امریکہ ایران مذاکرات کا دوسرا دور کب ہو گا؟پاکستان نے بتا دیا

ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے منعقد ہوگا، جس میں پاکستان کا وفد بھی شریک ہوگا۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کا جاری رہنا بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں مذاکرات، سفارتکاری اور تعمیری مکالمے پر یقین رکھتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ایرانی صدر کے دورے کے دوران تجارتی اور معاشی تعلقات کے فروغ پر بھی گفتگو ہوئی، جبکہ ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی بات چیت میں پاکستان اور قطر نے ثالث کے طور پر شرکت کی۔ مذاکرات میں متعدد اہم امور زیر بحث آئے اور اب پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں آئندہ مرحلے کی تیاری کے لیے دونوں فریقوں سے رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے ثالثی کردار پر عالمی برادری کی جانب سے ملنے والی پذیرائی اور اعتماد کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ان کے بقول عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا نے بھی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے ذریعے اعتماد سازی میں مثبت کردار ادا کیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں دیگر ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی حملوں کی مذمت میں مشترکہ بیان جاری کیا، جبکہ برطانیہ اور امریکا میں زیر حراست 30 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں بھی معاونت فراہم کی گئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ڈنمارک کی حمایت سے پیش کی گئی قرارداد 2223 کو 153 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جس میں اقوام متحدہ کے امن مشنز پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی عملے اور جہاز کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے۔ پاکستانی سفارت خانے کی تکنیکی ٹیم جبوتی کا دورہ کر چکی ہے جبکہ مختلف سرکاری ادارے، مقامی این جی اوز اور انصار برنی سمیت دیگر تنظیمیں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے رابطوں میں مصروف ہیں۔
