دو ٹکے والا بنگلہ دیش پاکستان سے آگے کیسے نکل گیا؟


پاکستان میں آج بھی ایک فقرہ طعنہ دے کر بولا جاتا ہے کہ تمہاری اوقات تو دو ٹکے کی بھی نہیں ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ جس ٹکے کا ذکر اتنی حقارت سے کیا جاتا ہے وہ ٹکا آج پاکستان کے روپے سے ڈبل ہونے کو ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کا ایک ٹکا پاکستانی روپے کے مقابلے میں ایک روپیہ اور تراسی پیسے کا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ پاکستان سے علیحدہ ہونے کی آدھی صدی گزرنے کے بعد بنگلہ دیش اتنا آگے اور پاکستان اتنا پیچھے کیسے رہ گیا؟
حال ہی میں عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے بنگلہ دیش کے ترقیاتی ہوئے انڈیا اور پاکستان سے آگے نکل جانے کے حوالے سے کچھ تحقیقی مقالے شائع کیے ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں سب سے آخر میں آزادی حاصل کرنے اور سب سے زیادہ مظالم برداشت کرنے والی بنگالی قوم آج کہاں کھڑی ہے جبکہ جن انڈیا اور پاکستان سے اس نے آزادی حاصل کی، وہ آج بھی آپس میں دست و گریباں ہیں اور دفاعی بجٹ برھا بڑھا کر حالت جنگ میں رہنے کا ہی راگ الاپ رہے ہیں۔
بلوم برگ کے مطابق بنگلہ دیش ایک ایسا ملک یے جو قحط اور جنگ کے دوران پیدا ہوا تھا۔ اس دوران لاکھوں افراد ہندوستان بھاگ گئے یا پاکستانی فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ پاکستانی کی فوجی اسٹیبلشمینٹ کا خیال تھا کہ یہ نیا ملک ناکام ہوجائے گا: اس وقت کے امریکی سکریٹری برائے ریاست ہنری کسنجر نے مشہور اسے “ڈسٹ بن کیس” قرار دیا تھا۔ مگر اسکے برعکس حقیقت یہ ہے کہ آج بنگلہ دیش معاشی طور پر پاکستان اور بھارت سے بھی زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ گذشتہ سال کے دوران بنگلہ دیش کے جی ڈی پی میں فی کس 9 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 2،227 ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس دوران پاکستان کی فی کس آمدنی 1،543 ڈالرز رہی۔ 1971 میں پاکستان بنگلہ دیش سے 70 فیصد ذیادہ امیر تھا لیکن آج بنگلہ دیش پاکستان سے 45 فیصد ذیادہ امیر ہے۔ پاکستانی ماہر معاشیات تو آج یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بنگلہ دیش اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا تو امکان ہے کہ 2030 میں پاکستان بنگلہ دیش سے امداد حاصل کرنے والے ممالک میں شامل ہو گا۔
اسی طرح فی کس آمدن کے لحاظ سے بھارت بھی بنگلہ دیش سے غریب ہے۔ 2020-21 میں ہندوستان کی فی کس آمدنی صرف 1،947 ڈالرز تھی جبکہ بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی 2،227 ڈالر تھی۔
بنگلہ دیش کی شرح نمو تین ستونوں پر منحصر ہے: برآمدات ، معاشرتی ترقی اور مالی حکمت۔ 2011 اور 2019 کے درمیان، بنگلہ دیش کی برآمدات میں ہر سال 8.6 فیصد اضافہ ہوا ، جبکہ اس کی اوسط دنیا کی اوسط 0.4 فی صد ہے۔
