کراچی اوراسلام آباد میں کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے پاکستان میں 2 کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق کردی ہے. وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس میں کوررونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں 2 کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے ہیں، کلینیکل اسٹینڈرڈز کے مطابق دونوں کیسز کا خیال رکھا جا رہا ہے، دونوں مریض اب تک مستحکم حالت میں ہیں، پریشانی کی بات نہیں، تمام معاملات کنٹرول میں ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ایک شخص کی تشخیص کراچی اور دوسرے کی اسلام آباد میں ہوئی ہے، دونوں اشخاص نے گزشتہ 14 دن میں ایران کا سفر کیا، یقین ہے پاکستان میں وائرس سے متاثر لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی، کورونا وائرس سے بچنے کے لئے احتیاط اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چاروں ہمسایہ ممالک میں کورونا وائرس کی بیماری پھیل چکی ہے تاہم بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں اب وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ایک ایک چیز پر نظر ہے، محنت کے ساتھ تمام اقدامات کررہے ہیں جب کہ وزیراعظم کی ہدایت پر روزانہ وائرس سے متعلق اطلاعات دوں گا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ عوام اپنے گرد رہنے والوں پر نظر رکھیں اور 1166 پر اطلاع دیں، ہمیں بلا ضرورت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، علامات ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
اس سے قبل ترجمان محکمہ صحت سندھ نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس کراچی میں رپورٹ کیا گیا ہے، کراچی کے شہری 22 سالہ یحییٰ جعفری میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس نے حال ہی میں ایران سے کراچی کا سفر کیا تھا۔
محکمہ صحت سندھ کی جانب سے متاثرہ نوجوان اور اس کی فیملی کو نجی اسپتال کے کورینٹائن وارڈ میں داخل کردیا گیا ہے جب کہ متاثرہ نوجوان کے ہمراہ ایران سے آنے والے دیگر افراد کا بھی ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ متاثرہ شخص ایران سے بذریعہ جہاز کراچی پہنچا تواس کی ایئرپورٹ پر اسکریننگ نہیں کی گئی کیوں کہ ایئرپورٹ صوبائی نہیں وفاق کے کنٹرول میں آتے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کررہی ہے اور اس حوالے سے اسپتالوں کو کٹس فراہم کی جاچکی ہیں۔
دریں اثناء وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا ایک کیس سندھ جبکہ دوسرا وفاقے علاقے میں سامنے آیا ہے جبکہ اس وقت کیسز کی اس سے زیادہ تفصیلات نہیں بتا سکتے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے ہمراہ کوئٹہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘پاکستان میں آج 2 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، طب کی اخلاقیات میں مریض کی معلومات شیئر نہیں کی جاتیں اس لیے اس وقت سامنے آنے والے کیسز کی اس سے زیادہ تفصیلات نہیں بتا سکتے جبکہ گزارش ہے کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی معلومات شیئر نہ کی جائیں۔’انہوں نے کہا کہ ‘میں معلومات کے لیے صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ایک مریض کی تشخیص سندھ اور دوسرے کی وفاقی علاقے میں ہوئی ہے، دونوں کیسز کا تعلق ایران کے سفر کے ساتھ ہے اور دونوں افراد نے گزشتہ دو ہفتے کے دوران ایران کا دورہ کیا۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں بلا ضرورت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، موجودہ صورت حال میں ہمیں احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اگر کوئی چین یا ایران کا سفر کر چکا ہے اور اس میں وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں تو وہ ڈاکٹر سے رابطہ کریں، علامات کی صورت میں ہماری ہیلپ لائن 1166 پر بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے۔’
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کی روک تھام اور تدارک کے لیے ہماری تیاری مکمل ہے، ایک ماہ میں جو اقدامات کیے امید ہے کہ کورونا کا مسئلہ زیادہ نہیں ہوگا۔’انہوں نے کہا کہ ‘ہم اب تک 100 سے زائد مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کر چکے ہیں اور تمام افراد کے ٹیسٹ کلیئر ہیں، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں اور اس وبا کے خلاف سب مل کر کام کریں گے۔’
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ ‘کورونا وائرس سے متعلق مکمل احتیاطی تدابیر اپنائی جائیں گی۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘زائرین کی آمد و رفت اور اسکریننگ کو مانیٹر کیا جارہا ہے جبکہ کوئٹہ میں چند دنوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت شروع ہوجائے گی۔’
دوسری طرف وزیر تعلیم بلوچستان سردار یار محمد رند نے کورونا وائرس کے پیش نظر صوبے کے تمام تعلیمی ادارے 15 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے حفاظتی اقدام اور بچوں کے تحفظ کے لیے صوبے کے تمام سرکاری ادارے، مدارس اور نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر سندھ حکومت نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں جمعرات اور جمعہ (27 اور 28 فروری) کی تعطیل کا اعلان کردیا۔
وزیر تعلیم سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سینیٹر سعید نے ٹوئٹ کے ذریعے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا۔
واضح رہے کہ کراچی میں 22 سالہ نوجوان میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دوسرے کیس کی بھی تصدیق کی تھی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ‘دونوں کیسز کا کلینیکل اسٹینڈرڈ پروٹوکولز کے مطابق خیال رکھا جارہا ہے اور دونوں افراد کی حالت مستحکم ہے۔’انہوں نے کہا کہ ‘حالات کنٹرول میں ہیں اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔’
دوسری جانب وزیر صحت سندھ کی میڈیا کوآرڈینیٹر میران یوسف نےکراچی میں نوجوان کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا 22 سالہ نوجوان ایران سے 20 فروری کو آیا تھا، نوجوان ایران میں ہی وائرس سے متاثر ہوا اور وہاں ان میں علامات ظاہر ہوئی تھیں۔میڈیا کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ نوجوان آج نجی ہسپتال میں آیا تھا جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو بھی بلایا گیا اور مریض اور ان کے اہل خانہ کو ہسپتال میں ہی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ متاثرہ شہری کو کراچی کے نجی ہسپتال میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ چین کے بعد پاکستان کے دیگر تینوں ہمسایہ ملک ایران، افغانستان اور بھارت میں پہلے ہی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے تھے لیکن پاکستان محفوظ رہا تھا۔پاکستان نے ایران میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر اپنی سرحد عارضی طور پر بند کردی تھی اور تفتان اور سرحدی علاقے میں انتظامات کیے گئے ہیں۔
کورونا وائرس گزشتہ برس کے آخر میں چین کے صوبے ہوبے کے دارالحکومت ووہان میں سامنے آیا تھا جس کے بعد جنوری میں مزید کیسز سامنے آگئے تھے اور چین نے سخت اقدامات کیے تھے۔دنیا کے سب سے بڑے آبادی کے حامل ملک میں شروع ہونے والے اس مہلک وائرس سے مزید 71 ہلاکتیں ہو گئی ہیں جس سے صرف چین میں اس وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 2 ہزار 633 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 77 ہزار سے زائد افراد اب تک اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم ازکم 2 ہزار 700 ہوچکی ہے اور 81 ہزار سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔
