شنیرا وسیم اکرم نے پاکستانیوں پر نسلی تعصب کا الزام کیوں لگایا؟


قومی کرکٹ کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا نے بتایا یے کہ انہیں شادی کے بعد پاکستان میں مختلف حوالوں سے نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے ان سے متعلق ہر طرح کی فضول باتیں کیں۔ شنیرا نے کہا کہ نسل پرستی ایک بیماری ہے اور اسی وجہ سے شادی کے بعد یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا وسیم اکرم اور میری جلد سے الگ طرح کی بو آتی ہے؟
تعصب کسی بھی نوعیت کا ہو ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے خاص طور پر امریکی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد دنیا بھر میں لوگ اپنے ساتھ پیش آنے والے نسل پرستانہ رویے کے خلاف کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔ اسی حوالے سے سابق فاسٹ باؤلر وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا نے اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے شوہر کو کہا گیا ہے کہ انہوں نے دوسرے ملک کی لڑکی سے صرف اس لیے شادی کی کہ وہ گوری تھی؟ انہوں نے لکھا کہ پھر ان کی شادی پر طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں اور ان کی جوڑی سے متعلق مختلف سوالات کیے جانے لگے اور پوچھا جانے لگا کہ کیا ان دونوں کی جلد سے الگ بو آتی ہے؟۔ شنیرا اکرم کے مطابق یہ بھی کہا جانے لگا کہ وسیم اکرم نے کسی دیسی لڑکی یا پھر گہری رنگت والی خاتون سے شادی کیوں نہیں کی؟ شنیرا اکرم نے لکھا کہ ان سے کہا گیا کہ شادی کے بعد جب ان کے بچے ہوں گے وہ تذبذب کا شکار رہیں گے جبکہ وسیم اکرم کے پہلی بیوی کے بچے ایک گوری کو کبھی بھی اپنی سوتیلی ماں کے روپ میں قبول نہیں کریں گے۔
شنیرا اکرم نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ سب بیکار باتیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ وہ آج بھی ایک ساتھ ہیں اور ان کا ایک ساتھ زندگی گزارنا اس بات کا ثبوت ہے کہ رنگ و نسل کی تفریق کچھ نہیں ہوتی، اصل میں محبت اور ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنا ہی اہم ہے۔ انہوں نے رنگ و نسل کے فرق کو مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ نسلی تعصب صرف پریشانی پھیلاتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں نسلی تعصب کو مسترد کرنے اور اسے عقیدے کی بجائے بیماری قرار دینے کے ہیش ٹیگز بھی استعمال کیے۔ شنیرا نے اپنی پوسٹ میں شوہر اور اپنے ہاتھوں کی ایک تصویر بھی شیئر کی اور لوگوں کو رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر محبت کرنے کا طاقتور پیغام دیا۔
شنیرا اکرم کی مذکورہ پوسٹ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب رنگ و نسل اور خصوصی طور پر سیاہ فام افراد کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر دنیا بھر میں احتجاج جاری ہے۔ مذکورہ احتجاج گزشتہ ماہ 25 مئی کو امریکی شہر مینیا ایپلس میں پولیس کے ہاتھوں قتل کیے گئے سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے اور لوگوں نے نسلی تصب کے خلاف باتیں کرنا شروع کیں۔ اسی مہم کے بعد ہی شنیرا اکرم نے بھی اپنی پوسٹ میں نسلی تعصب کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے لوگوں کو رنگ و نسل سے بالاتر ہوکر محبت کے جذبے کے تحت تعلقات استوار کرنے کی ہدایت کی۔
خیال رہے کہ شنیرا اکرم نے 2013 میں وسیم اکرم سے 30 برس کی عمر میں شادی کی تھی اور ان کے ہاں 2014 میں بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ شنیرا اکرم کا تعلق آسٹریلیا سے ہے، تاہم انہوں نے شادی کے بعد جلد ہی پاکستانی روایات اور ثقافت کو اپناتے ہوئے پاکستانیوں کے دل جیتے۔ وسیم اکرم کی پہلی اہلیہ ڈاکٹر ہما 2009 میں انتقال کر گئی تھیں اور سابق کرکٹر کو پہلی اہلیہ سے 2 بیٹے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button