خیا رہے کہ 1990 تک بنگلہ دیش میں ایسے ہی لگ رہا تھا کہ یہ ملک شاید ہی ترقی کرے مگر اس کے بعد اس ملک نے صنعتی، زرعی شعبے میں کماحقہ ترقی کی طرف قدم بڑھائے۔ اس میں ایک مثال گرامین بینک کی دی جا سکتی ہے۔ اس کو شروع کرنے والے ، یونس کو نوبل انعام بھی ان کی اسی غیر معمولی کارکردگی کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ گرامین بینک نے بنگلہ دیش کے دیہاتی اور مضافاتی علاقوں میں غریب لوگوں کو چھوٹے کاروبار کے لیے قرضے دیے اور اس حوالے سے عورتوں کو خصوصی ترغیب دی۔ غریبوں نے نہ صرف وہ قرض واپس کیے بلکہ کمال کامیابی سے اپنے گھروں کا چولہا جلانے میں کامیاب رہے۔ آج گرامین بینک کی 25 ہزار شاخیں، اور ہزاروں کی تعداد میں ملازمین ہیں اور کروڑوں لوگ اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ قرض لینے والی 97 فیصد خواتین ہیں اور قرض واپسی کی شرح بھی پچانوے فیصد سے زیادہ ہی ہے۔
یوں 2019 میں بنگلہ دیش دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ساتویں معیشت بن گئی۔ آئی ایم ایف کے ذرایع کے مطابق بنگلہ دیش کی فی کس آمدنی پاکستان اور انڈیا سے زیادہ ہوچکی ہے، اس کی برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جن میں ریڈی میڈگارمنٹ، فارماسیوٹیکلز، فوڈ پراسیسنگ خصوصی طور پر سمندری فوڈ، الیکٹرانکس، پٹ سن ، اسٹیل وغیرہ شامل ہیں۔ تقریباً ساٹھ فیصد عورتیں، کام کاج، مزدوری جو آئی ٹی سے لے کر زرعی شعبے تک شامل ہیں میں کام کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر پینتالیس ارب ڈالر ہیں جب کہ ہمارے 20ارب ڈالر۔ اس کی مجموعی داخلی پیداوار یعنی جی ڈی پی پاکستان کی نسبت ساٹھ ارب ڈالر زیادہ ہے، حالانکہ جب بنگلہ دیش بنا تھا تو اس کی معیشت کا حجم پاکستان سے بہت کم تھا۔
علیحدگی کے وقت مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی۔ لیکن اس کے حکمرانوں نے آبادی پر قابو پانے کے لیے کامیاب حکمت عملی اختیار کی جس کے نتیجہ میں آج بنگلہ دیش کی آبادی ہم سے تقریباًچھ کروڑ کم ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے اس کی سالانہ معاشی ترقی کی شرح سات سے آٹھ فیصد ہے۔
ہماری دو سے پانچ فیصد رہتی ہے۔ ایک سال پہلے تو منفی میں چلی گئی تھی۔ بے روزگاری پاکستان کی نسبت کم ہے۔ صحت اور تعلیم کے اشاریے پاکستان کی نسبت بہتر ہیں۔ غربت موجود ہے لیکن اس میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ تیس سال پہلے اس کی تقریباً نصف آبادی غریب تھی۔ اب صرف بیس فیصد آبادی غربت کی سطح پر ہے۔ بنگلہ دیش کے انسانی ترقی کے تمام اشاریے جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کے اوسط اشاریوں سے بہتر ہیں۔ پچاس سال پہلے ہمارے ملک کے بعض لوگ بنگالیوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ انھیں کم تر سمجھتے تھے۔ لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ وہ ہم سے بہترکارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ آج بنگلہ دیش جس رفتار سے معاشی ترقی کر رہا ہے، وہ قابل تعریف و تقلید ہے جب کہ جسٹس منیر کی کتاب ’’فرام جناح ٹو ضیا‘‘میں لکھا ہے کہ جب وہ ایوب خان کی حکومت میں وزیر قانون تھے، تو 1960 کی دہائی میں پاکستان کی اس وقت کی قیادت اسی بنگلہ دیش کے خطے کو بوجھ سمجھتی تھی۔
لیکن چھوٹے بھائی نے ثابت کیا کہ محنت لگن اور ایمانداری سے کسی کام کو بھی کیا جائے تو اُس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ لہازا اگر بڑا بھائی بھی چھوٹے بھائی کی طرح ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی اپنی سمت متعین کرنا ہوگی۔

Back to top button