حکومت انسانی بنیادوں پر مریم نواز کو والد کے پاس جانے دے

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مریم نواز شریف کا فوکس اس وقت نواز شریف کی صحت ہے ، یہ انسانی حقوق کی حق تلفی ہے کہ ایک بیٹی کو باپ سے ملنے نہیں دیا جا رہا ، انسانی بنیادوں پر حکومت مریم نواز کو ان کے والد کے پاس جانے دے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مریم نواز شریف پارٹی میں اپنے سیاسی عہدے کی ذمہ داریاں ضرور نبھا رہی ہوں گی ،جب مریم نواز کی والدہ کا انتقال ہوا تو اس وقت بھی وہ ان کے پاس موجود نہیں تھیں ، والد کے علاج کے تناظر میں مریم نواز کو نواز شریف کے پاس جانے نہیں دیا جا رہا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ،ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جب میں قومی اسمبلی میں تقریر کروں گا تو احسان اللہ احسان پر واضح مؤقف دوں گا۔
انھوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان کا فرار ہماری حکومت کی نااہلی، ناکامی یا گٹھ جوڑ کی ایک اور مثال ہے ، پہلے صرف پاکستان پیپلزپارٹی کہتی تھی کہ ہمیں انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا، عمران خان اور دیگر سیاسی جماعتوں نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف پی پی پی کے مؤقف کا ماضی میں ساتھ نہیں دیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ انتہاپسند پاکستان کے دشمن ہیں ، یہ انتہا پسند اور دہشت گرد پاکستان اور پاکستان کے مستقبل کے دشمن ہیں جس شخص پر سانحہ اے پی ایس اور ملالہ یوسفزئی پر حملے کے الزامات ہیں، وہ کیسے اس ملک سے فرار ہوا؟ بلاول بھٹو کا سوال ، حکومت کو احسان اللہ احسان کے ملک سے فرار کا جواب دینا ہوگا۔
حکومت کو جواب دینا ہوگا کہ کہیں وہ احسان اللہ احسان کے فرار میں سہولت کار تو نہیں تھے؟ آپ سابق صدر کو اڈیالہ میں قید کر سکتے ہو مگر ایک احسان اللہ احسان کو جیل میں نہیں رکھ سکتے، حکومت احسان اللہ احسان کے فرار کے بعد اب کس منہ سے سانحہ اے پی ایس کے متاثرین کو جواب دے گی؟ سانحہ اے پی ایس کے لئے آج تک کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی ، سانحہ اے پی ایس کے متاثرین آج بھی جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے متاثرین آج بھی پوچھ رہے ہیں کہ انہیں بتایا جائے کہ یہ حملہ کیسے ہوا مگر اس کا جواب نہیں آیا ،عوام احسان اللہ احسان کے فرار کا اس حکومت سے جواب چاہتے ہیں ، ایف اے ٹی ایف پر حکومت اب کس منہ سے قانون سازی کرے گی؟ حکومت عالمی برادری کو کیا جواب دیگی کہ ہم دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہمارا سب سے بڑا دہشت گرد ملک سے فرار ہوگیا۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جیسے ہی حکومت کے خلاف میں کوئی اعلان کرتا ہوں، نیب نوٹس بھیج دیتا ہے ، نیب کو سوچنا ہوگا کہ کیا لوگ اس کو ایسے پہچانیں کہ وہ پی ٹی آئی کا ایک ادارہ ہے اگر نیب غیرجانبدار ادارہ ہے تو ان کے خلاف تحقیقات کرے کہ جو آج حکومت میں ہیں ، ان لوگوں کے خلاف تحقیقات کرے کہ جن کی وجہ سے ملک میں 10 سال بعد آٹے کا بحران پیدا ہوا ہے ، نیب ان لوگوں کے خلاف تحقیقات کرے کہ جن کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں ،نیب ان لوگوں کے خلاف تحقیقات کرے کہ جن لوگوں کی وجہ سے اتنے سالوں میں بی آر ٹی کا ایک منصوبہ تک نہ بن سکا ، نیب اس سے تحقیقات کرے جس کا نام پانامہ میں ہے مگر چونکہ وہ وزیراعظم کا دوست ہے تو وہ کابینہ میں ہے۔
