ثاقب نثار کی آڈیو نے ہائبرڈ نظام کو کیسے ننگا کیا؟


معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے ثابت ہو گیا کہ ہائبرڈ نظام کی بوسیدہ دیوار بس چند سیکنڈ کی ایک آڈیو کی مار تھی۔ انصاف کی قلعی چند سیکنڈ کی آڈیو میں کھل کر سامنے آ گئی۔ اب یہ ہائبرڈ نظام صرف ڈھٹائی کی چھتری تلے قائم ہے اور اسکا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا۔ اب عمران خان حکومت اور اسے برسر اقتدار لانے والے  بے نقاب ہو چکے ہیں۔ وہ پردہ جو اس مصنوعی نظام کے چہرے سے رفتہ رفتہ سرک رہا تھا اچانک اس نظام کو  مکمل طور عریاں کر گیا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب یہ بات واضح ہو چکی کہ سیاست دانوں کے فیصلے ایوانوں میں نہیں بلکہ آڈیو اور وڈیو لیکس کے ذریعے ہوں گے۔ انصاف اب عدالتوں میں نہیں، خفیہ ریکارڈنگز کے ذریعے ملے گا۔ حکومتیں اب ووٹ سے نہیں بلکہ وڈیوز کے تعاون سے قائم رہیں گے۔ عمار کہتے ہیں کہ امریکہ میں مقیم معروف صحافی احمد نورانی کی جانب سے جاری سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیکس نے ملک بھر میں ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے اور ہائبرڈ نظام کی بوسیدہ دیوار کو زمین بوس کر دیا ہے۔ اب ہر روز ثبوت آ رہے ہیں کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے کے لیئے نواز شریف اور مریم نواز کو عتاب کانشانہ بنایا گیا۔ اس بات پر عوام کو یقین آتا جا رہا ہے کہ 2018 کے الیکشن دھاندلی زدہ تھے۔ اب اس سازش سے پردہ اٹھتا جا رہا ہے جس کے ذریعے عوام کے ووٹ کو لوٹا گیا۔ پارلیمان کی توہین کی گئی۔ نظام عدل کی تضحیک کی گئی۔ انتقام کوانصاف کے لبادے میں پیش کیا گیا۔ اب بھی اگر کوئی ان حقائق سے انکار کرتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ اب ملک کا بچہ بچہ حقیقت جان گیا ہے۔ 2018 میں کیا ہوا؟ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کس کے لیئے ہوا ؟
عمار مسعود کے مطابق، نواز شریف اور مریم نواز نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی ہے۔ درجنوں پیشیاں بھگتیں۔ بے شمار بار خود کو انصاف دلانے کی خاطر عدالتوں میں پیش ہوئے۔ بے تحاشا  بے بنیاد اور بلا جواز مقدمات کا سامنا کیا۔ مسلم لیگ ن کے تمام ہی رہنما اس عتاب کا شکار رہے۔ کسی پر ہیروئن کا مقدمہ ڈال دیا ، کسی پر ترقیاتی پراجیکٹ لگانے کا الزام ثابت ہوا اور کوئی سچ بولنے کا  مجرم ہوا۔ اس تمام عرصے میں لوگوں کی ایک مخصوص تعداد اس سارے عمل کو انصاف کہتی رہی۔ بے گناہوں کو مجرم قرار دیتی رہی۔ لیکن ایک چند سیکنڈ کی آڈیو کی وجہ سے اب سب ثبوت مل گئے ہیں۔ اور جو باقی ہیں انکی بھی آڈیو / وڈیو لیکس چند دنوں میں سامنے آ جائے گی۔ یہ اندیشہ دلوں کو سہمائے ہوئے ہے کہ چند دنوں کے بعد کچھ اور ناقابل تردید ثبوت آئیں گے تو اس نظام کے چلنے کا کوئی جواز نہیں رہ گیا۔ اب ارباب بست و کشاد کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔ عوامی سطح پر ہزیمت سے بچنا پڑے گا۔
عمار ہائبرڈ نظام کے خالق کو مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی عزت اور وقار کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اس وقت یہی ہے کہ جمہوریت کی طرف رجوع کیا جائے۔ بند کمروں میں عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے بجائے مجموعی عوامی شعور پر اعتماد کیا جائے۔ عوام کی رائے لی جائے۔ بائیس کروڑ لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
