جنک فوڈ نوجوانوں کی نیند اُڑانے کا سبب بن رہا ہے

کثرت سے جنک فوڈ کھانے والے نوجوانوں کی نیند بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ یونیورسٹی آف کوینز لینڈ میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جنک فوڈ کی کثرت بالغ افراد میں نیند کے حوالے سے پائی جانے والی کئی شکایات کے اسباب میں شامل ہے۔کوینز لینڈ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اسد خان کا کہنا ہے کہ غیر صحت مندانہ غذائی عادات اور ذہنی تناؤ کے باعث نیند میں خلل کے مابین تعلق معلوم کرنے کےلیے عالمی سطح پر ہونے والی یہ پہلی تحقیق ہے جس میں 64 ممالک کے ہائی اسکول کے طلبہ شریک ہوئے۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو نوجوان افراد سافٹ ڈرنکس کا استعمال بہت زیادہ کرتے ہیں ان میں بے خوابی سے متعلقہ مسائل کی شرح بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یومیہ تین سافٹ ڈرنکس پینے والے نوجوانوں میں نیند میں بے سکونی کی 55 فی صد زائد شکایات پائی گئیں۔
اسی طرح ایسے مرد جو ہفتے میں چار دن سے زائد فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں ان میں نیند کے دوران بے سکونی اور خلل کی شکایت ہونے کی شرح ہفتے میں ایک دن فاسٹ فوڈ کھانے والوں کے مقابلے میں 55 فیصد زائد ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اسد خان کا کہنا ہے کہ کم آمدن والے ممالک کے نوجوانون یا ٹین ایجرز میں نیند سے متعلق شکایات کا تعلق جنک فوڈ کے استعمال سے متعلق ہے۔ اس میں ہفتے کے سات میں پانچ دن فاسٹ فوڈ کھانے والے نوجوانوں میں بے خوابی وغیرہ جیسی شکایات عام ہیں۔ اسی طرح زائد آمدن والے ممالک میں جنک فوڈ باعث نیند سے متعلقہ شکایات کی شرح اور بھی زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیند میں بے سکونی کے باعث بلوغت کی عمر میں دماغی صلاحتیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس لیے غیر صحت مندانہ عادات پر قابو پانے کےلیے ترجیحی بنیادوں پر پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button