ریپ ہونے والی عورت سے الٹے سوال کیوں کیے جاتے ہیں؟

https://www.youtube.com/watch?v=c62IjHy0j9Y

اداکارہ ماہرہ خان نے پاکستانی معاشرے میں خواتین سے امتیازی سلوک اور استحصال کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں ریپ کا شکار ہونے والی عورت پر ہی شک کرتے ہوئے اس سے الٹے سیدھے سوالات کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک میں ‘ریپ، جنسی ہراسانی اور استحصال’ کا نشانہ بننے والی خواتین کو ہی قصور وار سمجھ کر انہیں کٹہرے میں کھڑا کر کے غلط سوالات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب بھی کسی خاتون کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو ملزم کو پکڑنے کے بجائے اسی خاتون سے غلط سوالات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، نشانہ بننے والی خاتون سے متعلق ہی سوالات شروع کیے جاتے ہیں کہ وہ جائے وقوع پر اکیلی کیوں گئی تھیں؟ وہ وہاں کیا کر رہی تھیں؟ اور وہ جس کے ساتھ تھیں، وہ ان کا بوائے فرینڈ تھا؟ ماہرہ کے مطابق یہ تمام سوالات غلط ہیں اور ان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نشانہ بننے والی خاتون کو ہی قصور وار سمجھا جاتا ہے۔ ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ ایسی ذہنیت کو تبدیل کرنے کے لیے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں لانی پڑیں گی۔

اداکارہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین کو قصور وار سمجھنے اور ان سے ہی الٹے سیدھے سوالات کرنے والی ذہنیت کو تبدیل کرنے کے لیے ٹیلی وژن اور فلمیں بھی کام آ سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے 2017 کی فلم ‘ورنہ’ میں ‘ریپ’ کا نشانہ بننے والی ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جو مجرم سے بدلہ لیتی ہے تو لوگوں نے ان سے سوالات کرنا شروع کر دیے۔لوگوں نے ان سے کہا کہ ‘ریپ’ کا نشانہ بننے کے بعد مجرم سے بدلہ لینے اور شواہد جمع کرنے کے لیے دوبارہ مجرم کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی؟ ان کے مطابق انہیں بہت سارے لوگوں نے کہا کہ پاکستان میں متاثرین اپنا بدلہ نہیں لیتے اور اگر لیتے بھی ہیں تو اس طرح یعنی ‘ورنہ’ فلم کے کردار کی طرح خطرات نہیں لیتے۔یہ بھی کہا کہ پاکستانی سماج ابھی تک ‘ورنہ’ فلم میں ان کی جانب سے ادا کیے گئے کرداروں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کیوںکہ فلم میں وہ جینز پہنتی اور انگریزی بولتی ہیں جبکہ اپنا بدلہ لینے کے لیے اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کو دوبارہ دہرانے کا ڈرامہ رچاتی ہیں۔

خیال رہے کہ 2017 کی فلم ‘ورنہ’ میں ماہرہ خان نے شادی شدہ خاتون سارہ کا کردار ادا کیا تھا جن کے شوہر معذور ہوتے ہیں، فلم میں ماہرہ کے کردار کا ایک طاقتور شخص اغوا کے بعد ‘ریپ’ کرتا ہے جس کے بعد ان کے کردار کو شوہر سمیت دیگر اہل خانہ خاموش رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ فلم میں ماہرہ کا کردار کچھ وقت کے لیے خاندانی پریشر میں آ کر خاموش رہتا ہے مگر پھر وہ شوہر کی مدد سے بدلہ لینے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ فلم میں ماہرہ خان کو عدالتی جنگ بھی ہارتے ہوئے دکھایا گیا ہے مگر اس کے باوجود وہ ریپ کے مجرم کو کیفر کردار تک پہنچاتی ہیں۔

Back to top button