انکا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کے حق میں اب تک پانچ گواہیاں آچکی ہیں۔ یہ سب ناقابل تردید ثبوت تھے۔ ان سے ثابت ہوا ہے کہ وہ مجرم نہیں مظلوم ہیں۔ ان کے ساتھ انصاف نہی ہوا انکے خلاف ایک بھیانک سازش ہوئی ہے۔ ان تمام تر ثبوتوں کے باوجود بھی آج نواز شریف  کے سیاست  میں حصہ لینے پر پابندی ہے۔ یہ پارٹی کی قیادت نہیں کر سکتے۔ کوئی سیاسی عہدہ اہنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ ان تمام تر ثبوتوں کے باوجود بھی اگر یہ پابندی قائم رہے گی تو یہ اس نظام پر ایک بہت بڑا تازیانہ رہے گا۔ اس سے پہلے کہ ہم حکومت کی رخصت کے وقت کا تعین کریں۔ ان ہاوس چینج کی بات کریں۔ آزادانہ اور منصفانہ نئے الیکشن کی بات کریں۔ عدلیہ کو اپنے ماتھے سے اس داغ کو مٹانا ہو گا۔ نواز شریف  پرسے پابندی کو اٹھانا ہو گا۔ آزاد الیکشن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یہ پابندی قائم ہے۔
عمار کے مطابق، وہ حلقے جو اس وقت بڑی شدومد سے اس وقت آزاد اور منصفانہ الیکشن کے حق میں دلائل دے رہیں انہیں اس بارے میں سوچنا ہو گا کہ نواز شریف  پر سے نااہلی کی تلوار ہٹائے بغیر نہ الیکشن آذاد ہوں گے نہ منصفانہ اور نہ ہی انہیں شفاف الیکشن کہا جا سکتا ہے۔ اگر اس نااہلی کی پابندی کے ساتھ الیکشن کروانے کی کوشش کی گئی تو عوامی رد عمل سامنے آئے گا۔ انکا کہنا یے کہ ہم نے گذشتہ تین سالوں میں اس ملک کا بہت نقصان کیا ہے ۔ خود اپنے ہاتھ سے اس نشمین کو آگ لگا دی ہے۔ اپنے مفادات کی خاطر بائیس کروڑ لوگوں کے مفادات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ بہت کچھ برباد ہو گیا ہے لیکن ابھی بھی واپسی کا رستہ ممکن ہے۔ ابھی بھی بگڑتے حالات کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ابھی بھی اس گرتی معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے ابھی بھی پاکستان کے بین الاقوامی امیج کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ ابھی بھی نفرتوں کا اختتام ہو سکتا ہے۔ لیکن اس سب کے لئے ماضی کی غلطیوں سے سبق سکیھنا ضروری ہے۔ ماضی کی کوہتاہیوں سے توبہ ضروری ہے۔
بقول عمار مسعود، آج اگر نواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں سے نااہلی ختم ہوتی ہے تو یہ اس اعتماد کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ یہ شفاف الیکشن کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ یہ اداروں اور عدلیہ کی ساکھ بچانے کی طرف پہلا قدم ہو گا۔ لیکن اگر ایسا نہی ہوتا، ضد اور ہٹ دھرمی قائم رہتی ہے، ذاتی مفادات، قومی مفادات پر حاوی رہتے ہیں، الیکشن سے پہلے خفیہ ہاتھ کام کرتے رہتے ہیں، مذہبی جماعتوں کا سیاسی استعمال جاری رہتا ہے، عوامی امیدوں کا قتل عام جاری رہتا ہے تو بات بہت بگڑ جائے گی۔ بے گناہی کے تمام تر شواہد کے بعد  نواز شریف  کی نااہلی کے برقرار رہنےکی صورت میں سارا نظام نااہل ہو جائے گا۔ اس لئے کہ ایک طرف تو عدالتیں نواز شریف کو سیاسی اہلیت دینے پر تیار نہیں دوسری جانب عوام اب نواز شریف کے علاوہ کسی کی بات سننے پر راضی نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوبر کے کیڑے

یاد رکھنے کی بات بس اتنی ہے کہ قوموں کو بار بار بڑی غلطیاں کرنے کی مہلت نہیں ملتی۔ قومیں بار بار گرکر کھڑا ہونے کی ہمت نہیں رکھتیں۔ بڑے نقصان سے پہلے غلطیاں درست کرنا ہوں گی۔ ورنہ سارا ملک کسی انجانی آڈیو کی زد میں آ جائے گا سب کا پول کھل جائے گا۔ ابھی آخری موقع بچا ہے، ابھی توبہ کا آخری  دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔

Back to top button