سندھ پولیس میں ڈاکوؤں کے مخبر بھرے ہونے کا انکشاف

سندھ پولیس میں بڑی تعداد میں جرائم پیشہ افراد اور ڈاکوؤں کے مخبر موجود ہونے کی وجہ سے ان عناصر کے خلاف پولیس آپریشنز مسلسل ناکامیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سندھ میں گھوٹکی شہر اس وقت لاقانونیت کا گڑھ بن چکا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد اور ڈکیتوں کو پولیس کا کوئی ڈر خوف نہیں رہ گیا۔ جب بھی پولیس ڈاکوؤں کے خلاف کوئی آپریشن کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسکا اپنا عملہ آگے مخبری کر دیتا ہے اور آپریشن ناکام ہو جاتا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گھوٹکی پولیس کی نا اہلی کے باعث کچے کا علاقہ نوگو ایریا اور سندھ اور پنجاب کے ڈاکوؤں کی محفوظ آماج گاہ بن گیا ہے۔ کچے کےعلاقے میں ڈاکوؤں کے پاس کروڑوں روپے مالیت کا جدید اسلحہ موجود ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

 

سندھ اور پنجاب کے بدنام زمانہ ڈاکو جانو انڈھڑ اور راحب شر کے گروپس کے ایک ہونے کے بعد ڈاکوؤں نے کچے میں مضبوط نیٹ ورک قائم کرلیا ۔ ڈاکوؤں نے ثنا اللہ نامی ڈاکو گروہ کا میڈیا ترجمان بھی مقرر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکوؤں کے پاس انٹرنیٹ کی بھی سہولت میسر ہے۔ کچے میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کا بھی استعمال کر رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں۔ مغویوں کی ویڈیو ریکارڈ کرکے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے تاوان طلب کیا جاتا ہے۔ جدید اسلحہ کی نمائش اور مغویوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے سے گھوٹکی کے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق کچے میں ڈاکوؤں کو صحت کی سہولت بھی موجود ہے۔ زخمی ڈاکوؤں کو علاج معالجہ بھی کیا جاتا ہے۔ ڈاکوؤں نے ملک کے مختلف علاقوں سے سادہ لوح افراد کو اغوا کرنے کے لئے مختلف زبان بولنے والی لڑکیوں کو بھی بھرتی کیا ہوا ہے۔ ان کی نسوانی آوازوں سے مختلف علاقوں سے سادہ لوح افراد کو باآسانی اغواکرنے کے بعد کچے میں قید کرکے تاوان ان سے طلب کیا جاتا ہے۔ لیکن ڈاکوؤں کے اس مضبوط نیٹ ورک کو توڑنے میں گھوٹکی پولیس مسلسل ناکام ہے جس کی وجہ سے ڈاکوؤں کا نیٹ ورک مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ پولیس کے پاس ناکارہ اسلحہ ہونے کے وجہ سے اہلکار کچے کے علاقے میں آپریشن کرنے سے کترانے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گھوٹکی پولیس کی اسلحہ خریداری میں مسلسل کرپشن کے باعث اہلکاروں کو ناکارہ اسلحہ ہی فراہم کیا جارہا ہے۔ اسلحہ خریداری کی مد میں کروڑوں روپے کے گھپلے کیے جاتے ہیں، نیا اسلحہ خریدنے کی بجائے ناکارہ اور مرمت شدہ خرید کر پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب ڈاکوؤں کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ گن، راکٹ لانچر سمیت دیگر جدید اسلحہ موجود ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی کالی بھیڑوں ہی کی مدد سے کچے میں ڈاکوؤں کو ملک بھر سے جدید اسلحہ کی رسائی ہو رہی ہے۔ ڈی آئی جی سکھر  دو ماہ قبل ڈاکوؤں کے ساتھ تعلقات پر کچے کے تھانے راؤنتی تھانے پرتعینات سابقہ ایس ایچ او غلام عباس سندرانی کو نوکری سے بھی برطرف کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ گھوٹکی پولیس میں کالی بھیڑیاں موجود ہیں جن کے خلاف اب تک کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔

 

یاد رہے کہ راؤنتی کچے میں تین ہفتے قبل پولیس کی ناقص حکمت عملی اور پولیس کی ڈاکوؤں سے مبینہ رابطے کے باعث ڈاکوؤں نے بڑا حملہ کرکے ڈی ایس پی اوباڑو عبدالمالک بھٹو، ایس ایچ او رمیرپور ماتھیلو عبدمالک کمانگر، ایس ایچ او کھینجو دین محمد لغاری، پولیس اہلکار سلیم چاچڑ اور جتوئی پتافی کو شہید کر دیا تھا۔ اسکے بعد ڈاکو رانو شر نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ گھوٹکی پولیس کے جو پانچ جوان شہید ہوئے ہیں ان کے ذمہ دار بھی ساتھی پولیس اہلکار تھے، جنہوں نے ڈاکوؤں کو انفارمیشن لیک کی۔ ڈاکو رانو شر کا کہنا تھا کہ ’’میں موبائل نمبرز دیتا ہوں، ان کا ڈیٹا نکالا جائے جس پر بہتر پیش رفت ہو گی اور پولیس کے اندر کالی بھیڑیوں کو بھی ظاہر کر کے ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے۔‘‘

 

واضح رہے کہ پولیس اہلکاروں کے شہید ہونے کو بیس روز گزر جانے کے باوجود تحقیقات مکمل نہیں کی جاسکی ہیں۔ جبکہ حملے کے وقت موقع سے بھاگ جانے والے پولیس اہلکاروں سے بھی تفتیش نہیں کی گئی ہے۔ شہید پولیس اہلکاروں کے راؤنتی تھانے پر درج ہونے والے مقدمہ کی کاپی پہلے بدنام ڈاکو جانو انڈھڑ کو پولیس کی طرف سے فراہم کی گئی تھی، جس نے اپنے فیس بک پیچ پر وائرل بھی کی۔ پولیس کی طرف ڈاکو کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کرنے کی بھی تحقیقات نہیں کی گئی۔ جبکہ ایس پی گھوٹکی تنویر تنیو کی اس ناقص حکمت عملی پر آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی سکھر کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اور نہ ہی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دی گئی۔

Back to top button