سنتھیا زیادہ تگڑی نکلی، پولیس اور FIA کا ایکشن لینے سے انکار

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خفیہ دباؤ کے زیر اثر پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت پر جنسی ہراسگی کے الزام عائد کرنے والی مشکوک امریکی عورت کے خلاف کسی بھی قسم کی کی کارروائی کرنے سے معذرت کرلی ہے اور ہاتھ کھڑے کردیے ہیں جس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ سنتھیا کن اداروں کا ایجنڈا لیکر چل رہی ہے۔
پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے اسلام آباد پولیس کو دی جانے والی شکایت کے جواب میں اسلام آباد پولیس نے ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج کو بتایا ہے کہ ان کے پاس سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بدنام کرنے پر سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زیبا چوہدری نے پی پی پی رکن وقاص عبادسی کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔ وقاص عباسی نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر بے ہودہ الزامات عائد کرنے پر سنتھیا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے بنی گالہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔ تاہم بنی گالہ کے ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا ہے کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بدنام کرنے سے متعلق ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ اس معاملے کی سماعت کرنے کا متعلقہ فورم ہے۔ ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ جب شکایت گزار نے پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا تھا تو انہیں شکایت کے حل کے لیے متعلقہ فورم سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا کیوں کہ یہ معاملہ پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا لہذا وہ سنتھیا کے خلاف کسی قسم کی کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔
یاد رہے کہ سنتھیا بھی وزیراعظم عمران خان کی طرح اسلام آباد کے پوش ایریا بنی گالہ میں رہائش پذیر ہیں۔ سنتھیا ماضی میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ونگ سے وابستہ رہی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اب بھی عمران خان سے مسلسل رابطے میں رہتی ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں معروف اداکار علی سلیم المعروف بیگم نوازش علی نے بتایا تھا کہ سنتھیا نے انہیں بتایا تھا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان پر گرم ہیں اور ان کو اپنے ساتھ اچھا وقت گزارنے کی آفر بھی کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ سنتھیا رچی نے پیپلز پارٹی کی دوسرے درجے کی قیادت پر الزامات لگانے سے پہلے بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر بے ہودہ الزامات لگائے تھے جن کے ردعمل میں ایف آئی اے میں درخواست دائر کر دی گیئں۔ اس واقعے کے چند روز بعد سنتھیا نے رحمان ملک، یوسف رضا گیلانی اور مخدوم شہاب الدین پر جنسی ہراسگی کا الزام عائد کر دیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے سنتھیا کو ہتک عزت کے نوٹس جاری کیے لیکن جواب میں سنتھیا نے بھی ترکی بہ ترکی ان رہنماؤں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ لہذا پیپلز پارٹی کی قیادت نے اب اس معاملے پر عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پر سنتھیا کی جانب سے بیہودہ الزامات عائد کیے جانے کے بعد پیپلز پارٹی کے وقاص عباسی نے اس کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سنتھیا رچی نے پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بدنام کرنے کی کوشش کی۔
تاہم ایف آئی اے کی جانب سے مقدمہ درج نہ کیے جانے پر شکیل عباسی سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی جس پر ایف آئی کو نوٹس بھی جاری کیا گیا لیکن مقدمے کے اندراج کے لیے دائر درخواست کی سماعت میں ایف آئی اے نے سنتھیا کے خلاف مجرمانہ کیس درج کرنے کی درخواست کی مخالفت کر دی۔ ایف آئی اے نے تو ڈسٹرکٹ اور سیشنز کورٹ سے اس درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا بھی کر دی کیونکہ درخواست گزار اس معاملے سے متاثر نہیں ہوئے۔ ایف آئی کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ قانون کو پڑھنے سے یہ بات سامنے آئی کہ صرف اصل متاثرہ شخص یا اس کے سرپرست ہی شکایت درج کراسکتے ہیں۔ خیال رہے کہ سنیتھا رچی کے ان ٹوئٹس کے بعد 5 جون کو انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک لائیو ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ ‘2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا، یہ بات درست ہے، میں دوبارہ کہوں گی کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا’۔
سنتھیا رچی نے سابق وقافی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر جسمانی طور ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ اس دوران یوسف رضا گیلانی ایوان صدر میں مقیم تھے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ مجھے مارنے اور میرا ریپ کرنے کی لاتعداد دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہی ہیں اس کی حمایت میں شواہد موجود ہیں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے سنتھیا کے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ سنتھیا کیا کر رہی ہے اور کس کے کہنے پر کر رہی ہے۔
