سپریم کورٹ جعلی وکلا بے نقاب کرنے کیلئے متحرک

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قانون کی جعلی ڈگریاں ہونے کے باوجود عدالتوں میں پیش ہو کر کیس لڑنے والے جعلی وکیلوں کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جعلی ڈگریوں کی جانچ کے حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک کمیٹی بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے اراکین کے نام طلب کر لیے ہیں۔
جعلی ڈگریوں اور لا کالجز میں معیار تعلیم کے حوالے سے ایک از خود مقدمے کی سماعت کے دوران قائم مقام چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت جعلی ڈگریوں کے مسئلہ کو حل کرنا چاہتی ہے جس کا مقصد وکلا کے معیار تعلیم کو بہتر بنانا ہے۔اس موقع پر امیر علی شاہ ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کئی وکلا کی ڈگریاں جعلی ہیں جس کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں وکلا کی طرف سے کئی معاملات میں مبینہ طور پر تشدد کا استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے کئی حلقوں نے یہ سوال اُٹھایا کہ آیا قانون کے ان رکھوالوں نے قانون پڑھا بھی ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر لطیف آفریدی نے وکلا کی ڈگریوں کو چیک کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کو یہ خدشہ ہے یا یہ شک ہے کہ کسی وکیل کی ڈگری جعلی ہے تو اس کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے۔ کوئی بھی قانون سے ماورا نہیں ہونا چاہئے۔ اس طرح کی اطلاعات ماضی میں بھی آتی رہی ہیں کہ کچھ وکلا کی ڈگریاں جعلی نکلی ہیں یہاں تک کہ پنجاب بار کونسل کے ایک سینئر وائس چیئرمین کے حوالے سے بھی اس طرح کی اطلاعات آئیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی وکیل کی ڈگری جعلی نکلے تو اس کو سزا بھی دی جانی چاہئے اور اس کا لائسنس بھی منسوخ کیا جانا چاہئے۔
لطیف آفریدی کے افسوسناک بات ہے کہ پنجاب بار کونسل میں ایک شخص اتنے اونچے عہدے تک پہنچ گیا اور بعد میں اس کی ڈگری پر سوال اُٹھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈیکل اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ڈگریاں چیک ہو سکتی ہیں تو وکلا کی کیوں نہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہہ الدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مثبت اقدام ہے، انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف وکلا کی ڈگریاں کیوں چیک کی جائیں جب ملک میں اس طرح کا قانون بنایا گیا تو سب سے پہلے عوامی نمائندے تھے جنہوں نے جعلی ڈگری حاصل کی اور ایک وزیراعلیٰ نے تو یہاں تک کہا کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے اصلی ہو یا جعلی ہو۔ تو نہ صرف وکلا کی ڈگریاں چیک ہونی چاہئیں بلکہ افسر شاہی کے لوگوں اور دوسرے سرکاری ملازمین کی ڈگریاں بھی چیک ہونی چاہئیں۔
لہکن پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین اختر حسین ایڈووکیٹ نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا جس کے تحت وکلا کی تعلیمی اسناد چیک کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا اگر کسی وکیل کی تعلیمی اسناد پر کسی کو کوئی شک ہے تو وہ متعلقہ بار کونسل سے رابطہ کر سکتا ہے۔ بار کونسل کی انضباطی کمیٹی ہوتی ہے جو اس وکیل کے خلاف اقدام اُٹھا سکتی ہے لیکن اس طرح تمام وکیلوں کی ڈگریاں چیک کرنے کا اشارہ وکیلوں کو بدنام کرنے کے مترادف ہے، آج وکیلوں کی ڈگریاں چیک کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو کل کہا جائے گا کہ ججوں کی بھی ڈگریاں چیک کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں وکلا کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہے۔ ایسے میں انتظامی طور پر یہ کس طرح ممکن ہے کہ آپ یہ ساری ڈگریاں چیک کرلیں۔
