سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقتولین کا خون رائیگاں کیسے گیا؟


جون 2014 میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں پیش آنے والے سانحے میں دس افراد کی جانیں چلی گئیں لیکن 7 برس گزرنے کے باوجود نہ تو قاتلوں کی نشاندہی ہو سکی اور نہ ہی عمران خان ڈی چوک اسلام آباد کے دھرنے میں انصاف دلانے کا وعدہ پورا کر سکے۔ سونے پر سہاگا یہ کہ تحریک منہاج القرآن کے جن دس کارکنان نے جس طاہر القادری کی خاطر اپنی جانیں دیں، وہ اس واقعہ کے بعد سیاست چھوڑنے کا اعلان کر کے مستقل کینیڈا منتقل ہو گئے۔ یعنی خس کم جہاں پاک۔ مختصر یہ کہ عمران خان اور طاہر قادری دونوں نے سانحہ ماڈل ٹاون میں جانیں دینے والوں کے خون سے وفا نہیں کی۔ مرنے والوں کے لواحقین کہتے ہیں کہ اگر ان کے پیاروں کو مارنے والے ان کے مجرم ہیں تو عمران اور قادری بھی برابر کے مجرم ہیں جو بار بار کے وعدوں کے باوجود انہیں انصاف دلانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کا علاقہ ماڈل ٹاؤن میدانِ جنگ بن گیا تھا۔ پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی مبینہ جھڑپوں کو تمام پاکستانی ٹیلی ویژن چینلز نے براہِ راست دکھایا تھا۔ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکریٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے اور اِرد گرد موجود تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی تھی جس میں انتظامیہ کو پولیس کی معاونت بھی حاصل تھی۔ کارروائی کے دوران عوامی تحریک کے کارکنوں کی انتظامیہ اور پولیس کے مابین ہونے والی مبینہ جھڑپوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور 100 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ سانحہ کے خلاف عوامی تحریک نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور اپنی درخواست میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، اُس وقت کی وفاقی کابینہ سمیت پولیس افسران، اہلکاروں اور ضلعی حکومت کے عہدیداروں کو فریق بنایا تھا۔
“سانحہ ماڈل ٹاؤن ایک مشکل اور نہ بھلا دینے والا سانحہ ہے۔ اِس سانحے میں اپنی آنکھوں کے سامنے میں نے اپنی والدہ کو مرتے دیکھا تھا۔ ماں کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے، کوئی ایسا دِن نہیں گزرتا جس دن ماں کی یاد نہ آتی ہو۔” یہ الفاظ 20 سالہ بسمہ امجد کے ہیں جو اپنی والدہ اور پھوپھی کے ساتھ 17 جون 2014 کو ماڈل ٹاؤن گئی تھیں لیکن جہاں پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ان کی والدہ اور پھوپھی ماری گئی تھیں۔ بسمہ کے خاندان کی وابستگی عوامی تحریک سے ہے اور بسمہ کے بقول جب انہیں یہ پتا چلا کہ طاہرالقادری کی رہائش گاہ کو پولیس نے گھیر لیا ہے تو وہ والدہ کے ہمراہ وہاں پہنچیں۔ بسمہ نے بتایا کہ ان کے دیگر بہن بھائی گھر پر ماں کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ تھوڑی دیر میں ماڈل ٹاؤن سے گھر آ جائیں گی لیکن والدہ کی لاش واپس آئی۔
بسمہ کے بقول، “موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو سب سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لوگوں کو انصاف دلائیں گے۔ ان کے بقول سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی اُن سے وعدہ کیا تھا اِس معاملے میں انصاف دلانا اُن کی اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔بسمہ کہتی ہیں کہ اُن کا اعلیٰ عدلیہ اور دیگر اداروں سے سوال ہے کہ اتنے سال گزر جانے کے باوجود متاثرین کو انصاف کیوں نہیں مل سکا؟ اس واقعے کے سات برس پورے ہونے کے باوجود انصاف نہ ملنے پر عوامی تحریک نے لاہور میں احتجاج کیا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب مرنے والوں کے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے منہاج القرآن کے عہدے دار بھی باہر نہیں آتے۔ وجہ یہ ہے کہ جب طاہرالقادری نے خود منہاج القرآن سے علیحدگی اختیار کرکے بیرون ملک سکونت اختیار کرلی تو پھر مرنے والوں کا پرسان حال کون ہوگا۔
لیکن سانحہ ماڈل ٹائون کے متاثرین نے سوال کیا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف نے جس انصاف کا وعدہ کیا تھا وہ اُنہیں کب ملے گا؟ کینیڈا میں عیش اور آرام کی زندگی بسر کرنے والے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کہتے ہیں کہ سانحے کے سات برس مکمل ہونے پر بھی متاثرین انصاف کے لیے دربدر ہیں۔ انہوں نے کینیڈا سے جاری اپنے سالانہ بیان میں کہا کہ چار سال مسلم لیگ ن اور تین سال پی ٹی آئی کی حکومت آئے بیت گئے لیکن متاثرین کو اب تک انصاف نہیں ملا۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ ماڈل ٹاؤن سانحے میں انصاف کے لیے قانونی جنگ مرتے دم تک جاری رہے گی کیوں کہ ان کی انصاف کی جدوجہد سیاسی نہیں ایمانی ہے۔
