سیٹلائٹ فون کی ریکوری کے بعد شہباز گل گہری دلدل میں

اسلام آباد پولیس کی جانب سے پارلیمنٹ لاجز میں شہباز گل کے کمرے پر چھاپے کے دوران ریکور ہونے والے جدید امریکی تھورایا سیٹیلائٹ فون نے عمران خان کے زیر حراست چیف آف سٹاف کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اس کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔ گرفتاری سے پہلے شہباز گل پارلیمنٹ لاجز کے کمرہ نمبر ایف 206 میں رہائش پذیر تھے اور زیادہ تر وقت عمران خان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر گزارا کرتے تھے۔شہباز کی نشاندہی پر پولیس ان کے ساتھ ان کے کمرے میں گئی اور تلاشی کے دوران ایک بغیر لائسنس پستول اور ایک جدید امریکی سیٹلائٹ فون بھی برآمد کیا، اس کے علاوہ شہباز کے فلیٹ سے ڈھیروں پاسپورٹس، کریڈٹ کارڈز اور پرانے موبائل فونز برآمد ہوئے۔

پارلیمنٹ لاجز کے کمرہ نمبر 6 کی تلاشی کے دوران برآمد ہونے والے سیٹلائٹ فون بارے شہباز گل نے آن کیمرہ بیان دیا ہے کہ یہ سیٹلائٹ فون ان کا نہیں بلکہ ان کی پارٹی کی ملکیت ہے، تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا امریکی فون ویسا ہی ہے جیسا کہ CIA نے افغان جنگ کے دوران اپنے خفیہ ایجنٹس کو فراہم کیے تھے، تھورایا فون کی تینوں اقسام کو دنیا کے کسی ملک میں استعمال کرنے کی سرعام اجازت نہیں، اور صرف خفیہ ایجنسی کے افراد ہی اسے استعمال کرتے ہیں۔
اس اعتبار سے شہباز گل سے تفتیش کا سلسلہ ایک نئے رخ پر ڈال دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس فون سے آخری کمیونیکیشن کا رکارڈ مرتب کرنا شروع کر دیا ہے، اب تفتیش کاروں کی جانب سے یہ سننے میں آرہا ہے کہ شھباز گل کوئی عام ملزم نہیں رہا۔ ذرائع کے مطابق یہ اندازہ لگانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ شہباز گل کہیں پاکستان میں امریکی آلہ کار یا ایجنٹ نہ ہو۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ جب شہباز گل کی گرفتاری ہوئی، تو تحریک انصاف نے اپنے تمام سوشل میڈیا ہینڈلرز کو ایک ہی طرح کی مخصوص فوج مخالف مہم شروع کرنے کا حکم دیا، تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ اب سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے، ممکنہ طور ایک خفیہ امریکی ایجنٹ کو بچانے کیلئے تمام ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں، ایسے میں اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ شہباز گل کا بغاوت کیس فوجی عدالت میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر لے۔

یاد رہے کہ شہباز گل کے کمرے سے برآمد ہونے والی چیزوں میں ایک لوڈِڈ ریوالور بھی شامل ہے جس کے متعلق شہباز گل کا کہنا تھا کہ اسے اس کے متعلق علم نہیں اور اس نے یہ ریوالور کبھی نہیں دیکھا، اس نے بتایا کہ میرے پاس ایک اے کے 47 رائفل بھی ہے، جس کا لائسنس موجود ہے۔ لیکن برآمد ہونے والے پستول کا لائسنس نہیں مل پایا جس کے بعد شہباز گل کے خلاف غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام پر کیس درج کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ شہباز گل کےکمرے سے درجنوں چھوٹے موبائل فون اور یو ایس بیز بھی ملی ہیں۔ کمرے سے گل کا پرس بھی ملا جس میں دو شناختی کارڈز سمیت درجنوں بھر کریڈٹ کارڈز بھی برآمد ہوئے، اسکے علاوہ دو پاسپورٹس بھی ملے، کمرے میں موجود الماری کافی مہنگے کپڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ شہباز گل کا کہنا تھا کہ اس نے تو اپنا پرس گرفتاری کے وقت گاڑی میں چھوڑ دیا تھا لیکن پھر وہ کمرے میں کیسے آ گیا انہیں کوئی علم نہیں، گل نے بتایا کہ اسکا پرس ڈرائیور کے پاس ہوتا تھا، شہباز گل کا کہنا تھا کہ جب سے وہ گرفتار ہوئے ہیں اس کمرے میں کوئی نہ کوئی ضرور آیا ہے اور اسی لیے ساری چیزیں آگے پیچھے ہو چکی ہیں۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز گل کے کمرے سے برآمد ہونے والے سیٹلائٹ فون کا فرانزک تجزیہ کروایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ موبائل یا سیل فونز کے برعکس، سیٹلائٹ فونز میں مختلف ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔ لینڈ لائن فون کی طرح زمین میں بچھے تاروں، یا موبائل کی طرح سیلولرنیٹ ورکس پر انحصار کرنے کے بجائے سیٹلائٹ فونز خلا میں انتہائی بلندی پر گردش کرتے ہوئے مواصلاتی سگنلز کے ذریعے کام کرتے ہیں۔ یعنی سیٹلائٹ فون کو پیغام بھیجنے یا وصول کرنے والے سگنلز خلا میں موجود مواصلاتی سیارے سے ملتے ہیں اور آپ اس کی مدد سے دنیا کے کسی بھی حصے سے، اور کسی بھی فون پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Back to top button