سینئر صحافی حامد میر کا پروگرام کیپٹل ٹاک بند کر دیا گیا

سینئر صحافی اور اینکرپرسن حامد میر غیر معینہ مدت تک جیو ٹی وی کے معروف پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ کی میزبانی نہیں کر پائیں گے۔ جیو انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق حامد میر کو چند دنوں کی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔
دوسری جانب انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا: ’میرے لیے یہ نیا نہیں ہے۔ مجھ پر ماضی میں بھی دو مرتبہ پابندی عائد کی گئی تھی۔ میں قاتلانہ حملے میں بھی بال بال بچا لیکن میں اپنی آواز بلند کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔‘حامد میر نے مزید لکھا: ’اس مرتبہ میں کسی بھی قسم کے نتائج اور کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہوں کیونکہ یہ لوگ میرے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘ ذرائع کے مطابق حامد میر کو نوکری سے برخواست کرنے کےلیے جیو نیوز پر شدید دباؤ بھی ہے۔وہ گذشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر خبروں میں ہیں۔ گذشتہ جمعے کو اسلام آباد میں صحافی اسد علی طور پر حملے کے خلاف ہونے احتجاج میں حامد میر نے اپنے خطاب میں پاکستانی فوج کے افسران پر نام لیے بغیر شدید تنقید کی تھی۔حامد میر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر صحافیوں کو گھر میں گھس کر مارا جائے گا تو صحافی گھر میں گھس کر تو نہیں مار سکتے مگر ہم آپ کے گھر کی خبریں سامنے لائیں گے اور آپ کے نقاب نوچیں گے۔جیو ٹی وی پر حامد میر کا پروگرام پاکستان کے سرفہرست ٹاک شوز میں سے ایک ہے۔ کیپیٹل ٹاک کا آغاز 2002 میں ہوا تھا اور اس وقت سے لے کر اب تک پروگرام جاری ہے۔ 2018 میں ایک دفعہ حامد میر نے جیو کو چھوڑا تھا تو اس وقت بھی پروگرام دوسرے میزبان کے ساتھ جاری رہا اور جب انہوں نے چینل کو دوبارہ جوائن کیا تو دوبارہ اسی پروگرام کی میزبانی شروع کی۔
اپریل 2014 میں حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔
