جنرل باجوہ کے بغیر عدم اعتماد کی کامیابی ممکن نہیں تھی

معروف تجزیہ نگار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ مونس الہٰی کے دعوے کے باوجود عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جنرل باجوہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے اور بعد میں نیوٹرل نہ ہوتے تو پی ڈی ایم ان کی حکومت گرانے میں کبھی کامیاب نہ ہو پاتی، نیا دور کے ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ عمران خان کو یقین ہے کہ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کبھی نہ آتی اگر باجوہ صاحب کی طرف سے اپوزیشن کو اشارہ نہ ہوتا کہ ہم اس میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نئی حکومت آنے کے بعد جنرل باجوہ نے نیا الیکشن کرانے کی بھرپور کوشش کی جس کا فائدہ بالآخر عمران خان کو ہونا تھا۔ اسی لیے عمران نے بھی جاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کر دی تا کہ نیا الیکشن ہو جائے لیکن پی ڈی ایم ڈٹ گئی اور فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی بحال کروا کر اقتدار میں بیٹھنا ہے، پی ڈی ایم کی قیادت میں یہ فیصلہ بھی کر لیا تھا کہ ڈبل گیم کھیلنے والے جنرل باجوہ کو اب مزید ایکسٹینشن نہیں دینی اور اگلا الیکشن بھی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے پر ہی کروانا ہے۔
مونس الہٰی کے دعوے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ جنرل باجوہ نے انہیں براہ راست عمران خان کی حمایت کرنے کا نہیں کہا تھا۔ مونس الہٰی کا یہ دعویٰ غلط ہے، جنرل باجوہ نے پرویز الہٰی سے یہ کہا تھا کہ آپ کے مفاد میں جو فیصلہ ہے آپ وہ کریں۔ انہوں نے براہ راست اس لیے ’’خچھ‘‘ نہیں کہا تھا کیونکہ کور کمانڈرز کانفرنس میں یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اب فوج کو سیاست سے باہر نکلنا ہے۔
اسی لیے بات دوسری فون کال تک گئی جو پرویز الہیٰ نے کی نہیں تھی بلکہ انہیں جنرل فیض کے ایک قریبی جرنیل کا فون گیا جنہوں نے کہا کہ آپ عمران کا ساتھ دیں کیونکہ مجھے اوپر سے یہی کہا گیا ہے۔ نجم سیٹھی کے بقول، چونکہ جنرل باجوہ یا جنرل فیض ڈائریکٹ یہ بات نہیں کر سکتے تھے لہٰذا ایک تیسرا شخص استعمال کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ پرویز الہٰی کو عمران خان کے ساتھ جانے کا جو مشورہ ملا اس میں جنرل باجوہ سے زیادہ جنرل فیض کا عمل دخل تھا۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ جنرل قمر باجوہ اور عمران خان کے ساتھیوں کی آخری وقت تک کوشش رہی کہ ساحر شمشاد یا اظہر عباس کو نیا آرمی چیف بنا دیا جائے اور عاصم منیر کو عہدہ دینا ہی ہے تو چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنا دیا جائے۔ اس دباؤ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ حکومت جنرل باجوہ کو ایک اور توسیع دینے پر غور کرے۔ پھر ایوان صدر میں میں ایک خفیہ ملاقات کے بعد عمران خان نے بھی باجوہ کو توسیع دینے کی تجویز دے دی تاہم اتحادی حکومت نے ان تمام سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا، یوں عمران خان، جنرل باجوہ اور فیض حمید تینوں ناکام ہوئے اور جنرل فیض کو استعفیٰ دے کر وقت سے پہلے گھر جانا پڑ گیا۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ اس وقت باجوہ صاحب کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ان پر زبانی حملے نہ ہوں۔ وہ سیاسی طور پر ہی نہیں بلکہ اور طرح سے بھی ایکسپوژ ہو گئے ہیں، وہ اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہیں۔ اب باجوہ صاحب کی جانب سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ میں تو آخر وقت تک پی ٹی آئی کی سائیڈ پر رہا ہوں، مونس الہٰی کا بیان بھی اسی تناظر میں آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آخری وقت میں پی ڈی ایم کی بجائے عمران خان کا ساتھ دینے کا مشورہ انہیں جنرل باجوہ نے دیا تھا۔
اسی لیے مونس نے خود انٹرویو دیا ہے تاکہ جنرل باجوہ کو فیس سیونگ دی جا سکے۔ نئی اسٹیبلشمنٹ نے بھی باجوہ صاحب کو جاتے ہوئے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم آپ کی حفاظت کریں گے اور نون لیگ بھی باجوہ صاحب پر اٹیک نہ کرنے پر رضامند ہو چکی ہے، جنرل باجوہ کو اس وقت سب سے زیادہ خطرہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ اور جذباتی عمرانڈوز کی جانب سے ہے، ان کو پی ڈی ایم یا ن لیگ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ جنرل فیض حمید کے جانے کے فوری بعد تحریک طالبان پاکستان نے نہ صرف خیبر پختونخوا اور فاٹا کے مختلف علاقوں کا دوبارہ رخ کر لیا ہے بلکہ اب تو سیزفائر ختم کرنے کے بعد سکیورٹی فورسز پر حملوں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یعنی جیسے ہی جنرل فیض گئے، طالبان اپنی پرانی پوزیشن پر واپس آ گئے، پتہ نہیں فیض حمید نے طالبان سے کون سے وعدے کیے تھے مگر جو بھی وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ اب نئے آرمی جنرل عاصم منیر خود اس معاملے کو دیکھیں گے اور امکان یہی ہے کہ مذاکراتی عمل کی بجائے طالبان کے حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا کیونکہ یہ ایشو اب صرف ہمارا اندرونی معاملہ نہیں رہا بلکہ پاکستان کے افغانستان، بھارت اور امریکہ کے ساتھ تعلقات سے بھی جڑ چکا ہے۔
