ڈالرز کیلئے افغانی بننے والے پاکستانی اب مشکل میں کیوں؟

پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی حکومتی پالیسی نے ایک ایسا غیر متوقع بحران بے نقاب کر دیا ہے جس نے ہزاروں خاندانوں کو قانونی اور شناختی مسائل میں الجھا دیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے نادرا کے سرکاری جواب کے مطابق 26 ہزار سے زائد افراد نے افغان پناہ گزین کارڈز کی منسوخی اور پاکستانی شناخت کی بحالی کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں، جن میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو خود کو پیدائشی پاکستانی شہری قرار دیتے ہیں۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان افغان مہاجرین کی مرحلہ وار وطن واپسی کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور افغان شہریت یا پناہ گزین حیثیت رکھنے والے افراد کو ملک چھوڑنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ان ہزاروں افراد کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے جنہوں نے ماضی میں مختلف وجوہات کی بنا پر افغان پناہ گزین کارڈ حاصل کیے تھے۔
پشاور کے رہائشی محمد سلیم ان ہزاروں متاثرین میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق کئی برس قبل انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے افغان پناہ گزین کارڈ بنوایا تھا کیونکہ اس وقت بین الاقوامی امدادی اداروں کی جانب سے فی کارڈ 400ڈالر مالی معاونت دی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ فیصلہ معمولی محسوس ہوا لیکن آج یہی کارڈ ان کے خاندان کے لیے ایک سنگین قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔ سلیم کے مطابق ان کے تمام اہل خانہ پاکستانی شناختی دستاویزات رکھتے ہیں لیکن نادرا کے ریکارڈ میں ان کی اہلیہ افغان شہری ظاہر ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں افغانستان واپس جا کر اپنی افغان حیثیت ختم کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ اس پورے عمل میں وہ ایک سال سے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں اور اس پر لاکھوں روپے خرچ کر چکے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ مسئلہ صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت متعدد مقدمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں مالی امداد، بیرون ملک پناہ کے امکانات یا خاندانی روابط کی بنیاد پر کئی پاکستانی شہریوں نے افغان پناہ گزین کارڈ حاصل کیے تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بعض افراد ایسے ہیں جن کے خاندان سرحدی علاقوں میں آباد ہیں اور ان کے رشتہ دار پاکستان اور افغانستان دونوں جانب رہتے ہیں۔ بعض درخواست گزاروں نے مالی فوائد کے حصول کے لیے جبکہ بعض نے بیرون ملک پناہ حاصل کرنے کے امکانات بڑھانے کے لیے افغان شہریت یا پناہ گزین حیثیت اختیار کی تھی۔ اب حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے بعد یہی دستاویزات ان کے لیے مشکلات کا سبب بن گئی ہیں۔
نادرا کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق موصول ہونے والی 26 ہزار سے زائد درخواستوں میں سے 17 ہزار 884 درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں کیونکہ درخواست گزار پاکستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب دو ہزار 200 افراد کو مکمل تصدیق کے بعد پاکستانی شہری قرار دیتے ہوئے کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ چھ ہزار 637 درخواست گزار تصدیقی عمل مکمل کرنے کے لیے پیش ہی نہیں ہوئے جس کی وجہ سے ان کے کیسز ابھی زیر التوا ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ایسے معاملات کے حل کے لیے قانونی فورم نادرا ہے اور درخواست گزاروں کو پہلے ادارہ جاتی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت کی ہے کہ تمام درخواستوں پر چار ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے اور درخواست گزاروں کو مکمل سہولت فراہم کی جائے۔فیصلے کے مطابق نادرا رجسٹریشن مراکز پر آنے والے ہر درخواست گزار کو باقاعدہ ٹوکن جاری کرے گا، مطلوبہ دستاویزات وصول کرنے کی رسید دے گا اور مکمل دستاویزات کی صورت میں معاملہ خصوصی تصدیقی بورڈ کو بھجوائے گا۔ اگر مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہو تو متاثرہ افراد دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکیں گے۔
مبصرین کے مطابق یہ معاملہ محض چند شناختی کارڈز یا دستاویزات کا نہیں بلکہ پاکستان کے شہریت اور رجسٹریشن نظام کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔ ایک طرف ہزاروں افراد اپنی پاکستانی شناخت بحال کروانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ریاست کو یہ طے کرنا ہے کہ حقیقی پاکستانی شہری کون ہیں اور کن افراد نے ماضی میں غلط معلومات یا مالی مفادات کی بنیاد پر افغان شناخت اختیار کی تھی۔ ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں یہ کیسز نہ صرف نادرا بلکہ وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے بھی ایک بڑا انتظامی اور قانونی چیلنج ثابت ہوں گے، کیونکہ ان فیصلوں کا تعلق ہزاروں خاندانوں کے مستقبل، شہریت اور قانونی حیثیت سے جڑا ہوا ہے۔
