‘تباہ شدہ طیارے کا آخری معائنہ 21 مارچ کو ہونے کا انکشاف

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ نے 22 مئی کے روز کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے ایئربس اے-320 کے تکینکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی ہے۔سمری کے مطابق طیارے کو رواں ماہ 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی۔سمری میں کہا گیا کہ دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔
رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے اے) کی جانب سے طیارے کو 5 نومبر، 2020 تک اڑان بھرنے کے لیے صحیح قرار دیا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئر بس A320-200 کو پرواز کی صلاحیت(ایئروردینس) کا پہلا سرٹیفکیٹ 6 نومبر 2014 سے 5 نومبر 2105 تک کے لیے جاری کیا گیا تھا اور اس کے بعد ہر برس طیارے کے مکمل معائنے کے بعد سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔
تحقیقاتی ٹیم کے دیگر اراکین میں اے اے آئی بی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیکنیکل انویسٹی گیشن ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، پاک فضائیہ کامرہ کے سیفٹی بورڈ کے انویسٹی گیٹر گروپ کیپٹن توقیر اور بورڈ کے جوائنٹ ڈائریکٹر اے ٹی سی ناصر مجید شامل ہوں گے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو سول ایوی ایشن کے رولز 1994 کے رول 273 کے سب رول ون کے تحت اختیارات حاصل ہوں گے جو کم سے کم مدت میں اپنی رپورٹ ایوی ایشن ڈویژن کو جمع کرائے گی تاہم ابتدائی رپورٹ ایک ماہ کے اندر سامنے لائی جائے گی۔
قبل ازیں پاکستان کراچی: پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن(پالپا ) نے بین الاقوامی اداروں اور اپنی شمولیت سے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔پالپا نے طیارے کی حالت سے متعلق تکنیکی تحقیقات کی تجویز بھی دی اور کہا کہ تفتیش کاروں کو گراؤنڈ اسٹاف اور عملے کے کام کرنے کے حالات پر لازمی غور کرنا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ تحقیقات میں انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشنز کو شامل کیا جائے۔
پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کیپٹن عمران ناریجو نے کہا تھا کہ جس طرح ماضی میں تحقیقات ہوئیں ہم اسے قبول نہیں کریں گے اور پالپا کی شمولیت کے بغیر حادثے کی انکوائری قبول نہیں کریں گے۔عمران ناریجو نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے گئے ایئر سیفٹی رولز پر عمل سے پالپا ایسے بدقسمت حادثات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ پاکستان کی فضائی حدود کو پروازوں کے لیے محفوظ بنایا جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پی آئی اے انتظامیہ اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر حادثے کی انکوائری کا حکم دیں اور جلد از جلد اس کی رپورٹ پیش کریں۔
22 مئی کی شب پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی آئی کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ارشد ملک نے کہا کہ پرواز پی کے 8303 کے پائلٹس اور عملہ قابل تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ حادثات ہوتے ہیں لیکن ہمارے پائلٹس اس قسم کے حالات کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں، طیاروں کی ہر قسم کی ضروری جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ارشد ملک نے کہا تھا کہ میرے پائلٹس قابل تھے اور ان کے طبی ٹیسٹس بھی مکمل تھے، جہاز کا عملہ بھی مکمل تھا اور طیارے کا مکمل معائنہ بھی کیا گیا تھا۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ارشد ملک نے کہا تھا کہ تباہ ہونے والا طیارہ اڑان بھرنے کے لیے تکنیکی طور پر بالکل ٹھیک تھا۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ کسی بھی طیارے کو ہر قسم کی تکنیکی جانچ پڑتال یقینی بنانے کے بعد اڑان بھرنے کے لیے کلیئرنس دی جاتی ہے۔سی ای او پی آئی اے نے کہا تھا کہ سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ طیارہ حادثے کی تحقیقات کرے گا، انہوں نے کہا تھا کہ یہ میری ذمہ داری ہے اور آپ کا حق ہے کہ آپ یہ معلومات حاصل کریں۔
واضح رہے کہ حادثے کے عینی شاہد اعجاز مسیح نے کہا کہ جہاز نے 2 مرتبہ لینڈنگ کی کوشش کی لیکن اس کے پہیے باہر نہیں آرہے تجے اور رن وے کو چھونے سے قبل ہی پائلٹ نے جہاز کو واپس موڑ لیا۔انہوں نے کہا کہ طیارے نے دوسری مرتبہ لینڈنگ کی کوشش کی میں نے دیکھا کہ ایک انجن میں سے آگ نکل رہی تھی کیونکہ رن وے سے رگڑ لگی تھی، وہ تیسری مرتبہ واپس نہیں آیا بلکہ تباہ ہوگیا۔اعجاز مسیح نے مزید کہا کہ وہ ماڈل کالونی میں پی آئی اے ایمرجنسی رسپونس یونٹ کی معاونت کررہے تھے جہاں طیارہ رہائشی عمارتوں سے ٹکرایا اور کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے اب تک جہاز کی سائیڈ پر پینٹ کیا گیا اس کا انفرادی نمبر ‘ بی ایل ڈی’ یاد ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہد شکیل احمد نے بتایا کہ ایئرپورٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک موبائل ٹاور سے ٹکرایا اور گھروں پر گر کر تباہ ہوگیا۔موصول جائے حادثہ کی ویڈیوز میں لاشوں کو ملبے تلے دبے دکھایا گیا جبکہ علاقہ مکین گلیوںپر موجود ملبے کے ڈھیر کے قریب موجود تھے، رینجرز اور سندھ پولیس کے اہلکار ریسکیو آپریشنز کررہے تھے۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ایئربس 320 نے تباہ ہونے سے قبل بظاہر 2 سے 3 مرتبہ لینڈ کرنے کی کوشش کی۔
