خفیہ ایجنسی نے صحافی سلیم شہزاد کو کیوں قتل کیا تھا؟

پاک فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس نے اسلام آباد میں سینئر صحافی علی طور پر ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایسے الزامات ملک دشمن عناصر کی جانب سے ففتھ جنریشن وار فیئر کے تحت لگائے جا رہے ہیں جن کا مقصد پاکستانی خفیہ اداروں کو بدنام کرنا اور انکی ساکھ مجروح کرنا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ ماضی میں بھی آئی ایس آئی پر اسلام آباد کے ایک سینئر صحافی سید سلیم شہزاد کو قتل کرنے کے علاوہ حامد میر کو جان سے مارنے کی کوشش کرنے کے سنجیدہ اور ٹھوس شواہد پر مبنی الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یاد رہے کہ 29 مئی 2021 کو آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ایک پریس ریلیز میں کہا تھا کہ آج اعلیٰ ترین سطح پر وزارت اطلاعات اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کا رابطہ ہوا جس کے دوران ISI نے اسلام آباد میں ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ ایک صحافی اسد علی طور کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے سے مکمل طور پر لاتعلقی ظاہر کی۔ پریس ریلیز کے مطابق ایسے الزامات کا تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت ISI کو ففتھ جنریشن وار فیئر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آئی ایس آئی سمجھتی ہے کہ جب CCTV میں ملزمان کی شکلیں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں تو پھر تفتیش آگے بڑھنی چاہئے اور ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ یہ دعوی بھی کیا گیا کہ اس سلسلے میں ISI تفتیشی اداروں سے مکمل تعاون کرے گی۔
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق بغیر ثبوت اداروں پر ایسے الزامات لگانے کی روش ختم ہونی چاہئے۔ فوجی ترجمان کی پریس ریلیز میں حسب معمول یہ بھی الزام لگایا گیا کہ اس طرح کی منفی روایات ملکی اداروں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں اور جلد اس واقعے کے اصل اصل کردار بے نقاب ہوں گے۔ تاہم دوسری جانب زخمی صحافی اسد طور نے کہا ہے کہ ان پر حملے میں خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ان کے گھر میں گھسنے کے بعد ان کو باندھ کر بستر پر پھینک دیا اور آئی ایس آئی زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگوائے، جیسے میں کوئی ملک دشمن پاکستانی ہوں۔ اسد طور کے مطابق ان کے گھر میں گھسنے والے پہلے شخص نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے بتایا تھا کہ "آئی ایم آئی ایس آئی”۔ یاد رہے کہ اسد طور نے حملے سے پہلے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے ایک تحصیلدار بھائی کی پروموشن کے حوالے سے کچھ وی لاگ کیے تھے۔
تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ آئی ایس آئی نے کسی صحافی پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید بذریعہ فوجی ترجمان یعنی آئی ایس پی آر کے ذریعے کی ہے۔ ماضی میں آئی ایس آئی نے سید سلیم شہزاد کے قتل اور حامد میر پر قاتلانہ حملے کی براہ راست تردید کی تھی۔
یاد رہے کہ اپریل 2014 میں جیو نیوز سے وابستہ سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کو کراچی میں قاتلانہ حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن خوش قسمتی سے وہ چھ گولیاں لگنے کے باوجود زندہ بچ گئے۔ حملے سے پہلے حامد میر کو تب کے آئی ایس آئی سربراہ ظہیر الاسلام کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعے سے صرف تین روز پہلے ایک خفیہ ایجنسی کا تین رکنی اعلی سطحی وفد دبئی جا کر جیو ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمان سے ملا تھا اور حامد میر کے حوالے سے آخری حد تک جانے کا عندیہ دیا تھا۔ واقعے کے بعد سینئر صحافی عامر میر کی جانب سے حامد میر پر کراچی حملے کا الزام آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر لگایا گیا تھا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا ایک تین رکنی تحقیقاتی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا تھا لیکن نہ تو اس کی رپورٹ آئی اور نہ ہی نا معلوم حملہ آوروں کو بے نقاب کیا جا سکا۔
اس سے پہلے مئی 2011 میں اسلام آباد میں فارن میڈیا سے وابستہ ایک پاکستانی صحافی سید سلیم شہزاد کو اغواء کے بعد قتل کر دیا گیا تھا لیکن ایک اعلی سطحی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیے جانے کے باوجود ان کے قاتلوں کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ سلیم شہزاد کے قتل کا الزام تب کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا پر عائد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں امریکی میڈیا نے اس الزام کی تصدیق کر دی تھی۔ 4 جولائی 2011 کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکی انتظامیہ کے حکام کو یقین ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے سلیم شہزاد کے قتل کا حکم دیا تھا کیوں کہ سلیم نے شدت پسندوں کے پاک فوج میں گہرے مراسم کا انکشاف کیا تھا۔