یاد رہے کہ کپتان حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے جسٹس باقر نجفی پر مشتمل ایک کمیشن بنایا تھا۔ کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کر کے پنجاب حکومت کے حوالے کی تھی جسے حکومت 2017 میں منظرِ عام پر لے آئی تھی۔تاہم عوامی تحریک نے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے اب تک تین جے آئی ٹی ٹیمیں بن چکی ہیں۔ دو ٹیمیں اپنی اپنی رپورٹس جمع کرا چکی ہیں۔ اِس سلسلے میں بسمہ امجد کی درخواست پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے لارجر بنچ کے روبرو ایک جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ جس نے تحقیقات کے لیے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا بیان جیل میں قلم بند کیا تھا۔
واضح رہے کہ نومبر 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے قیام کے لیے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔ اس بینچ میں چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز الا احسن سمیت چار ججز شامل تھے۔ عدالتِ عالیہ لاہور کے چیف جسٹس قاسم خان نے اپنی سربراہی میں بائیس مارچ 2019 کو ایک لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔ جو سانحہ ماڈل ٹاون کیس کی سماعت کر رہا ہے۔لارجر بینچ میں جسٹس امیر بھٹی، جسٹس ملک شہزاد احمد خان، جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس اسجد جاوید گھرال، جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس فاروق حیدر شامل ہیں۔کیس میں پنجاب حکومت کے وکیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب ملک اختر جاوید کے مطابق مذکورہ کیس 135 گواہوں میں سے 86 گواہوں کے بیانات قلم بند ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالتِ عظمٰی میں بیان جمع کرایا تو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا کہا تھا اور سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایک لارجر بینچ بنایا گیا۔ جس میں تمام بیانات کو جمع کرا دیا گیا تھا۔
ملک اختر جاوید کے مطابق اِس وقت حکومت عدالت میں اِس بات پر دلائل دے رہی ہے کہ آیا یہ قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔
ملک اختر جاوید کے مطابق اِس کیس کی سماعت کی دو تاریخیں مقرر ہوئیں لیکن سماعت نہیں ہو سکی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جو کہ لارجز بینچ کے سربراہ بھی ہیں وہ آئندہ ماہ پانچ جولائی کو ریٹائر ہو رہے ہیں جس کے بعد نئے آنے والے چیف جسٹس ایک نیا بینچ بنائیں گے۔ یاد رہے کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے وقت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور اِس حکومت میں اُس وقت پرویز رشید وفاقی وزیرِ اطلاعات تھے اور ماڈل ٹاؤن سانحے کے مقدمے میں وہ بھی نامزد ہیں۔پرویز رشید سمجھتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس کیس میں کوئی رکاورٹ نہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں سے اُن کی جماعت حکومت میں نہیں۔ اگر ماڈل ٹاؤن سانحے کا مقدمہ موجودہ حکومت کے لیے یہ ایک اچھا مقدمہ ہوتا اگر اُن کے ہاتھ میں کوئی بھی ایسی چیز آجاتی جس میں مسلم لیگ ن کے لوگ ملوث پائے جاتے تو موجودہ حکومت اُنہیں جیلوں میں بند کر چکی ہوتی۔پرویز رشید کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن ایک ایسا ہی واقعہ ہے جیسا کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہو جاتی ہیں۔ جیسا کہ حال ہی میں لاہور میں ایک مذہبی جماعت کے لوگوں کو گولیاں ماری گئیں۔
اُن کے بقول ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جب ایک طرف سے پتھر پھینکے جاتے ہیں تو پولیس گولیاں چلا دیتی ہے۔ اِسی طرح کا ایک حادثہ ماڈل ٹاؤن کا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں بے گناہ افراد مارے گئے تھے جس کے بعد اِس واقعے کو سیاسی بنایا گیا۔ اُن کے بقول اِس واقعے میں پولیس کے لوگوں کا انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں کیس چل رہا ہے۔

Back to top button