توہین رسالت یا کسی نبی کی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتی
توہین مذہب کے مبینہ الزام پر2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے بری ہونیوالی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ کبھی توہین رسالت، گستاخی یا کسی نبی کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہوں۔
مسیحی خاتون آسیہ بی بی کا اپنے اوپرلگائے گئے مبینہ توہین رسالت کے الزام کے حوالے سے کہنا ہے کہ اس نے کچھ نہیں کہا تھا یہ معاملہ پانی کے گلاس سے شروع ہوا تھا، جبکہ اس نے توہین رسالت نہیں کی اور نہ وہ ایسا کرنے کا سوچ بھی سکتی ہے۔ آسیہ بی بی کینیڈا میں نامعلوم مقام پر تین بیڈروم والے اپارٹمنٹ میں اپنے شوہر اور بیٹیوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں مجھے کوئی دھمکی نہیں دی گئی میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ کوئی مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے لیکن میں پرسکون رہی،میں مضبوط ہوں۔مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے آسیہ بی بی نے کہا کہ میں نے نہیں سوچا کہ مستقبل میں ہمارا خاندان کہاں جائے گا۔
یاد رہے کہ آسیہ بی بی نے فرانس سے سیاسی پناہ دینے کی اپیل کی تھی جس کے تحت وہ فرانسیسی صدر سے ملاقات کریں گی۔ آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ ا نہیں اپنے بہن بھائیوں اور سسرالیوں کی یاد آتی ہے لیکن سب سے زیادہ وہ اپنے ملک کی ثقافت، کھانوں اور چار موسموں کو یاد کرتی ہیں۔ آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ ا نہیں یقین ہے کہ ایک دن چیزیں بدل جائیں گی اور وہ 58 سالہ شوہر عاشق، 20 سالہ بیٹی ایشام اور 21 سالہ عائشہ جو معذور ہے کے ہمراہ پاکستان جائیں گی۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جانے کی امید بالکل اُس طرح برقراررکھی ہوئی ہے جیسے جیل میں قید کے دوران آزادی کی امید رکھی ہوئی تھی۔آسیہ بی بی نے اپنی لکھی گئی کتاب میں سارے کا واقعات کا ذکر کیا ہے کہ کیسے یہ معاملہ شروع ہوا اور کیسے قید کے بعد رہائی ملی۔
آسیہ بی بی کے مطابق یورپی یونین ان کے معاملے پر بہت سخت محنت کر رہی ہے اور وہی لوگ فیصلہ کریں گے کہ آئندہ کہاں رہوں گی۔آسیہ بی بی کا مزید کہنا ہے کہ سب کو ان لوگوں کی مدد کے لئے متحد ہونا چاہئے جوپاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں توہین رسالت کے قوانین کے تحت قید ہیں۔
خیال رہے کہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو 2018 میں توہین مذہب کے معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بَری کرد یا تھا۔جس کے بعد وہ کینیڈا منتقل ہو گئیں تھیں۔
