میری جان لینے کی کوشش کی گئی لیکن مجھے کوئی خوف نہیں: ٹرمپ

واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی، اور اس سے قبل بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں متعدد مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جن میں پنسلوانیا کے علاقے بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا کے پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ سالانہ ڈنر تقریب میں پیش آنے والا فائرنگ کا واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آئی ہو۔
صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کے باعث اس کی جان محفوظ رہی۔ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ زخمی اہلکار سے خود بات کر چکے ہیں اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھ رہا تھا، جسے سیکرٹ سروس کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو میں لے لیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ملزم کی تصویر اور سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی ہے۔اس موقع پر ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔صدر نے کہا کہ یہ تقریب آزادی اظہار اور اتحاد کے فروغ کے لیے منعقد کی گئی تھی، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر سیکیورٹی خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔
