جسٹس جاوید اقبال کی زیر قیادت لاپتہ افراد کمیشن 9 برس سے لاپتہ ہے

ساکھ کے بحران کا شکار نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کردہ کمیشن پچھلے آٹھ برس کی طرح سال 2020 میں بھی کوئی کارکردگی دکھانے میں بری طرح ناکام رہا لیکن پھر بھی وزیراعظم عمران خان نے اسے تین سال کی توسیع دے دی۔
یاد رہے کہ لاپتہ افراد کمیشن پچھلے نو برسوں سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر قیادت کام کر رہا ہے لیکن عملی طور پر خود لاپتہ ہے۔ ماضی کی طرح سال 2020 میں بھی پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں لوگوں کے لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران پچاس مزید افراد غائب کردیئے گئے جن میں سے گیارہ کو بازیاب کروا لیا گیا جبکہ تین کو ماروائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ تاہم اس دوران جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم لاپتہ افراد کمیشن مکمل طور پر لاپتہ رہا۔ لہذا جب ستمبر 2020 میں اسکی تین سالہ مدت معیاد ختم ہوئی تو انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ یا آئی سی جے نے لاپتہ افراد کمیشن کی بد ترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس کی مدت میں توسیع نہ کرنے کی سفارش کی۔ تاہم چونکہ وزیراعظم عمران خان جسٹس جاوید اقبال کی بطور چیئرمین نیب کارکردگی سے بہت خوش تھے لہٰذا انہوں نے لاپتہ افراد کمیشن کی مدت میں تین سال کی توسیع دے دی۔ یوں اب جسٹس جاوید اقبال 2023 تک اس کمیشن کی سربراہی کے مزے لوٹیں گے۔
تاہم جسٹس جاوید اقبال اس کے بعد بھی لاپتہ رہے۔ اب سال 2020 کے اختتام پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز بلند کرنے آمنہ جنجوعہ کے ادارے ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے جبری لاپتہ افراد کے حوالے سے رپورٹ کا اجراء کیا ہے جسکے مطابق اس ادارے نے سال 2020 میں جبری گمشدگی کے 56 کیسز رجسٹرد کئے۔ ان میں سے 11 افراد بازیاب ہوئے جبکہ تین لاپتہ افراد کو ماورائے آئین قتل کر دیا گیا، اور باقی 42 اب بھی زیر حراست ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں جبری گمشدگی کے 56 کیس درج کئے گئے جن میں پنجاب سے 19، کے پی سے 27 ، سندھ سے 4، بلوچستان سے 2، آزاد کشمیر سے 2 جبکہ وزیرستان اور اسلام آباد سے ایک ایک کیس شامل ہے، سارے کیسز لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم کمیشن کو بھجوائے گئے، کمیشن کی چیئرپرسن ڈی ایچ آر آمنہ مسعود جنجوعہ کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں 11 لاپتہ افراد رہا ہوئے جن میں فضل شہزاد ، احمد مصطفی کانجو ، عمر بٹ ، محمد فیضان ، محمد طلحہ سمیت دیگر شامل ہیں، بازیاب ہونیوالوں میں صحافی مطیع اللہ جان ، ساجد گوندل اور وکیل کرنل انعام الرحیم شامل ہیں، ان تمام افراد کی رہائی کیلئے ملکی عدالتوں میں کیس دائر کئے گئے، ایک کیس میں ہائیکورٹ کے جج نے نوجوان لڑکے اسامہ کو فوری پیش کرنے کا حکم دیا۔ لیکن اداروں کی جانب سے اسکے پولیس مقابلے میں مارے جانے کی کہانی سنا دی گئی۔
ان حالات میں انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر لاپتہ افراد کمیشن نے کوئی کام ہی نہیں کرنا تو پھر اس کے قیام کا مقصد کیا ہے۔ آئی سی جے نے کہا کہ لاپتہ افراد کمیشن نہ تو جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کو بازیاب کروا پایا ہے اور نہ ہی اغوا کاروں کا پتہ لگا پایا ہے۔ یاد ریے کہ جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کو انکوائری ایکٹ 1956 کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ بعدازاں سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کے دور میں اس میں ترمیم کر کے اس کو کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کا نام دیا گیا تھا۔
لیکن انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ نے پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے کمیشن کی تشکیل اور کارکردگی پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ جنیوا میں قائم انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ دنیا کے متعدد ممالک کے نامور ماہرین قانون پر مشتمل ہوتا ہے، اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کمیشن کے سربراہ کی تعیناتی کے حوالے سے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ کسی طور پر بھی بین الاقوامی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جس ایکٹ کے تحت یہ کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اس میں یہ واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ کمیشن نیک نیتی سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرتا ہے اس لیے وفاقی حکومت یا کمیشن کے خلاف عدالتوں میں درخواستیں دائر نہیں کی جاسکتیں۔ آئی سی جے نے اپنی رپورٹ میں ایڈ آف سول پاور کے قانون کو انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے وزیر اعظم کسی شخص یا ادارے کو لامحدود اختیارات دے دیتے ہیں اور وہ ادارہ یا شخص کسی بھی فرد کو جتنا عرصہ چاہے اپنی حراست میں رکھ سکتا ہے۔
پاکستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن کے کام کے بارے میں آئی سی جے نے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی خفیہ ادارے کی تحویل میں ہے تو اسے جبری طور پر لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔ آئی سی جے نے اپنی رپورٹ میں ان 213 افراد کا بھی ذکر کیا ہے جنہیں مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور پھر اس عرصے کے دوران ان کی اموات ہوگئیں اور کمیشن نے ان جبری گمشدگیوں کے بارے میں فائلیں بند کردیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے حالات میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے بنیادی حقوق کی بھی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
آئی سی جے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا معاملہ 1970 سے چلا آرہا ہے تاہم ان واقعات میں تیزی اس وقت آئی جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ کا اتحادی بنا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گمشدگیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے نے گذشتہ برس پاکستان کا دورہ کیا اور اُنھوں نے ایسے واقعات کے بارے میں کہا ہے کہ ’پاکستان میں 1980 سے لیکر 2019 تک 1144 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔‘ لیخن پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں بڑھ کر ہے جس کا ذکر اقوام متحدہ کے جبری طور پر لاپتہ افراد کے کنونشن کے ارکان نے پاکستان کے دورے کے بعد کیا ہے۔
ان تنظیموں کے مطابق اب بھی یہ تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے جبکہ اس کمیشن کے مطابق ان کے پاس 6 ہزار سے زیادہ ایسی درخواستیں زیر سماعت ہیں جو کہ جبری طور پر گمشدگی سے متعلق ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال گذشتہ 9 سال سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کمیشن کے سربراہ ہیں اور ان کی زیر نگرانی کام کرنے والے اس کمیشن کی کارکردگی کے بارے میں پاکستان میں بھی کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سوالات اُٹھائے ہیں۔ جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن میں جب کسی شخص کی جبری گمشدگی کے بارے میں رپورٹ دی جاتی ہے تو اس شخص کے اہلخانہ کو ایک فارم دیا جاتا ہے جس میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ شخص اپنی مرضی سے کہیں گیا ہے اور کیا اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور وہ پولیس کی تحویل میں تو نہیں، پھر اس کے بعد اس کی جبری گمشدگی کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔
اگر جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثا یہ کہیں کہ ان کے پیاروں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے تو اس کی تحققیات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جس میں انٹر سروسز انٹیلیجنس ،ملٹری انٹیلیجنس کے علاوہ سویلین ادارے انٹیلیجنس بیورو اور متعقلہ ضلعے کا ایس پی رینک کا افسر شامل ہوتا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ کمیشن کے حوالے کی جاتی ہے جس کی روشنی میں کمیشن فیصلہ کرتا ہے۔ جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے گئے کمیشن میں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کسی شخص کو زبردستی اٹھایا گیا ہے اور وہ کسی ریاستی ادارے کے پاس ہے تو کمیشن اس ادارے کو حکم دیتا ہے کہ اس شخص کو کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے۔
جبری طور پر لاپتہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق اس کمیشن کی طرف سے جاری کیے جانے والے پروڈکشن آرڈر کو کوئی ریاستی ادارہ جو کہ مبینہ طور پر ایسے واقعات میں ملوث ہوتا ہے، ’سنجیدگی سے نہیں لیتا‘۔
اُنھوں نے بتایا کہ اس کمیشن کے رجسٹرار نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا تھا کہ کمیشن کی طرف سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ایسے 70 افراد کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے تھے اور اُنھیں کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا کہا گیا تھا لیکن ان پر کسی ادارے نے عمل درآمد نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی مدت ملازمت کے آخری دن 35 افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا اور چیف جسٹس شام تک عدالت میں بیٹھے رہے لیکن ’آج تک اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کروایا جاسکا جبکہ اس کے بعد پانچ سے زیادہ چیف جسٹس صاحبان اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں۔‘ یاد رہے کہ کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم خود بھی کچھ عرصہ خفیہ اداروں کی تحویل میں رہے ہیں لیکن اس دوران بھی جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی زیر قیادت لاپتہ افراد کمیشن لاپتہ ہی رہا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button