انھوں نے کہا کہ نیب کا کردار سب کے سامنے ہے، نیب صرف اپوزیشن کو ٹارگٹ کرتا ہے ، مجھے تو سپریم کورٹ تک نے کہا ہے کہ میں بے گناہ ہوں ، اگر سپریم کورٹ نے مجھے بے گناہ کہا ہے تو نیب مجھے کیوں بلا رہا ہے جن کو عدالتوں نے سزا دی انہیں چھوڑدیا جاتا ہے یہاں تک کہ احسان اللہ احسان جیسے خطرناک دہشت گردوں کو بھی بھاگنے دیا جاتا ہے۔کیا اس ملک کی جیلیں اور تحقیقاتی ادارے ایک پرامن جمہوری نوجوان سیاست دان کے لئے ہیں؟اس ملک کی جیلیں اور تحقیقاتی ادارے صرف سیاسی کارکنوں کے لئے ہیں یا مجرموں اور دہشت گردوں کیلئے بھی ہیں؟ ہم مہنگائی اور آئی ایم ایف بجٹ کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ، حکومت جتنے مرضی چاہے نوٹس بھیج دے، ہم عوام کے معاشی حقوق کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پارلیمان قانون ساز ادارہ ہے جس کا درست استعمال نہیں ہو رہا ، پی ایم ڈی سی آرڈیننس میں آج دوبارہ زبردستی توسیع کرائی گئی ، پی ایم ڈی سی آرڈیننس کی زبردستی توسیع پارلیمان کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، ہمیں پارلیمان کے ذریعے عوام کے مسائل حل کرنے چاہئیں اگر حکومت کو ایگزیکٹو پاورز کے ذریعے زبردستی قانون بنانا ہے تو پارلیمان کو پھر ختم کر دیں۔ اپوزیشن پی ایم ڈی سی آرڈیننس کی مخالفت کیوں کر رہی تھی، اس کو بتانے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کو موقع ملنا چاہئے کہ وہ پارلیمان میں اپنا مؤقف پیش کر سکے ، اپوزیشن بتانا چاہتی تھی کہ ملک کے نوجوان طلبہ اس پی ایم ڈی سی آرڈیننس کی سخت مخالفت کیوں کر رہے ہیں ؟ پی ایم ڈی سی آرڈیننس کا متن ڈاکٹرز کے مفادات کے خلاف ہے ، ہمارے میڈیکل کے طلبہ پریشان ہیں، ہم ان طلبہ کی آواز ہیں۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ جب حکومت اپنے مافیا کو سپورٹ کرنے کیلئے ایسے آرڈیننس لاتی ہے تو عوام بھی پریشان ہوتے ہیں ، حکومت کے ایسے آرڈیننس سے ادارے بھی کمزور ہوتے ہیں اور ملک کا بھی نقصان ہوتا ہے، آج ہم نے قومی اسمبلی میں پی ایم ڈی سی آرڈیننس کی سخت مخالفت کی، ہمارا مطالبہ ہے کہ معاشی صورت حال اور مہنگائی پر قومی اسمبلی کا سیشن بلایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے ہماری بات مان لی ہے اور کل ہم اس معاملے پر پارلیمان میں بات کریں گے، ایک دن مہنگائی اور معاشی صورت حال پر بحث کرنے سے کوئی حل نہیں نکلے گا، ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی کی جو صورت حال ہے، اس میں ایک دن کی بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ہم سمجھتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں ملک کی معاشی صورت حال پر بحث کے لئے دورانیہ بڑھانا چاہئے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کے معاملے پر 18ویں آئینی ترمیم اور وفاق کو مجروح کیا جا رہا ہے ، ایک صوبے میں قیام امن کی صورت حال کو وفاق جان بوجھ کر خراب کر رہا ہے ، وفاق سندھ میں قیام امن کے لئے انتظامیہ کے کردار کو خراب کر رہا ہے ، وفاق سندھ میں قیام امن کی صورت حال اس لئے خراب کر رہا ہے کیونکہ وہاں ان کی حکومت نہیں ہے۔پاکستان، سندھ اور بالخصوص کراچی کے عوام قیام امن کی صورت حال سے پریشان ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں قیام امن کے حوالے سے کافی بہتری لائی تھی ، پہلے سندھ میں اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے بہت واقعات ہوتے ہے ، پہلے سندھ میں یہ صورت حال تھی کہ کراچی سے لاڑکانہ پہنچنا مشکل تھا، پاکستان پیپلزپارٹی نے پورے سندھ میں قیام امن کی صورت حال کو بہتر کیا۔جرائم بڑھنے کی ایک وجہ ملک کی بدترین معاشی صورت حال ضرور ہے اگر قیام امن کی ذمہ دار انتظامیہ حکومت کے ساتھ مل کر کام نہیں کرے گی تو عوام کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم پہلے دن سے حکومت اور آئی ایم ایف کے گٹھ جوڑ کے خلاف ہیں ، میں نے بجٹ تقریر میں کہا تھا کہ یہ پی ٹی آئی نہیں بلکہ پی ٹی آئی ایم ایف کا بجٹ ہے ، آئی ایم ایف کے نمائندے پاکستان آ کر آئی ایم ایف کے نمائندوں سے مذاکرات کر کے عوام کے فیصلے کر رہے ہیں ، ناکام اور نالائق حکومت نے آئی ایم ایف سے ایک برا معاہدہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نااہل لوگوں نے جو اچھے مذاکرات کرنا نہیں جانتے، آئی ایم ایف سے ایک غلط ڈیل کی ، حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں پاکستانی عوام کے مفادات پر سمجھوتہ کیا ، حکومت کو پاکستان اور عوام کے مفادات کو سامنے رکھ کر آئی ایم ایف سے ڈیل کو ازسرنو کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button