برتھ سرٹیفکیٹ سے کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا:خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق اپنے حالیہ بیان پر آج بھی قائم ہوں، میں نے جو بات کی تھی وہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پر کی تھی اور اس کی وضاحت بھی کر چکا ہوں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر اپنا مؤقف سوشل میڈیا کے ذریعے بھی واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف برتھ سرٹیفکیٹ کسی شخص کی شناخت کا تعین نہیں کرتا، "برتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا”۔ وزیر دفاع نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنی جدوجہد میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، تاہم پاکستان نے بھی مسئلہ کشمیر کے لیے بڑی قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مختلف ادوار میں جنگیں لڑیں اور بے شمار جانوں کی قربانیاں دیں، لیکن اس کے باوجود بعض اوقات پاکستان کے کردار کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

خواجہ آصف نے ماضی کی سیاسی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1990 کی دہائی میں ملک شدید سیاسی تناؤ کا شکار رہا، تاہم سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے قومی مفاد میں سیاسی محاذ آرائی ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور میثاقِ جمہوریت کی بنیاد رکھی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پارلیمان کے اندر بھی ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلافات موجود تھے، لیکن وقت کے ساتھ سیاسی قیادت نے جمہوری عمل کے استحکام کی ضرورت کو محسوس کیا۔

وزیر دفاع نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میثاقِ جمہوریت میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تو تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر اس پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کر کے سیاسی برداشت اور مکالمے کی روایت کو فروغ دیا ہے۔ ان کے بقول ماضی میں ایسا سیاسی ماحول کم ہی دیکھنے میں آیا۔انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملکی سیاست، آئینی روایات اور پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچایا۔ خواجہ آصف کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے دوران آئینی طریقہ کار اختیار کرنے کے بجائے آرٹیکل 5 کا سہارا لے کر اسمبلی تحلیل کی گئی، جو جمہوری روایت کے منافی تھا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں سخت سیاسی حریف رہی ہیں، لیکن دونوں جماعتوں کی قیادت نے قومی مفاد میں اختلافات کو پس پشت ڈال کر میثاقِ جمہوریت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ بھی سیاسی استحکام اور جمہوری روایات کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کا حصہ بنے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر ملک میں جمہوری عمل کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے گا۔

Back to top button