حکومت آئی ٹی انڈسٹری سے کیا کھلواڑ کرنے جا رہے ہے؟


انفارمیشن ٹیکنالوجی سے زرمبادلہ کمانے کے دعویدار وزیراعظم عمران کی حکومت آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لئے جو منی بجٹ پیش لا رہی ہے اس سے کمیپوٹر، لیپ ٹاپ اور موبائل فون کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو جائے گا جس سے دیگر ملکی شعبوں کی طرح ٹیکنالوجی کا شعبہ بھی زوال پذیر ہو جانے کا خدشہ ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حال ہی میں عمران خان نے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے بنائے گئے ٹیکنالوجی پارک کا بادلِ ناخواستہ افتتاح کیا لیکن اب وہ ٹیکنالوجی کی ترقی پر کاری وار کرنے جا رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آنے والے منی بجٹ میں لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز پر17 فیصد مزید ٹیکس عائد کیا جارہا ہے۔ سپلیمنٹری فنانس بل 2021 کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز مزید مہنگے ہوجائیں گے جس سے یہ آئٹمز طلبہ اور صارفین کی پہنچ سے دور ہو جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے ماضی میں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، نوٹ بک اور موبائل فونز کو سیلز ٹیکس سے مستثنا قراردیا گیا تھا تاکہ ان کی قیمتوں کو کم کیا جا سکے۔ تاہم اب ان تمام اشیا کو الیکٹرانکس کی فہرست میں ڈال کر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ جس کے بعد سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت کمپیوٹرز اور دیگر آئٹمز کو حاصل چھوٹ ختم کردی جائے گی۔ نویں شیڈول میں شامل کمپیوٹرز اور موبائل فون پر بھی سٹنڈرڈ سیلز ٹیکس نافذ ہوگا جس سے ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے طے کی گئی شرائط کے مطابق منی بجٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد جی ایس ٹی کا اسٹینڈرڈ ریٹ 17فیصد نافذ ہوگا۔ آئی ایم ایف کیساتھ طے شدہ شرائط کے تحت 350ارب روپے کے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کیلئے ٹیکس قوانین میں چوتھا ترمیمی بل اور ا سٹیٹ بنک کی خود مختاری سے متعلق ا سٹیٹ بنک ترمیمی بل 2021 منظوری کیلئے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیے جائیں گے۔
آئی ٹی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں آئی ٹی کی ترقی میں سب سے بڑی اہمیت سستے کمپیوٹر اورلیپ ٹاپس کو حاصل ہے۔ جیسے جیسے یہ مہنگے ہوں گے ویسے ویسے نوجوان نسل آئی ٹی کی تعلیم سے دور ہوتی جائے گی نتیجہ یہ کہ چند سال میں آئی ٹی میں ترقی کو بڑا بریک لگنے کا اثر نظر آئے گا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے پہلے موبائل فون کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا۔ اس پر اتنے ٹیکس لگا دیئے گئے کہ نئے فون نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ منگوانا مشکل ہوگیا جس کا اثر یہ پڑا کہ پاکستان سے ڈیجیٹل کونٹینٹ کی تیاری میں مشکل آ گئی۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں عوام یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام کے ذریعہ پیسے کماتے ہیں اور ملک میں زرمبادلہ بھی لاتے ہیں۔ پاکستان اس فہرست میں تیزی سے اوپر آرہا تھا لیکن کپتان حکومت نے اس پر پابندی لگادی ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ دور حکومت میں ڈالر کی بلند پرواز کی وجہ سے بھی کمپیوٹڑز، لیپ ٹاپس اور سمارٹ فونز وغیرہ مہنگے ہوئے ہیں اور اب منی بجٹ اس شعبے کا مزید کباڑہ کرنے جا رہا ہے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں بیانیے کی جنگ بھی ڈیجیٹل کنٹینٹ سے لڑی جارہی ہے۔ لیکن اس کے لئے کم از کم بہترین موبائل فون اعر کمپیوتر دستیاب ہونا بھی ضروری ہیں۔ اسی طرح ایپ ڈیولپمنٹ اور اب ڈیجیٹل فنانشل سسٹم کے دور میں جب کرپٹو کرنسی نے دنیا بھر کے معاشی نظام میں ہلچل مچائی ہوئی ہے۔ لہذا اس وقت کمپیوٹر مہنگے کرنا بھی لگتا ہے حکومت کی اس ناقص پالیسی کا حصہ ہے جس سے پاکستان ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے رہ جائے گا۔

Back to top button