جنسی جنونی جسٹس جاوید اقبال کے برے دن شروع ہو گئے

عمران خان کے دور میں پکے حکومتی ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے 77 سالہ جنسی بھیڑئیے جسٹس جاوید اقبال کے برے دن شروع ہو چکے ہیں۔ جنسی درندے ہراسگی کا نشانہ بننے والی طیبہ گل نے ادارہ محتسب برائے خواتین کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے۔خیال رہے کہ طیبہ گل نے 2022 میں سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال اور دیگر کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔طیبہ گل کو ہراساں کرنے، زیادتی کا نشانہ بنانے اور حبس بیجا میں رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت ایک سال سے زائد عرصے بعد چیئر پرسن ادارہ محتسب برائے تحفظ خواتین فوزیہ وقار نے کی۔
درخواست گزار طیبہ گل نے اپنے بیان میں بتایا کہ جاوید اقبال نے درخواست سننے کے لیے غیراخلاقی حرکات کرنے کا کہا، جاوید اقبال نے بلیک میل کیا، غیر اخلاقی حرکات نہ کرنے پر کیس نہ سننے کی دھمکی دی جبکہ شہزادسلیم نے جاوید اقبال کے کہنے پر مجھ پر جھوٹا مقدمہ بنایا اور مجھے گرفتار کیا۔انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر وغیرہ نے گرفتار کیا اور لاہور لے کر گئے جہاں ہراساں کیا گیا، عمران ڈوگر نے دیگر نیب افسران کے ساتھ مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بھی بنائی۔
طیبہ گل کا کہنا تھا میرے شوہر کو خاموش رہنےکا کہا گیا ورنہ ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دی گئی، جاوید اقبال، شہزاد سلیم، عمران ڈوگر اور دیگر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔طیبہ گل نے اپنا بیان ادارہ محتسب اسلام آباد برائے خواتین میں قلمبند کرایا جس پر ادارہ محتسب برائے خواتین نے طیبہ گل کی جانب سے لگائے گئے الزامات ریکارڈ کر لیے اور سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال سمیت 12 افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ادارہ محتسب برائے خواتین کی جانب سے سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم اور نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خاتون کے الزامات پر اپنا جواب ریکارڈ کرائیں۔
خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پر الزام ہے کہ وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نیب اور لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کمیشن میں ان کے پاس آنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ طیبہ گل کے علاوہ ڈیفنس فار ہیومن رائٹس سے منسلک آمنہ مسعود جنجوعہ نے بھی انکشاف کیا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے لاپتہ افراد کے کمیشن میں آنے والی ایک خاتون سے کہا تھا کہ ’تم اتنی خوبصورت ہو، تمہیں شوہر کو تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘ اس سے پہلے طیبہ گل نے الزام عائد کیا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بطور نیب چیئرمین انہیں ہراساں کیا اور ان کے خلاف کیسز درج کروائے تاکہ وہ ان کے شیطانی مطالبات پورے کریں۔
یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے اپنے دور اقتدار میں طیبہ گل اور انکے شوہر کو گرفتار کروا دیا تھا اور دونوں پر فراڈ کا ریفرنس دائر کیا تھا جو بعد میں جھوٹا ثابت ہوا اور دونوں میاں بیوی کو رہائی مل گئی۔ اس دوران پہلے جسٹس جاوید اقبال کی طیبہ گل کے ساتھ قابل اعتراض گفتگو کی آڈیو سامنے آئی اور پھر ایک ویڈیو بھی سامنے آگئی جس میں وہ خاتون کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
واضح رہے گذشتہ برس طیبہ گل اور جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ایک آڈیو ریکارڈنگ منظرعام پر آئی تھی جس میں سابق نیب چیئرمین کو طیبہ سے نازیبا گفتگو کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ جاوید اقبال طیبہ گل کو کہہ رہے تھے کہ مجھے موقع ملے تو میں تمہیں سر سے پاؤں تک چوموں گا۔ پھر انہوں نے خاتون کو بتایا کہ میں نے ایک ریسٹ ہاؤس میں باتھ روم تیار کروا لیا ہے جہاں بیڈ کے علاوہ گرم پانی اور تولیے کا بندوبست بھی ہو گیا ہے۔ اس کے بعد جاوید اقبال کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں وہ اپنے دفتر میں طیبہ گل کو گلے لگا رہے ہیں۔
بعد ازاں سینئر صحافی سلیم صافی کے ساتھ ایک انٹرویو میں طیبہ گل نے انکشاف کیا تھا کہ یہ آڈیوز اور ویڈیوز انہوں نے سابق وزیر اعظم کے سیکرٹری اعظم خان کے حوالے کی تھیں تا کہ وہ جاوید اقبال کی بلیک میلنگ سے بچ سکیں لیکن وزیر اعظم کے حکم پر جاوید اقبال کو دباؤ میں لانے کے لیے ان آڈیوز اور ویڈیوز کو مارکیٹ کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے اعتماد کا خون کیا گیا اور عمران خان نے جسٹس جاوید اقبال کو نیچے لگانے کے لئے میرے فراہم کردہ خفیہ مواد کو استعمال کیا گیا۔ طیبہ گل کی طرف سے سابق چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اور ڈی جی نیب سلیم شہزاد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم اب لگتا ہے کہ جنسی درندے کے حساب کتاب کا وقت آ چکا ہے۔
