حبیب بینک کی شرعی مشین کا ڈھکوسلہ دراصل ہے کیا؟

حبیب بینک کی جانب سے حال کی میں متعارف کروائی گئی شریعہ سیل مشین نے سوشل میڈیا پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، بینک کی جانب سے اخبارات میں ایک اشتہار دیا گیا ہے جس میں اسکی نئی پروڈکٹس میں ایک ’’شریعہ کمپلائنٹ پوائنٹ آف سیل مشین‘‘ یعنی شریعت سے مطابقت رکھنے والی مشین کا ذکر بھی کیا گیا۔ تاہم بینک کے اس اشتہار بارے لوگوں نے سوشل میڈیا پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ بڑا سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ بھلا ایک مشین شریعہ کے مطابق کیسے ہو سکتی ہے ؟ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ پیسے لینے کا سادہ عمل شرعی یا غیر شرعی کیسے ہو سکتا ہے؟ انتظامی سوالات کے علاوہ ایک موضوع جس کے تناظر میں حبیب بینک پر کافی تنقید کی گئی وہ مذہب کے استعمال کے حوالے سے تھا۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے۔مطابق سوشل میڈیا صارفین نے اشتہار پر تنقید کرتے ہوئے اسے حبیب بینک کی جانب سے اپنی تشہیر کے لیے ’مذہب کا استعمال‘ قرار دیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھائے کہ ایک مشین جو کہ ایک آلہ ہے، شریعت کے مطابق کیسے ہو سکتی ہے؟ لہازا بیشتر لوگوں نے بینکنگ اس اشتہار کو سنجیدگی سے نہیں پرکھا۔
برو اِن فنٹیک‘ نامی صارف نے قدرے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اس شرعی مشین میں کیا بسم اللہ پڑھ کر ٹرانزیکشن کرتے ہیں؟ ایک صارف نے یہ سوال کیا کہ کیا مشین سے ملنے والی رسید پر ’حدیث چھپی ہوتی ہے؟ مگر سبھی لوگ اس کاوش کا مذاق نہیں اڑا رہے، کچھ لوگوں نے اس کی تعریف بھی کی اور کہا کہ انھیں یہ آئیڈیا پسند آیا۔
حسیب شاہ نامی صارف نے کہا کہ عام پوائنٹ آف سیلز کے مقابلے میں حبیب بینک کی مشین میں تین چار ممکنہ بہتر عناصر ہو سکتے ہیں جیسے کہ دکاندار کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ روایتی بینک اکاؤنٹ کھولیں اور ان کا اکاؤنٹ اسلامی بینکنگ کے مطابق ہوگا۔ دوئم یہ کہ حبیب بینک کا پوائنٹ آف سیلز سینما یا نیٹ فلیکس قسم کی ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال نہیں ہو سکے گا۔ تاہم ایک صارف بیرسٹر سلیم نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ڈیبٹ کارڈز پر چلتی ہو، کریڈٹ کارڈ پر نہیں جن میں کہ سود کا عنصر ہو سکتا ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے حبیب بینک کے کارپوریٹ افیئرز کے سربراہ فرحان احمد نے کہا کہ ہم اسے پاکستان کی پہلی شریعہ کمپلائنٹ پوائنٹ آف سیل میشن اس لیے کہہ رہے ہیں کہ مشین لگوانے کا جو بینک اور دکاندار کے درمیان معاہدہ ہوگا وہ شرعی اصولوں کے مطابق ہوگا۔ اس سوال کے جواب میں کہ ایک عام معاہدے اور شرعی اصولوں کے مطابق بینک اور دکاندار کے معاہدے میں کیا فرق ہے تو فرحان احمد کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس مشین سے وابستہ جو اکاؤنٹ ہوگا جس میں پیسے جائیں گے وہ اسلامک بینک اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ حبیب بینک میں اسلامک بینکنگ کے سربراہ محمد آفاق خان نے کہا کہ دکاندار اور بینک کے درمیان جو معاہدہ کیا جاتا ہے اس کو مکمل طور پر شرعی اصولوں پر استوار کیا جاتا ہے مثال کے طور پر اس معاہدے سے سود کے لین دین کو نکال دیا جاتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ دیکھیں مشین شریعہ کمپلائنٹ نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ حبیب بینک اور دکاندار کے درمیان ہونے والے معاہدے کو شرعی اصولوں سے مکمل مطابقت میں لایا گیا ہے۔ اب یہ اشتہار تو نہیں بنایا جا سکتا کہ ہم نے دکانداروں کے لیے نیا شریعہ کمپلائنٹ معاہدہ تیار کر لیا ہے، اس لیے اشتہار میں عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے اسے شریعہ کمپلائنٹ پوائنٹ آف سیلز کہا گیا ہے۔ فرحان احمد کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ یہ مشین کسی ایسے کاروبار پر نہیں لگائی جا سکتی جو کہ شریعت کے مطابق نہ ہو مگر وہ کون سے کاروبار ہیں جنھیں حبیب بینک شریعت کے مطابق نہیں سمجھتا؟ ان کی مثال دیتے ہوئے فرحان احمد کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص آڈیو کیسٹس یا فلمیں بیچتا ہے تو ایسا دکاندار یہ مشین نہیں لگوا سکتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں لائسنس شدہ شراب خانے بھی ہیں جہاں یہ مشین نہیں لگوائی جا سکتی۔
اس سوال پر کہ کیا حبیب بینک کا اب یہ کام ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون سا کاروبار شرعی ہے اور کون سا نہیں ؟ فرحان احمد کا کہنا تھا کہ ہم یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ کون سا کاروبار شرعی ہے یا کون سا نہیں مگر ہم شرعی اصولوں کے مطابق ہر کاروبار کا جائزہ ضرور لیتے ہیں۔فرحان نے اس حوالے سے کہا کہ جو کاروبار پاکستان کے شرعی قوانین کے مطابق جائز ہیں ، ان کو بینک شرعی سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوئے خانے یا قحبہ خانوں پر یہ مشین نہیں لگوائی جا سکتی مگر چونکہ پاکستان میں یہ چیزیں ویسے ہی غیر قانونی ہیں، اس لیے پاکستان میں تو زیادہ تر قانونی کاروبار کو ویسے ہی شرعی تصور کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری یا لائسنس شدہ شراب خانوں کے علاوہ شاید ایسا کوئی بھی کاروبار نہ ہو جسے بینک غیر شرعی تصور کرے۔
فرحان نے کہا کہ اگر کسی کی کریانے کی دکان ہے اور وہاں پر فلمیں بیچی جا رہی ہیں، وہاں پر کھانے پینے کی اشیا یا ادویات کی ٹرانزیکشن اس مشین پر ہو سکے گی مگر اگر وہی دکان فلم بیچے گی تو وہ اس مشین سے پیسے نہیں لے سکیں گے تاہم بینک کے پاس اس بات کو یقینی بنانے کا کوئی نظام موجود ہے کہ اس مشین پر ہونے والی ٹرانزیکشن کن اشیا کی خرید و فروخت کی ہیں؟