یاد رہے کہ سلیم شہزاد کو 29 مئی 2011 کو اسلام آباد سے اغوا کیا گيا تھا اور دو دن بعد ان کی لاش منڈی بہاالدین سے ملی تھی۔ سلیم کی لاش پر تشدد کے نشانات تھے اور حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس واقعے کا ذمہ دار پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کو ٹھہرایا تھا۔
تاہم صحافی کی موت کے دو روز بعد آئی ایس آئی نے سلیم شہزاد کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ صحافی کی ہلاکت کی آڑ میں پاکستان کی اہم ترین سکیورٹی ایجنسی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گيا تھا کہ ذرائع ابلاغ کا ایک حصہ اس واقعے کو بنیاد بنا کر آئی ایس آئی کو بدنام کر رہا ہے۔
تاہم دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے دو سینیئر امریکی افسران کے حوالے سے بتایا تھا کہ 29 مئی 2011 کو سلیم شہزاد کے اغواء سے قبل اور پھر ان کی لاش ملنے تک کے دوران کی جو خفیہ اطلاعات جمع کی گئيں ان کے مطابق ’انٹر سروسز انٹیلیجنس‘ یعنی آئی ایس آئی نے ان پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا۔اخبار کا دعوی تھا کہ ان افسران کے مطابق اس سلسلے میں جو خفیہ معلومات جمع کی گئیں وہ درست اور نتیجہ خيز ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایک سینیئر امریکی افسر کا کہنا تھا کہ اس قتل سے پتہ چلتا ہے کہ عمومی تاثر کے عین مطابق آئی ایس آئی کا یہ فعل کس قدر بہیمانہ اور ناقابل قبول ہے۔‘
یاد رہے کہ سلیم شہزاد کے قتل کے وقت جنرل اشفاق پرویز کیانی آرمی چیف تھے اور لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا آئی ایس آئی سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ تحقیقات کے مطابق سید سلیم شہزاد کو اسلام آباد سے اغوا کرنے کے بعد خفیہ ایجنسی کے دفتر لے جایا گیا جہاں تشدد کے دوران وہ جان کی بازی ہار بیٹھے۔ تاہم مدعا غائب کرنے کے لیے خفیہ والوں نے سید سلیم شہزاد کی لاش کو ان کی گاڑی میں ڈال کر این ایل سی کے ٹرالر کے ذریعے اسلام آباد سے منڈی بہاولدین منتقل کیا اور وہاں ان کی گاڑی کو ایک نہر میں پھینک دیا گیا۔ بعد ازاں نیویارک ٹائمز کی 4 جولائی 2011 کی رپورٹ میں ایک امریکی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ ’اس قتل کے تمام اشارے واضح کرتے ہیں کہ سلیم شہزاد کی ہلاکت دانستہ طور پر کی گئی ٹارگٹ کلنگ تھی جس کا مقصد پاکستان کی تمام صحافی برادری کو دہشت زدہ کرنا تھا۔‘
جب نیویارک ٹائمز نے قتل کے بارے میں آئی ایس آئی کے ترجمان سے پوچھا تو اس نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سید سلیم شہزاد کے قتل کے حوالے سے امریکی سی آئی اے نے معلومات اکٹھی کی تھیں جو کہ نیویارک ٹائمز کو لیک کی گئیں۔ سلیم شہزاد اسلام آباد میں ایشیا ٹائمز آن لائن کے بیورو چیف تھے۔ ان کے قتل کی فوری وجہ ایشیا ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر بنی جس کے مطابق پاکستان بحریہ کے کراچی مہران بیس پر القاعدہ شدت پسندوں کے حملہ کی فوری وجہ القاعدہ اور بحریہ افسران کے درمیان رابطوں کا منقطع ہو جانا تھا۔ 29 مئی 2011 کو سلیم شہزاد اسلام آباد میں اپنے گھر سے ایک ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دینے کے لیے نکلے اور پھر لاپتہ ہو گے۔ اسی دوران پاکستان میں ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے علی دایان حسن نے بتایا کہ سلیم شہزاد نے کہا تھا کہ اگر وہ لاپتہ یا قتل ہو جائیں تو اسکی ذمہ داری آئی ایس آئی پر عائد ہوگی۔ پھر31 مئی کو پولیس نے اطلاع دی کہ اسلام آباد سے ایک سو چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤالدین میں ایک نہر میں گری ہوئی گاڑی سے سلیم شہزاد کی لاش ملی ہے جس پر تشدد کے نشانات ہیں۔ تب صحافی برادری اس قتل کی ذمہ داری آئی ایس آئی پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلیم کا قتل دراصل صحافیوں کے لیے انتباہ ہے کہ حد سے زیادہ مت بڑھو اور اوقات میں رہو۔ تاہم سلیم شہزاد کے بہیمانہ قتل کے دس برس بعد بھی چند سر پھرے صحافی اپنی آئینی حدیں کراس کرنے والے طاقتور ریاستی اداروں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اپنی حد میں رہنے پر آمادہ نہیں۔ لہذا صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ رکنے کی بجائے تیز تر ہو چکا ہے۔
