حکومت نے نیب قوانین میں تبدیلی پر گفتگو کی پیشکش کی ہے

حکومت نے معمول کے مطابق سرکاری امور کو چلانے کےلیے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت کے نوٹس پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس طلب کیے ہیں جس میں گزشتہ ستمبر میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدارتی خطاب پر بحث بھی شامل ہے۔ جہاں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ملک کے احتساب کے قوانین میں تبدیلی کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بالواسطہ رابطہ قائم ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس 10 ہفتوں کے وقفے کے بعد ہوگا کیوں کہ اس کا سابقہ اجلاس گزشتہ سال 29 اکتوبر کو ہوا تھا جب کہ سینٹ نے اپنا آخری اجلاس 18 جنوری کو اختتام پذیر کیا تھا جس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے حزب اختلاف کے اراکین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور میڈیا ٹرائل کے الزامات کی روشنی میں اپوزیشن جماعتوں نے اس کے کردار اور کارکردگی پر دوبارہ سوالات اٹھائے تھے۔اجلاس طلب کرنے کا اقدام پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ڈپٹی سینیٹ چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے شروع کیا ہے جنہوں نے نیوز کانفرنسوں کے ذریعے نیب پر حملہ کیا تھا اور بیورو کے ذریعے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا معاملہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے کی دھمکی دی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ اجلاس کے اختتام پر اعلیٰ پارلیمانی دفتر کے حامل ایک حکومتی رکن نے مسٹر مانڈوی والا سے رجوع کیا تھا اور انہیں آگاہ کیا تھا کہ حکمران جماعت تحریک انصاف احتساب کے ادارے کے کچھ اختیارات کو کم کرنے کےلیے نیب قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کرنے کےلیے راضی ہے خصوصاً ان لوگوں کےلیے جو کاروباری برادری اور عام لوگوں سے وابستہ ہیں۔جب سلیم مانڈوی والا سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان سے اس معاملے پر حکومت کی طرف سے رابطہ کیا گیا ہے اور کہا تھا کہ (حکومت کی طرف سے) ایک پیش کش آئی ہے جس پر ہم عمل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ‘حتمی حل’ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ وہ سیاستدانوں، بیوروکریٹس یا سرکاری عہدہ داروں کےلیے نہیں بلکہ ایک عام آدمی کےلیے لڑ رہے ہیں۔ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت پر دباؤ ہے کیوں کہ ملک بھر سے تاجر اور کاروباری برادری نیب کی زیادتیوں پر رو رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نہ تو حکومت مناسب طریقے سے کام کر رہی ہے اور نہ ہی نجی شعبہ نیب کے اقدامات کی وجہ سے کارکردگی دکھانے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیب قوانین میں بھی تبدیلی لانے پر راضی ہے کیوں کہ اس نے گزشتہ سال نیب ترمیمی آرڈیننس پیش کیا تھا جو بعد میں ختم ہو گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور پارلیمانی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے سے انکار کردیا کہ حکومت نے اس معاملے پر حزب اختلاف سے کوئی باضابطہ رابطہ کیا ہے۔ بابر اعوان نے الزام لگایا کہ حزب اختلاف نے سینیٹ میں زیر بحث لا کر نیب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے، انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں سے زیادہ اجلاس کے دوران حزب اختلاف نے نیب، پولیس یا عدلیہ میں اصلاحات کے معاملے پر کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کی اور انہوں نے اس موقع کو محض سیاسی تقریریں کرنے کےلیے استعمال کیا۔بابر اعوان نے کہا کہ حکومت اپنے بیان کردہ موقف کے ساتھ کھڑی ہے کہ پارلیمنٹ ہی ایسی گفتگو کےلیے واحد فورم ہے اور نیب کے کام میں اصلاحات لانے کےلیے تیار ہیں لیکن حزب اختلاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات بند نہیں کیے جائیں گے اور نیب کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے اپوزیشن کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ ہونے کی صورت میں جمعہ سے شروع ہونے والے اجلاسوں میں تجاویز پیش کریں یا پارلیمنٹ میں قانون سازی کریں۔قریب چھ ماہ کے وقفے کے بعد ہی اس طرح کا رابطہ قائم ہوا ہے کیوں کہ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے مابین ہونے والے مذاکرات گزشتہ سال 29 جولائی کو اس وقت ماند پڑ گئے تھے جب حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی کی منظوری کے وقت قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) میں حزب اختلاف کی مجوزہ ترامیم میں سے بیشتر کو مسترد کردیا تھا۔جب حزب اختلاف کے اراکین نے گزشتہ سال 29 جولائی کو ایک پریس کانفرنس میں قانون سازی سے متعلق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو اس کمیٹی کے سربراہ بھی تھے، قومی اسمبلی کے فلور پر مذاکرات کے تعطل کا اعلان کیا اور الزام لگایا کہ حزب اختلاف ایف اے ٹی ایف اور این اے او بلوں کے ذریعے ایک ‘پیکیج ڈیل’ کرنا چاہتی ہے، جب کہ حکومت نے ان دونوں امور کو بڑے قومی مفاد میں شامل کرنے کی درخواست کی تھی۔وزیر خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ احتساب قوانین میں تبدیلیوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مشترکہ طور پر کی گئیں 35 تجاویز میں سے اکثریت تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کےلیے قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ یہ پارٹی کے بدعنوانی کے خاتمے کے بنیادی اصول کے منافی ہیں۔قومی احتساب آرڈیننس میں تبدیلیوں سے متعلق اپوزیشن کی تجاویز پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر نے کہا تھا کہ اپوزیشن احتساب قانون کا اطلاق 1999 سے چاہتی ہے، اپوزیشن نیب چیئرمین کے عہدے کی مدت میں کمی، منی لانڈرنگ کو سنگین جرائم کی فہرست سے ہٹانا، سزا یافتہ افراد کو اپیلوں کے نمٹنے تک رکن اسمبلی باقی رہنے کی اجازت چاہتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کی اس تجویز کو بھی مضحۃ خیز قررا دیا کہ 1 ارب روپے سے کم کی بدعنوانی کے الزامات نیب کے دائرہ کار میں نہیں آنے چاہئیں۔
