بلوچستان میں بارشوں سے تباہی، گوادر، کوئٹہ کا زمینی راستہ منقطع

بلوچستان میں بارشوں سے شدید تباہی، گائوں ندیوں، دریائوں کا منظر پیش کرنے لگے، سندھ کے مختلف علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹے سے ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے جہاں سب سے زیادہ بارش حیدرآباد میں 101 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش اور بونداباندی ریکارڈ کی گئی جہاں کراچی ائیرپورٹ اولڈ ایریا پر 4.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
اس کے علاوہ حیدرآباد سٹی 101، بدین 90، میرپور خاص 84، ٹنڈو جام 80، چھور 77، سکرنڈ 69، پڈعیدن 65 اور شہید بے نظیر آباد میں 61 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، روہڑی 41، ٹھٹھہ 33، خیرپور 31، دادو 30، سکھر اور موہن جودڑو 24،24، لاڑکانہ 21 اور جیکب آباد 4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
آج صبح 8 بجے تک سانگھڑ میں 37.6 ، پی اے ایف بیس بھولاری میں 58.5، اسلام کوٹ میں 2، ننگرپارکر میں 15، چھاچھرو میں 58 اور ڈپلومہ 52 ملی میٹر بارش ہوئی۔
دریں اثنا پانی کے شدید دبائو کے باعث 21 ڈیمز دباؤ بر داشت نہ کر پائے، 5 سال کے دوران کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے 21 ڈ یمز ٹوٹ گئے اور ڈیمز سے نکلنے والے سیلابی ریلوں نے صوبے میں جہاں تباہی مچائی وہیں یہ ریلے بلوچستان کی معیشت کو بھی بہا لے گئے۔
دوسری جانب ٹھیکے داروں نے ڈیمز ٹوٹنے کی وجہ ناقص تعمیراتی مٹیریل اور کرپشن کو قرار دے دیا، یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی معائنہ ٹیم نے بھی حالیہ بارشوں سے کئی ماہ قبل ہی کئی ڈیمز کی تعمیر کو ناقص قرار دیا تھا تاہم حکومت نے کوئی ایکشن نہ لیا اور نہ ہی ڈیمز کی مرمت کرائی۔ تباہی کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ناقص تعمیر پر ایکشن لینے کا اعلان کر دیا۔

Back to top button