ایرانی میزائل پروگرام پر شہباز شریف کی وضاحت: اصل معاملہ کیا تھا؟

اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی موجودگی میں ایک ایسا سفارتی لمحہ سامنے آیا جس نے پاکستان، ایران اور امریکہ کے تعلقات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو نہ صرف بند کمرہ ملاقات، وفود کی سطح پر مذاکرات بلکہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی بار بار یہ وضاحت کرنا پڑی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کا کوئی ذکر شامل نہیں۔ اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی ضرورت کیوں پیش آئی کہ وزیر اعظم پاکستان کو ایرانی صدر کی موجودگی میں اس حساس دفاعی معاملے پر بارہا دوٹوک مؤقف اختیار کرنا پڑا اور کھلے الفاظ میں وضاحت دینا پڑی؟
مبصرین کے مطابق اس پورے معاملے کی ابتدا قومی اسمبلی میں وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک تقریر سے ہوئی۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان نہ صرف جنگ بندی ہوئی ہے بلکہ آئندہ ساٹھ روز میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے جن میں جوہری اثاثوں، منجمد اثاثوں اور بیلسٹک میزائلوں سمیت مختلف امور پر گفتگو ہو گی۔ یہی وہ جملہ تھا جس نے سفارتی حلقوں میں سوالات پیدا کر دیے، کیونکہ اس سے یہ تاثر لیا گیا کہ شاید ایرانی میزائل پروگرام بھی مستقبل کے مذاکرات یا مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے۔
چند ہی گھنٹوں بعد ایرانی وزارت خارجہ نے تہران میں واضح طور پر کہا کہ ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کبھی بھی امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا حصہ نہیں رہیں اور نہ ہی آئندہ بنیں گی۔ بعد ازاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس مؤقف کی تائید کی۔ اس صورتحال نے اسلام آباد میں موجود ایرانی وفد کے سامنے پیدا ہونے والے ابہام کو مزید نمایاں کر دیا۔
اسی پس منظر میں جب ایرانی صدر پاکستان پہنچے تو وزیر اعظم شہباز شریف نے وفود کی سطح پر گفتگو کرتے ہوئے خصوصی طور پر اس معاملے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے اعتماد سے کہنا چاہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائلوں کا کوئی ذکر موجود نہیں، نہ یہ کبھی ایجنڈے کا حصہ رہا اور نہ ہی ایران نے اس پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک ایرانی صحافی نے براہِ راست سوال کیا کہ آیا وزیر اعظم نے پاکستانی پارلیمنٹ میں ایران کی میزائل صلاحیت سے متعلق کوئی ریمارکس دیے تھے۔ اس سوال کے جواب میں شہباز شریف نے دوبارہ وضاحت کی کہ ان کی تقریر کا مقصد صرف امن عمل اور ثالثی کی کامیابی کو اجاگر کرنا تھا، جبکہ بیلسٹک میزائل نہ کبھی مذاکرات کی میز پر آئے، نہ مفاہمتی یادداشت کا حصہ تھے اور نہ ہی ان پر کوئی اتفاقِ رائے ہوا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر دنیا کے دیگر ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ایران کے دفاعی پروگرام پر الگ معیار اپنانا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات کو غیر ضروری تنازع بنا کر امن عمل کو متاثر نہیں کرنا چاہیے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسی موقع پر واضح الفاظ میں کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں تھا، یوں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر اس ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی۔
ماہرین کے مطابق اس معاملے بارے اصل حساسیت اس لیے بھی تھی کیونکہ امریکہ طویل عرصے سے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر حدود مقرر کرنے کی بات کرتا رہا ہے، جبکہ اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک بھی اسے اپنی سلامتی کے لیے اہم مسئلہ سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا میزائل پروگرام خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یوں اسلام آباد میں بار بار دی جانے والی وضاحت دراصل ایک سفارتی غلط فہمی کو فوری طور پر دور کرنے کی کوشش تھی تاکہ یہ تاثر قائم نہ ہو کہ پاکستان نے بطور ثالث کسی ایسے معاہدے کی توثیق کی ہے جس میں ایران کے میزائل پروگرام پر گفتگو شامل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شہباز شریف نے ایرانی صدر کی موجودگی میں بھی متعدد مرتبہ ایک ہی بات دہرائی کہ بیلسٹک میزائل نہ مذاکرات کا حصہ تھے، نہ مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہیں اور نہ ہی اس پر کوئی بات ہوئی۔
