حکومتی مجموعی قرضے جی ڈی پی کے 88 فیصد سے بڑھ گئے

جولائی 2019 سے مارچ 2020 تک کے عرصے میں ملک کا مجموعی قرض اور واجبات 20 کھرب 59 ارب 70 کروڑ روپے تک جا پہنچے۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق قرض و واجبات مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی) کے 102.6 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔
اس میں سب سے زیادہ اضافہ حکومت کے مقامی قرضوں کی وجہ سے ظاہر ہو رہا ہے جو اس عرصے کے دوران 10 کھرب 74 ارب 60 کروڑ تک بڑھ چکے ہیں جبکہ بقیہ اضافہ حکومت کے غیر ملکی قرض سے ہوا جو 6 کھرب 3 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔سروے کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2020 تک سرکاری قرض جی ڈی پی کے 84.4 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔
دوسری جانب مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے پریس کانفرنس میں سرکاری قرض جی ڈی پی کے 88 فیصد تک پہنچے کا اعلان کیا جس میں مارچ سے اب تک لیے گئے قرض مثال کے طور پر اپریل میں آئی ایم ایف سے لیے گئے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر بھی شامل ہیں۔تاہم گزشتہ برس قرض کی جی ڈی پی کے مقابلے میں شرح 74.2 فیصد تھی۔
سروے میں کہا گیا کہ حکومت نے جولائی سے مارچ کے عرصے میں بجٹ سپورٹ کے لیے 20 کھرب 80 ارب روپے کا قرض لیا جبکہ ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ 5 کھرب شامل ہوئے۔اسی طرح ملکی قرض کا عرصہ تیزی سے طویل مدت کی جانب منتقل ہوا۔
مارچ تک 3 ماہ کے ٹریژری بلز میں ملکی قرضوں کا 28 فیصد حصہ تھا جو کہ جولائی میں 100 فیصد ہوگیا۔رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے عرصے میں زیادہ ملکی قرض درمیانی سے طویل مدتی سرکای سیکیورٹیز(پی آئی بیز) اور این ایس ایس کے ذریعے لیا گیا۔اس کے علاوہ حکومت ایک قرض کا انسٹرومنٹ متعارف کروانے کے عمل میں ہے جس کا ہدف سمندر پار پاکستانی ہیں اور یہ اوورسیز پاکستانیز سیونگز بل کہلائے گا۔یہ انسٹرومنٹ 3، 6 اور 12 ماہ کے پیپر پر ڈالر کی بنیاد پر بالترتیب 5.5 فیصد، 6.0 فیصد اور 6.5 فیصد کے ریٹرنز پیش کرے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض حالیہ برسوں میں ریونیو کی وصولی کے تناسب سے تیزی سے بڑھا ہے۔
حکومت کو رواں مالی سال کے اختتام تک قرضوں کے جی ڈی پی کی شرح کے حساب سے کم ہونے کی توقع تھی لیکن کووِڈ 19 نے اس امید پر پانی پھیر دیا۔سروے کا کہنا تھا کہ اس کی ’بڑی وجہ نمو میں تیزی سے کمی اور بجٹ خسارے میں اضافہ ہے‘۔اسی طرح ابتدائی 9 ماہ کے عرصے میں سود کی ادائیگی 18 کھرب 80 ارب روپے رہی جو سالانہ بجٹ کے حساب سے 28 کھرب 91 ارب روپے تھی۔شرح سود میں 5.5 فیصد پوائنٹس کے تیزی سے گرنے کی وجہ سال کے آخر تک سود کی ادائیگی کم رہنے کا امکان ہے۔جولائی سے مارچ کے عرصے میں سرکاری قرض ریونیو کا 57.5 فیصد نگل چکے تھے جبکہ سال 2013 سے 2018 تک یہ تناسب 40 فیصد تھا۔
