سندھ کے کونسے حلقوں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے؟

سندھ کی سیاسی جماعتیں اس مرتبہ الیکشن میں بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہیں، جس کی وجہ سے خیال کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ سیاسی جماعتوں میں کانٹے کے مقابلے ہوں گے۔ایک دہائی سے زائد عرصے سے صوبہ سندھ پر حکمرانی کرنے والی جماعت 2024 کے عام انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ تو کر رہی ہے لیکن پیپلز پارٹی مخالف قوتیں بھی اس مرتبہ پہلے سے زیادہ منظم ہو کر کامیاب ہونے کی کوشش کر رہی ہیں، سندھ سے الیکشن لڑنے والے ملکی سطح کے سیاسی رہنماؤں کے حلقوں پر نظر ڈالی جائے تو ملا جلا رجحان نظر آتا ہے۔صوبہ سندھ ملک میں حکومت بنانے اور گرانے میں جی ٹی روڈ کی سی حیثیت تو نہیں رکھتا لیکن پھر بھی یہاں سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی حکومت بنانے اور گرانے میں اپنا اہم کردار رکھتے ہیں، مفاہمت پر یقین رکھنے والے سابق صدر آصف علی زرداری نے اس علاقے میں بسنے والی مہر برادری کے سرداروں کو پی پی کے جھنڈے تلے الیکشن لڑنے پر آمادہ کر لیا ہے، پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری حلقہ این اے 194 سے میدان میں ہے، اس سیٹ پر کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔سندھ کے علاقے شہید بے نظیر آباد کی نشست این اے 207 سے سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ایک بار پھر الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔سندھ کے حلقہ این اے 206 کی بات جائے تو یہاں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید خورشید شاہ کو ایک بار پھر سید طاہر حسین شاہ کا سامنا کرنا ہوگا، اس علاقے میں ملے جلے رجحان کے ووٹرز آباد ہیں۔ جن میں پی پی حمایت اور مخالفت دونوں ہی رائے پائے جاتی ہیں۔ یہاں سے 2018 میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تھی۔سکھر میں پیپلز پارٹی کی علاقائی قیادت میں چپقلش ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں پیپلز پارٹی کو اپنے ہی حمایتی کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں اس حلقے میں پیپلز پارٹی اور اپوزیشن میں سخت مقابلہ ہوسکتا ہے، سندھ کے علاقے بدین سے ایک بار پھر سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔سندھ کے علاقے تھرپارکر چھاچھرو کے حلقہ این اے 214 سے پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی اور پیپلز پارٹی کے امیدوار پیر امیر علی شاہ جیلانی ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں۔ اس حلقے میں مور اور تیر کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔حلقہ این اے 241 سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان میدان میں ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے فاروق ستار کو اس حلقے کا ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اس کے علاقے سے مرزا اختیار بیگ پیپلز پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ حلقہ این اے 242 میں ایم کیو ایم کے رہنما سید مصطفیٰ کمال اور پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل آمنے سامنے ہیں۔منی لاڑکانہ کہلانے والے اس علاقے سے 2018 میں پی ٹی آئی کے امیدوار شکور شاد نے بلاول بھٹو کو شکست دی تھی۔اس بار اس حلقے سے پیپلز پارٹی کے امیدوار نبیل گبول الیکشن لڑ رہے ہیں اور انہیں لیاری اتحاد گروپ سے مقابلہ کرنا ہے جبکہ اس علاقے میں تحریک لبیک پاکستان اور جماعت اسلامی بھی پیپلز پارٹی کے خلاف الیکشن لڑ رہی ہیں۔صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر لاڑکانہ، عمر کوٹ، بدین اور تھرپارک کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کو جی ڈی اے اور آزاد امیدواروں سے مقابلہ کرنا ہے۔

Back to top button