وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا کے مابین راز کی کیا باتیں ہوئیں؟

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی ملاقات اور دلچسپ جملوں کے تبادلے نے ایوان کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ایوان میں آمد پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم اپنی نشست سے اٹھ کر خود مولانا فضل الرحمان کے پاس گئے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان کا مولانا فضل الرحمان کے ساتھ احترام اور عزت کا رشتہ ہے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ مولانا کے ساتھ تنہائی میں ہونے والی گفتگو راز ہی رہے گی اور وہ اسے "قبر تک ساتھ لے جائیں گے”۔اس پر مولانا فضل الرحمان نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ وہ بات ایوان میں بتا دیں۔ تاہم وزیراعظم نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ وہ یہ آفر قبول نہیں کریں گے کیونکہ پھر معاملات اتنے آگے چلے جائیں گے کہ واپس نہیں آئیں گے، جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔
وزیراعظم نے بعد ازاں اپوزیشن بنچوں کا بھی رخ کیا اور اپوزیشن لیڈر سمیت مختلف ارکان سے مصافحہ کیا۔ انہوں نے لطیف کھوسہ، نور عالم خان اور دیگر پارلیمنٹیرینز سے ملاقات کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی نشست سے اٹھ کر وزیراعظم سے ملنے آئے۔ دونوں رہنماؤں نے خوشگوار انداز میں مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی۔
دریں اثنا مولانا فضل الرحمان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا اور ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا جسے انہوں نے حکومت تک پہنچا دیا ہے، تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا جائزہ لیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے ساتھ محض تقاریر کی بنیاد پر سخت رویہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے مظفرآباد مارچ مؤخر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مذاکرات کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بعض بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات اشتعال میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ جذباتی ردعمل حکومتی منصب کے شایانِ شان نہیں ہوتا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق قومی اسمبلی میں مختلف سیاسی رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقاتوں اور مکالمے نے حالیہ سیاسی ماحول میں پارلیمانی روایات اور سیاسی شائستگی کی مثبت جھلک پیش کی ہے۔
