حافظ سعید کے بعد ذکی لکھوی بھی FATF کی زد میں آ کر گرفتار

لشکر طیبہ کے بانی امیر اور جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی گرفتاری کے بعد اب حکومت پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرتے ہوئے لشکر طیبہ کے چیف آپریشنل کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی کو بھی گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ بمبئی میں 2018 میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حافظ سعید کی طرح ذکی لکھوی کو بھی لمبی قید کی سزا دی جانے والی ہے تاکہ پاکستان کو بلیک لسٹ ہونے سے بچایا جا سکے۔

معلوم ہوا ہے کہ ذکی لکھوی کو محکمہ انسداد دہشت گردی پنجاب کے ایک خصوصی دستے نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر لاہور سے گرفتارکیا۔ ان کے خلاف سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن لاہور میں مقدمہ درج ہے جس میں ان پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذریعے ایک ڈسپنسری چلانے کا الزام ہے۔
کخس کے مطابق انہوں نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس ڈسپنسری سے رقوم اکٹھی کیں اور ان رقوم کو مزید دہشت گردی کی مالی اعانت کے لیے استعمال کیا۔ ان فنڈز کو انہوں نے ذاتی اخراجات کے لیے بھی استعمال کیا۔ دہشت گردی کی دفعات کے تحت اس مقدمہ کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے سامنے ہوگی۔
کالعدم لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے کے علاوہ وہ اقوام متحدہ کے نامزد کردہ دہشت گرد بھی ہیں جنہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے بعد اڈیالہ جیل میں قید کے دوران ہی باپ بھی بن گے تھے۔ اس سلسلے میں جیل حکام نے انہیں خصوصی سہولت فراہم کی تھی اور ان کی اہلیہ ان سے جیل میں آ کر ملاقات کرتی تھی۔

یاد رہے کہ لشکر طیبہ دراصل جماعت الدعوہ کی عسکری تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزادی دلانا یے۔ تاہم لشکر طیبہ اور جماعت الدعوۃ دونوں پر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے خون آشام حملوں کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ بھارت نے بمبئی حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ہوئے کہا تھا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے حافظ محمد سعید اور اور کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی کی تنظیموں کو استعمال کیا گیا اور لشکر طیبہ کے 11 جہادیوں کو کراچی سے براستہ سمندر ممبئی روانہ کیا گیا جہاں پہنچ کر انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو گولیوں سے بھون دیا تھا۔

یاد ریے کہ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے مرکزی رہنما ذکی الرحمان لکھوی پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 1960میں پیدا پہوئے۔ ابتدائی مذہبی تعلیم بھی وہیں مدرسہ سے حاصل کی اس کے بعد وہ لاہور آگئے۔
ذکی الرحمان لکھوی کو کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جہاد میں بھی حافظ سعید کے ہمراہ حصہ لیا تھا۔ 2008 میں بمبئی میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آنے کے بعد حافظ سعید اور ذکی لکھوی دونوں کو ساتھیوں سمیت نظر بند بھی رکھا گیا تھا جس کے بعد ذکی الرحمان کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ ان دونوں نے اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست ضمانت دائر کی جس پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے دسمبر 2014 میں ان کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دیا تھا۔
سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ سی آئی ڈی افسران کے بیانات میں تضاد ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ممبئی حملوں کے دوران ذکی الرحمان لکھوی کی ٹیلی فونک آواز کو بھی شناخت نہیں کیا گیا، لیکن یہ الزام عائد کر دیا گیا کہ ذکی لکھوی بمبئی میں موجود دہشت گردوں کو فون پر ہدایات دے رہا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ممبئی حملوں کے الزم میں ملزمان 6 سال سے جیل میں ہیں جو غلط ہے کیوں کہ پروسیکویشن کی غلطی کی سزا ملزم کو نہیں دی جاسکتی۔
اس سے قبل راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت  نے ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی ضمانت منظور کرلی تھی تاہم بعد میں حکومت نے انہیں 16 ایم پی او کے تحت نظر بند کردیا۔

ذکی لکھوی کی ضمانت کے معاملہ پر بھارت کا سخت ردِعمل سامنے آیا تھا اور بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستانی حکومت سےان کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کیاگیاتھا۔ رہائی کے بعد ذکی الرحمان لکھوی کو ایک مرتبہ پھر گھر میں ہی نظربند کر دیا گیا تھا جس کے خلاف انہوں نے 2015 میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیاتھا۔ ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ ذکی الرحمان لکھوی کی نظر بندی کے بارے میں تمام ریکارڈ اور حساس معلومات پیش کی جائیں۔ ذکی الرحمان لکھوی نے درخواست میں اپنی نظری بندی کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ ریویو بورڈ کے احکامات کے بغیر کسی شہری کی چوتھی بار نظر بندی کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔لکھوی کے وکیل نے بتایا کہ اُن کے موکل کی چوتھی بار نظر بندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ریویو بورڈ سے بھی کوئی اجازت نہیں لی گئی ہے جس پر عدالت نے ان کی نظر بندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم اب پانچ برس بعد اچانک دوبارہ سے لکھوی کی گرفتاری معنی خیز ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی حکام نے انہیں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے گرفتار کیا ہے۔ یاد رہے کے ایف اے ٹی ایف کی عائد کردہ شرائط کے مطابق پاکستان میں آزاد گھومنے والے تمام مطلوب جہادی دہشت گردوں کو عدالتی ٹرائل کے ذریعے انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ورنہ پاکستان گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں چلا جائے گا۔ چنانچہ پہلے مرحلے میں جماعت الدعوہ کے امیر حافظ محمد سعید اور ان کے دیگر سینئر ساتھیوں کو گرفتار کرکے ان پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے کیسز چلایے جائے جارہے ہیں اور دو مقدمات میں 14 برس قید کی سزا ہونے کے بعد سے وہ جیل میں ہے۔

دوسری طرف دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ذکی الرحمان کی گرفتاری کو بلاجواز قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ ذکی الرحمان لکھوی کو بمبئی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پہلے بھی گرفتار کیا جاچکاہے لیکن شواہد نہ ملنے کی بنیاد پر وہ رہاہوگئے تھے۔ اب بھی انہیں بے بنیاد الزامات پر گرفتار کیاگیاہے کیونکہ یہ کارروائیاں حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطالبے پر کر رہی ہے۔ امجد شعیب نے الزام لگایاکہ ایف اے ٹی ایف عالمی قوت کا آلہ کار ادارہ ہے جو سیاسی بنیادوں پر پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں ڈالنے کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف بھارت کی شکایت پر پاکستان کو دبا کر رکھنا چاہتاہے کیوں کہ بغیر ثبوت اس طرح کے لوگوں کے خلاف کارروائیاں زیادتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘امریکہ نے دہشت گرد حملوں کے بعد مطلوب افراد کے خلاف ثبوتوں پر ایک کروڑ ڈالر انعام رکھاتھا لیکن ابھی تک ثبوت نہیں مل سکے۔ اگر ایف اے ٹی ایف غیر جانبدار اور غیر سیاسی فورم ہے تو بھارت کے خلاف بے شمار ثبوت ہونے کے باوجود کارروائی کیوں نہیں کرتا؟ بمبئی حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا، پٹھان کوٹ واقعہ کو پاکستان کی بدنامی کے لیے استعمال کرنا ثابت ہوگیا تو ان کا نام کیوں گرے یا بلیک لسٹ میں نہیں ڈالاگیا؟’

تاہم پاکستانی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ حافظ سعید اور ذکی لکھوی جیسے دہشت گردوں کا محاسبہ پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں بہت ضروری ہے اور یہ کہ پاکستان کی سالمیت سے بڑھ کچھ بھی مقدم نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button