اسٹیبلشمنٹ کا داغا میزائل اسی کی جانب کیوں چل پڑا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ آج سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکافاتِ عمل کے سوا اور کچھ نہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں 2010 سے اسٹیبلشمنٹ کے کرداروں کو سمجھاتا رہا کہ وہ عمران کو مصنوعی طور پر لیڈر نہ بنائیں یا پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو ٹھکانے لگانے سے باز رہیں، اس موضوع پر میری درجنوں جرنیلوں سے بات ہوئی لیکن افسوس کہ ان کے پاس اپنی ہی ایک چارج شیٹ ہوا کرتی تھی اور وہ ایسا تاثر دیتے تھے جیسے عمران کو لیڈر بنا کر وہ پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ ہم سیاستدانوں کو الگ سے سمجھاتے رہے کہ وہ پنگے نہ لیں لیکن ان پر بھی کوئی اثر نہیں ہوا، ارشاد بھٹی اور حامد میر صاحب گواہ ہیں کہ 2018 کے الیکشن سے چند روز قبل ایک اہم شخصیت سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کی منتیں کیں کہ ان کا ادارہ عمران کو وزیراعظم بنوانے سے باز رہے ورنہ بھگتے گا۔

ظاہر ہے ہم جیسے غریبوں کی بات کون سنتا ہے لیکن یہ دونوں گواہ ہیں کہ رُخصت کے وقت میں نے ان سے عرض کیا کہ سر! جب فیصلہ ہوچکا ہے تو صرف سلیم صافی کیا اگر پورا پاکستانی میڈیا بھی مزاحم ہو تو عمران کو وزیراعظم بننے سے نہیں روکا جا سکتا لیکن آپ لوگ اس بندے کے بارے میں حد سے زیادہ حسنِ ظن کا شکار ہیں یا پھر نواز شریف کی نفرت غالب آگئی ہے، لیکن ریکارڈ کے لیے میری یہ بات لکھ کر رکھ لیجئے کہ عمران آپ سے نواز شریف اور زرداری کو بھی بخشوا دے گا۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں نواز شریف اور آصف علی زرداری تو کیا، منظور پشتین وغیرہ نے بھی کبھی فوج کے بارے میں وہ لہجہ استعمال نہیں کیا جو یہ شخص استعمال کر رہا ہے۔ معیشت، سفارت اور معاشرت تباہ کرنے کے بعد اب یہ فوج کے ادارے کے پیچھے پڑ گیا ہے اور اسے اس لئے تنقید کا نشانہ نہیں بنا رہا کہ وہ نیوٹرل بن کر اپنے آئینی کردار تک محدود ہوجائے بلکہ بلیک میلنگ کے ذریعے اسے دوبارہ سیاسی کردار ادا کرنے اور اپنی سرپرستی بحال کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔سلیم صافی کہتے ہیں کاش اس وقت اسٹیبلشمنٹ ہماری بات مان لیتی اور خان کو وزیراعظم بنوانے کا کام نہ کرتی لیکن افسوس کہ ماضی سے سبق سیکھنے کی بجائے عمران کی صورت میں نیا تجربہ کرنا ضروری سمجھا گیا، جس کا خمیازہ آج ملک کے ساتھ اسے بنانے اور لانے والے خود بھی بھگت رہے ہیں۔ اُمید ہے انہیں مزہ آ رہا ہوگا، صافی کہتے ہیں کہ اللہ کرے اب اسٹیبلشمنٹ اس تجربے سے سبق سیکھے اور سیاست سے کنارہ کش ہوکر خود کو خالص آئینی اور دفاعی کردار تک محدود کر لے۔ دوسری طرف عمران خان کے سامنے نواز شریف کی تازہ ترین مثال موجود تھی۔

انہیں ان کے انجام سے سبق لے کر فوجی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ نہیں بننا چاہئے تھا لیکن اقتدار تک رسائی کا جنون ان کے سر پر اس قدر سوار تھا کہ انہوں نے ایجنسیوں کے ہر حکم کے سامنے سرِتسلیم خم کیا اور ان کے حکم پر ہر جائز اور ناجائز کام کرتے رہے، ایجنسیوں نے انہیں کہا کہ شاہ محمود، اسد عمر اور فلاں فلاں کو فلاں فلاں عہدے دو تو انہوں نے دیئے، ایجنسیوں نے انہیں دھرنا دینے کا کہا تو وہ اس کے لیے تیار ہوئے۔ پھر ایجنسیوں نے انہیں دھرنا خاتمے کا حکم دیا تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہوگئے۔ ایجنسیوں نے ان کے لیے الیکشن 2018 میں آرٹی ایس فیل کرایا۔

پھر ان کے لیے پولنگ ایجنٹس کمروں سے نکال کر ٹھپے لگوائے گئے اور خان صاحب خوشیاں مناتے رہے۔ وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد بھی انہوں نے حکومت آئوٹ سورس کر دی، بقول صافی، جب یوسف رضا گیلانی سینیٹر بنے اور عملاً عمران پر عدم اعتماد ہوگیا تو انہوں نے نیوٹرلز کی منتیں شروع کر دیں اورنتیجتاً ان کے لیے راتون رات پارٹی کے ناراض ایم این ایز کنٹینروں اور کمروں میں بند کردیئے گئے۔ صبح خان صاحب کے حق میں جبرا ًووٹ ڈلوائے گئے۔ لیکن آج حالات یہ ہیں کہ وہی خان صاحب فارغ کیے جانے کے بعد دوبارہ سے گود چڑھنے کی منتیں کر رہے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ ان کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ یہ ان سیاستدانوں کے لیے سبق ہے جو اقتدار تک رسائی کے لیے کہ اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بنتے ہیں اور پھر عوامی حمایت سے محروم ہو کر بکھر جاتے ہیں، دوسری جانب وہی عمران جب اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھاتے ہیں تو اسے بجا طور پر غصہ آتا ہے کہ ہماری بلی اور ہمیں کو میائوں۔

Back to top button