پاسپورٹ منسوخی کے بعد نواز شریف کے پاس کیا آپشنز ہوں گے؟


عمران خان حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا پاسپورٹ 16 فروری 2021 کو منسوخ کرنے اور انہیں نیا پاسپورٹ جاری نہ کرنے کے اعلان کے باوجود برطانیہ میں امیگریشن قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نون لیگ کے قائد کے لئے کوئی مشکل نہیں ہوگی اور وہ بدستور برطانیہ میں قانونی طور پر قیام کر سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق جب تک نواز شریف کے پاس برطانوی ویزہ ہے اور وہ کسی اور ملک کا سفر نہیں کرنا چاہتے، انھیں پاکستانی پاسپورٹ کی ضرورت ہی نہیں۔ ہے۔ لہذا حکومت پاکستان کی جانب سے 16 فروری کے بعد میاں صاحب کا پاسپورٹ منسوخ کرنے اور نیا پوسپورٹ جاری نہ کرنے کے اعلان سے نواز شریف کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یاد ریے کہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے 30 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ 16 فروری 2021 کو سابق وزیراعظم نواز شریف کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔ شیخ رشید کے بیان کے بعد مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے ٹویٹ کی تھی کہ ’نواز شریف کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہوگئی تو اُن کا برطانیہ میں رہنا غیر قانونی ہو جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ ’پاسپورٹ زائد المیعاد ہونے پر نواز شریف پاکستان آکر سفری دستاویز مانگیں گے تو انہیں بہادری دکھانے کا موقع ملے گا۔ اسلیے نوازشریف کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ پاکستان آکر مقدمات کا سامنے کریں۔‘
اس معاملے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت پاسپورٹ منسوخ کرکے نواز شریف کو بے وطن کرنے کا سوچ رہی ہے حالانکہ اس کے لیے شناختی کارڈ منسوخ کرنا ہوتا ہے جو کہ قانونی طور پر ممکن نہیں ہوگا اور عدالتیں ایسے کسی بھی فیصلے کے خلاف فیصلہ دے سکتی ہیں۔ لیکن اگر پھر بھی حکومت ایسا کر دے تو بھی اقوام متحدہ کے کنونشنز کے تحت نواز شریف کو برطانیہ میں قانونی تحفظ مل جائے گا کیونکہ برطانیہ اقوام متحدہ کے کنونشنز پر ان کی حقیقی روح کے مطابق عمل کرتا ہے۔
اس حوالے سے سینئر قانون دان سہیل بابر نے بتایا کہ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ نواز شریف کا پاسپورٹ منسوخ کرنا قانونی طور پر حکومت کے لیے ممکن نہیں ہوگا بلکہ حکومت کے لیے یہ عمل نقصان دہ ہوگا۔ ’ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ حکومت ان کا پاسپورٹ زائد المیعاد ہونے پر نیا پاسپورٹ جاری نہ کرے۔ لیکن نیا پاسپورٹ جاری نہ کرنا بھی حکومت پاکستان کے خلاف ہی جائے گا کیونکہ پاکستانی حکومت نے برطانیہ کو نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست دے رکھی ہے اور برطانوی امیگریشن قانون کے مطابق ایسی کسی درخواست پر وہ متعلقہ فرد کو اس وقت تک ڈی پورٹ نہیں کرتے جب تک اس کے پاس قابل استعمال سفری دستاویز یعنی پاسپورٹ نہ ہو۔
برطانیہ کے امیگریشن قوانین کے مطابق اپنا پاسپورٹ زائد المیعاد ہونے کے بعد بھی جب تک نواز شریف کے پاس برطانیہ کا ویزہ موجود ہے ان کا قیام قانونی ہے۔ ان کامکہنا یے کہ حکومت پاکستان کو یہ پتا چلانا چاہیے کہ کہیں نواز شریف کے پاس آئی ایل آر  (Indefinite Leave to Remain) تو نہیں ہے۔‘ ’آئی ایل آر کا مطلب ہے کہ نواز شریف بغیر ویزہ کے دس سال تک برطانیہ میں قیام کر سکتے ہیں اور دس سال بعد اس میں توسیع بھی کروا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر ان کے ویزہ ختم بھی ہو جائے تو برطانوی حکومت چاہے تو کرونا وبا کو بنیاد بنا کر اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے چھ سے بارہ ماہ کا ویزہ جاری کر سکتی ہے لیکن یہ ایک دفعہ ہی ممکن ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کسی بھی سزا یافتہ شخص کو سیاسی پناہ نہیں دی جاتی اس لیے سیاسی پناہ کی درخواست فائل کرنا نواز شریف کے لیے مشکل ہوگا۔ برطانوی قانون کے مطابق اگر میاں صاحب سیاسی پناہ کے لیے درخواست دیتے ہیں تو انھیں ایک انٹرویو دینا ہوگا جس میں انھیں برطانوی محکمہ داخلہ کو مطمئن کرنا ہوگا۔ اگر محکمہ داخلہ مطمئن نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں نواز شریف کو حراستی مرکز میں رہنا پڑے گا جہاں سے وہ ضمانت کے لیے درخواست کے ساتھ ساتھ اپیل بھی کر سکتے ہیں۔ اس لیے میاں صاحب کی جانب سے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ برطانیہ کی حکومت اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے میاں صاحب کو سیاسی پناہ دے دے۔
 سینیئر قانون دان محمد سہیل بابر کہتے ہیں کہ برطانوی حکومت کی جانب سے خود کسی کو سیاسی پناہ دیے جانے کا اقدام مخصوص حالات میں امیگریشن قوانین سے باہر نکل کر اٹھایا جاتا ہے اور میرے علم میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جب حکومت برطانیہ کی جانب سے خود سیاسی بنا دی گئی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر برطانوی حکومت نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کر بھی لے جسکا۔کوئی امکان نہیں، تب بھی نواز شریف کے پاس دو عدالتوں میں اپیل کا آپشن موجود ہے اور اس عمل میں اتنا وقت لگ سکتا ہے کہ موجودہ حکومت ہی ختم ہو جائے اور نئی حکومت ان کو پاسپورٹ جاری کر دے جس پر وہ آسانی کے ساتھ ویزہ لگوا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button