کہ دنیا ہماری عدالتوں پر اعتماد نہیں کرتی کیونکہ یہاں تنازعات کو حل کرنے کا طریقۂ کار بہتر نہیں۔ فرخ سلیم نے بتایا کہ قومی خزانے میں اس جمع شدہ رقم جسے پاکستان خرچ کرنے کا مجاز نہیں پر ایک سال میں 120 ملین ڈالرز کا سالانہ سود ادا کرنا ہو گا۔ ان کے خیال میں غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کے لیے یہ ایک بہتر اقدام ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ معاشی پیکج کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل بھی میسر ہو سکے گا جو ماہانہ 100 ملین ڈالر بنتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی روزانہ کی تیل کی کھپت ساڑھے پانچ لاکھ بیرل کی ہے جب کہ اس ڈیل کے تحت پاکستان روزانہ 40 سے 45 ہزار بیرل تیل ایک سال موخر ادئیگی پر حاصل کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دسمبر آ رہا ہے
پاک کویت انویسٹمنٹ کمپنی میں ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق کے خیال میں یہ معاشی معاہدہ کمرشل بنیادوں پر قرض کے حصول کا ہے جس میں اس قسم ہی کی شرائط کم و بیش ایسی ہی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی بہت بُری شرائط نہیں ہے لیکن قومی معیشت کے لیے اس وقت اہم مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نمٹنے کا ہے جب کہ پاکستان نے پچھلے تین ماہ میں سکوک بانڈ کی ادائیگی اپنے ذخائر سے کی ہے کیونکہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ اسی وجہ سے سعودی عرب سے ملنے والی اس رقم کی اہمیت زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے پاس تین ماہ سے کم کی درآمدات کے تناسب سے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں اور حکومت نے اس پیکج کو انتہائی ضروری سمجھا ہے تبھی اس نے یہ شرائط منظور کی ہیں۔
حکومتی ترجمان برائے وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب سے ڈپازٹس ہی کا مطالبہ کیا تھا اور ڈپازٹ کی گئی رقم پر جمع کرانے والے کا ہی حق ہوتا ہے کہ وہ کب واپس مانگ لے۔

Back to top button