سائفر کیس میں عمران خان کی سزا یقینی،فرد جرم لگ گئی؟

سابق وزیر اعظم عمران خان مخالفین کیلئے بچھائے گئے اپنے ہی جال میں پھنستے دکھائی دیتے ہیں ایک سائفر کو جلسے میں لہرا کر اپنی حکومت کے خاتمے کا الزام امریکہ پر عائد کر کے مخلاف سیاسی جماعتوں پر الزام تراشی کرنے والے عمران خان کے اب اسی سائفر کیس میں لمبے عرصے کیلئے اندر جانے والے ہیں۔
آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس کے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے اور سائفر کیس میں بڑی پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی پر فرد جرم کیلئے 17 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی۔
خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اڈیالہ جیل میں سائفر سے متعلق کیس کی سماعت کی، سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا، سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی اور وکیلِ صفائی سلمان صفدر بھی عدالت پیش ہوئے۔
اڈیالہ جیل عدالت میں سائفر کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا میں چالان کی نقول تقسیم کی گئیں جب کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی عدالت میں پیش ہوئے، جہاں وکلا نے چیئرمین پی ٹی آئی سے جالیوں میں مختصر ملاقات کی۔پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی مکمل نقول نہیں دے سکتے، تاہم جو ضروری نقول تھیں، وہ فراہم کردی گئی ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کہا کہ 17 اکتوبر کو فرد جرم کے ساتھ تمام سرکاری گواہان کی طلبی ہوگی۔ عدالتی حکم کے ساتھ ہی سائفر کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا، جس کے تحت آئندہ تاریخ 17 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔
عمران خان نے جیل ٹرائل کے دوران جج کے سامنے رونا دھونا شروع کر دیا اور کہا کہ میں آپ سے سہولیات کا مطالبہ نہیں کر رہا، مجھے جیل مینوئل کے مطابق ٹریٹ کیا جائے، میرے چلنے پھرنے پر پابندی ہے، کم ازکم مجھے ورزش کرنےاور چہل قدمی کی اجازت ہونی چاہیے۔ذرائع کے مطابق عمران خان سے پی ٹی آئی وکلاء نے مختصر ملاقات بھی کی جس میں انہیں بتایا گیا کہ سائفر کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا ہے اورآئندہ تاریخ پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ اس موقع پر عمران خان نے غصیلے انداز میں وکلاء سے کہا کہ ’میرے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک کیا جا رہا ہے، مجھے ایک چھوٹے سے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے، چہل قدمی کی جگہ بھی نہیں دی گئی‘۔
عمران خان کے وکیل سلیمان صفدر کے مطابق دوران سماعت عمران خان کا بلڈ پریشر کافی زیادہ لگ رہا تھا، جس طرح ان کے ساتھ جیل میں سلوک کیا جا رہا ہے اس پر وہ غصے میں تھے۔ انہوں نے انسان سوز سلوک پر سخت احتجاج کیا۔ چیئرمین ہشاش بشاش تھے مگر نا انصافیوں کے باعث بلڈ پریشر ہائی تھا۔سلمان صفدر نے کہا کہ سائفر کیس کی بند کمرہ سماعت نہیں ہو سکتی، کیس کی اوپن ٹرائل سماعت ضروری ہے سیکیورٹی معاملات کے بہانے بند کمرہ سماعت نہیں ہوسکتی، یہ فیئر ٹرائل نہیں عوام اور ہم اسے نہیں مانتے۔ آج کے یکطرفہ نقول تقسیم آرڈر کو چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے مقدمہ کی نقول وصول نہیں کیں اور نا ہی نقول پر دستخط کیے ہیں۔
خیال رہے کہ 30 ستمبر کو سائفر کیس میں ایف آئی اے نے چالان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت میں جمع کرا دیا تھا۔ چالان کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔ایف آئی اے نے چالان میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو ٹرائل کرکے سزا دینے کی استدعا کی تھی جبکہ اسد عمر ملزمان کی لسٹ میں شامل نہیں تھے۔ ذرائع کے مطابق سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان ایف آئی اے کے مضبوط گواہ بن گئے ہیں۔ اعظم خان کا 161 اور 164 کا بیان چالان کے ساتھ منسلک تھا۔چالان میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھا اور اسٹیٹ سیکرٹ کا غلط استعمال کیا، شاہ محمود قریشی نے 27 مارچ کی تقریر میں چیئرمین پی ٹی آئی کی معاونت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی 27 مارچ کی تقریر کا ٹرانسکرپٹ اور سی ڈی بھی چالان کے ساتھ منسلک ہے۔ سائفر کیس کے چالان میں عمران خان کے خلاف 28 گواہان کی فہرست بھی شامل ہے۔
