تحریک انصاف کی حکومت میں گدھوں کی تعداد کیوں بڑھ گئی؟

عمران خان کی تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ گھوڑوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔ یعنی موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ملک میں گھوڑوں کے مقابلے میں گدھے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ سالوں میں گدھوں کی تعداد میں اضافے کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ عثمان بزدار کی حکومت پنجاب نے دو برس قبل گدھوں کی افزائش کا منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت حکومت نہ صرف گدھوں کی افزائش نسل کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ اس حوالے سے تکنیکی مہارت بھی فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں گذشتہ دو برس کے دوران گدھوں کی تعداد میں دو لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر سال ملک میں ایک لاکھ گدھوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اقتصادی سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے تاہم گھوڑوں اور اونٹوں کی تعداد میں کمی ہوئی یے۔ اقتصادی سروے رپورٹ 2019-20 کے مطابق رواں برس پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 54 لاکھ سے بڑھ کر 55 لاکھ ہوگئی ہے جبکہ گھوڑوں، اونٹوں اور خچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ سے بڑھ کر 4 کروڑ 12 لاکھ ہوگئی ہے ، ایک سال میں بھیڑوں کی تعداد میں 3 لاکھ کا اضافہ ہوگیا، بھیڑوں کی تعداد 3 کروڑ 9 لاکھ سے بڑھ کر 3 کروڑ 12 لاکھ ہوگئی۔ ملک میں بکریوں کی تعدادمیں 21لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور بکریوں کی تعداد 7 کروڑ 61 لاکھ سے بڑھ کر 7 کروڑ 82 لاکھ ہوگئی ہے۔ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق ملک میں اونٹوں کی تعداد 11 لاکھ ہے، ایک سال میں مویشیوں کی تعدادمیں 18 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے، مویشیوں کی مجموعی تعداد تعداد 4 کروڑ 78 لاکھ سے بڑھ کر 4 کروڑ96لاکھ ہوگئی ہے۔ایک سال میں پولٹری کی تعداد میں 12کروڑ 20 لاکھ کا اضافہ ہوا، پولٹری کی تعداد 1 ارب 32 کروڑ 10لاکھ سے بڑھ کر 1 ارب 44 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق بھینسوں کی تعداد میں بارہ لاکھ اضافہ ہوا اور ان کی تعداد بڑھ کر چار کروڑ بارہ لاکھ ہو گئی۔ رواں مالی بھیڑوں کی تعداد میں تین لاکھ اضافہ ہوا جبکہ بکریوں کی تعداد سات کروڑ اکسٹھ سے بڑھ کر سات کروڑ بیاسی لاکھ ہو گئی ہے اسی طرح رواں مالی سال اونٹوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ۔ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا مزید اضافہ ہو گیا،خچر، گھوڑوں کی تعداد گزشتہ مالی سال کے برابر رہی، ملک میں گدھوں کو ٹوٹل تعداد پچپن لاکھ ہے۔
ماہرین کے مطابق گدھوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ ان کی برآمد پر عائد پابندی ہے۔ 2015 میں جب یہ خبریں آئیں کہ گدھوں کا گوشت مارکیٹ میں فروخت کر دیا جاتا ہے اور ان کی کھالیں چین بھیج دی جاتی ہیں، تو اس وقت سے گدھوں اور ان کی کھالوں سے بنی مصنوعات پر پابندی عائد ہے۔ محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری خالد محمود چودھری کا کہنا ہے کہ ملک میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ایک قدرتی عمل ہے۔ صرف لاہور میں 50 ہزار سے زائد گدھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے دو برس قبل گدھوں کی افزائش کا منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت حکومت نہ صرف گدھوں کی افزائش کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ تکنیکی مہارت بھی فراہم کرتی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک خیبر پختونخوا ڈاکٹر شیر محمد کا کہنا ہے کہ ہمارے صوبے میں گدھے مارنے پر پابندی ہے یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے گدھوں کے بڑھنے کی۔ انہوں نے کہا کی ان کی صوبائی حکومت اور چینی کمپنیوں کے درمیان گدھوں کی برآمد کے حوالے سے ایک معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔ چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد پاکستان میں گدھوں کی افزائش کا بڑا پروگرام بھی شروع کریں گے۔ معاہدہ ہوگیا تو اس سے ملکی معیشت کو سالانہ اربوں روپے ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں سات ہزار سے زائد خاندانوں کا رزق گدھوں سے وابستہ ہے۔ چینی کمپنیوں کے تعاون سے ان خاندانوں کے گدھوں کی افزائش کیلئے حوصلہ افزائی کی جائیگی اور معقول رقم بھی دی جائیگی۔
