سوتیلے باپ کی بچپن میں زیادتی کی وجہ سے گھر چھوڑا

اداکارہ فریال محمود نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنی زندگی کے نشیب وفرازبتائے۔
’محبت تم سے نفرت ہے‘، ’ببن خالہ کی بیٹیاں‘ اور ’میرا یار ملادے‘ جیسے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہردکھانے والی فریال محمود حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویومیں اپنے بچپن کوایک تلخ حقیقت قراردیا۔ فریال محمود نے بتایا کہ ان کے والدین بچپن میں ہی علیحدہ ہوچکے تھے اوردونوں نے دوسری شادی کی، والدہ کی دوسری شادی کے بعد وہ اپنے سوتیلے والد کے گھررہتی تھیں جن سے وہ بےحد نفرت کرتی ہیں کیونکہ وہ ان کی والدہ کا ایک برا انتخاب تھا جس کا خمیازہ انہیں بھی بھگتنا پڑا۔
اداکارہ نے بتایا کہ ان کی والدہ جب کام پر جاتی تھیں توان کے سوتیلے والد نے ان کے ساتھ زیادتی کی جس کا سلسلہ 8 سال سے لے کر11 سال تک چلا اوروہ خوف کے باعث اپنی والدہ کو بھی کچھ نہیں بتا پاتی تھیں۔ غم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے فریال محمود کا کہنا تھا کہ پھرانہوں نے کم عمرمیں ہی گھرچھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا جب کہ رہنے سہنے کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔
اداکارہ نے بتایا کہ بعدازاں والدہ نے اپنے دوسرے شوہرسے بھی علیحدگی اختیارکرکے تیسری شادی کی مگر پھرانہوں نے 18برس کی عمرمیں گھرچھوڑدیااورپھرکام کرنا شروع کردیا۔ فریال محمود نےمزید بتایا کہ شروع کا وقت اتنا سخت تھا کہ کھانے کومیگی نوڈلز بھی ختم ہوگئے تھے لیکن میری دوست میرے لیےکھانے پینے کا بندوبست کرتی تھی، پھرایک دن تنگ آکرمیں نے اپنے والد کو کال کی اوربتایا کہ میں بہت مشکل میں ہوں انہوں نے کہا ٹھیک ہے تم میرے پاس آجاؤ۔
اداکارہ کا کہنا تھا جب میں والد کے گھر گئی تو وہاں میری دوسری والدہ کو میرا آنا اچھا نہیں لگا، میری دو سوتیلی چھوٹی بہنیں بھی تھیں جن سے میں 17، 18 سال بڑی تھی۔ فریال محمود نے کہا کہ جب میں والد کے گھر تھی تو مجھے اپنا کردار بالکل سنڈریلا والا لگتا تھا کیونکہ وہی میری سوتیلی والدہ میری سوتیلی بہن اورگھرکی ساری ذمہ داری، میں صبح اٹھ کر بہنوں کا ناشتہ بنا کرکام پر جاتی تھی، پھرواپس گھر آکر صفائی اور دیگر کام کرتی تھی لیکن سال بھر بعد میں نے والد کا گھر بھی چھوڑدیا اورنیویارک چلی گئی، وہاں ایک چینی خاتون کے گھرپرکمرہ لیا اورپیزا ڈیلیوری کا کام بھی کیا۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ میرے جینے کا کوئی مقصد نہیں اس لیے کئی مرتبہ خودکشی کرنے کی کوشش بھی کی لیکن پھر کچھ لوگوں نے مدد کی اورمجھے زندگی کی طرف دوبارہ لانے کے لیےایک بحالی ادارے میں داخل کرایا۔ فریال محمود کا ماننا ہے کہ جب تک وہ اس ادارےمیں رہیں وہ ان کاسنہری وقت تھاکیونکہ وہاں کوئی انہیں باتیں سنانے والا نہیں تھا، اس وقت کے بعد سے ان کی صحت بہترہوئی انہوں نے اپنے آپ کو مضبوط کیا اور پھر انہوں نےدوبارہ پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اورآج وہ سکون میں ہیں۔
