تاریخ میں مشرف کا نام سیاہ حروف سے کیوں لکھا جائے گا؟

فوجی بغاوت، نائن الیون کے بعد امریکہ کی جنگ کا حصہ بننا، پاکستان میں میڈیا کی آزادی، روشن خیالی، بلدیاتی انتخابات اور پھر کراچی کی سڑکوں پر ’خونریز طریقے‘ سے طاقت کا اظہار۔ تاریخ پرویز مشرف کو کیسے یاد رکھے گی؟

سابق صدر و فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور آئین کو معطل کر کے برسر اقتدار آئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انہوں نے آئین کو پامال کیا تھا لہذا تاریخ میں پرویز مشرف کو ایک ڈکٹیٹر(آمر) کے طور پر ہی یاد رکھا جائے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے کئی سینئر فوجی جرنیلوں کو نظر انداز کر کے پرویز مشرف کو آرمی چیف کے عہدے کے لیے چنا تھا مگر بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کے معاملے پر دونوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی اور اس ضمن میں نواز شریف نے بی جے پی کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو لاہور بلا کر بات چیت کا آغاز کیا تو بھارت سے بات چیت کے درمیان پرویز مشرف رکاوٹ بن گئے۔ اس اثناء میں کارگل کا واقعہ رونما ہو گیا۔12اکتوبر 1999ء کی بغاوت اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پرویز مشرف نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دینا شروع کر دی اور پھر وہ بھارت سے تعلقات اچھے کرنے میں بہت ہی آگے چلے گئے تھے۔

سابق صدر و آمر پرویز مشرف کے دور حکومت میں ملک میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات ہوئے، جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، پرویز مشرف پر دو مرتبہ دہشت گردانہ حملے ہوئے، ان پر جی ایچ کیو کے قریب ہونے والا حملہ بہت ہی خطرناک تھا۔ ان کے دور میں القاعدہ اور طالبان کی خونریز کارروائیاں بہت بڑھ گئی تھیں اور اس کی بڑی وجہ ان کا ”دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں امریکہ کا اتحادی بننا تھا۔

جنرل پرویز مشرف کے کہنے پر جنرل محمود اور مفتی ناظم الدین شامزئی کی قیادت میں ملا عمر سے بات چیت کی گئی اور  تجویز دی گئی تھی کہ اسامہ بن لادن کو افغانستان سے نکال دیا جائے۔ جنرل مشرف سمجھتے تھے کہ جو پیش کش کی گئی ہے اگر قبول کر لی گئی تو امریکہ افغانستان پر حملہ نہیں کرئے گا۔

جنرل پرویز مشرف خود کو ایک روشن خیال لیڈر قرار دیتے تھے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں اصلاحات، خواتین کے حقوق، بلدیاتی اداروں کے قیام اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے حوالے سے بھی فعال کردار ادا کیا۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق انہیں باوردی صدر  رہنے، آئین کو معطل کر کے برسر اقتدار آنے اور سیاسی عزائم رکھنے والے جنرل کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا۔

تجزیہ نگار عنبر رحیم شمسی نے سابق صدر پرویز مشرف کی وفات پر کہا کہ انہوں نے آئین پاکستان کو توڑ کر اقتدار حاصل کیا، وہ ایک طاقتور فوجی حکمران تھے، جس کی وجہ سے وہ انفرادی طور پر کسی سیاسی نظام کو جوابدہ نہیں تھے، ” لہذا انہوں نے انسانی حقوق کو پامال کیا، میڈیا پر بھی پابندیاں لگائی اور عدلیہ کو بھی ہدف بنایا‘‘۔

انہیں دو مرتبہ سپرسیڈ کر کے آرمی چیف بنایا گیا۔ جنرل مشرف کی خواہش تھی کہ وہ صدر بن جائیں اور انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو وزیراعظم کا عہدہ سنبھا لیں۔ جنرل مشرف نے تجویز دی تھی کہ بے نظیر بھٹو انتخابات کے بعد وطن واپس آئیں، دوسری جانب بے نظیر بھٹو نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو جنرل مشرف کی ہدایات نظر انداز کر کے ملک واپس آ گئیں۔ پرویز مشرف بے نظیر سے ناراض تھے، جس کے بعد ان کا بے نظیر بھٹو کے لیے ہمیشہ دھمکی آمیز رویہ رہا، وہ کہتے تھے کہ بے نظیر بھٹو کی جان کو خطرہ ہے اور پھر یہی بات سچ ثابت ہوئی۔ 18اکتوبر کو بے نظیر کے قافلے پر حملہ ہوا مگر وہ اس حملے میں بال بال بچ گئیں۔ بے نظیر بھٹو اس ناکام حملے کا ذمہ دار جنرل مشرف کو ہی قرار دیتی تھیں۔

سنئیر تجزیہ نگار مظہر عباس نے کہا، ”پرویز مشرف نے 1999ء میں ہونے والی بغاوت کے بعد آئین کو معطل کر دیا جبکہ ملک کے لیے آئین پہلے ہوتا ہے۔ پرویز مشرف نے ہی نومبر2007 ء کو ایک بار پھر آئین مخالف اقدامات کیے اور اعلی عدلیہ کے ججز کو معزول کر دیا، جس سے ملک میں افراتفری پھیل گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وکلاء نے عدلیہ کی آزادی کے لیے تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک سے پرویز مشرف کمزور ہوئے‘‘۔

12مئی2007 کو کراچی کی ”تاریخ میں سیاہ ترین دن‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ 12مئی کو ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر کراچی میں، جو کچھ ہوا اس کی مثال نہیں ملتی۔کراچی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلی گئی، جنرل مشرف کے دور میں میڈیا کو آزادی دی گئی لیکن پرویز مشرف کو میڈیا کو آزادی دینا پسند نہیں آیا اور پھر خود ہی اس میڈیا پر پابندی بھی عائد کر دی۔

Back to top button