تاجروں و صنعتکاروں نے وفاقی بجٹ کو غیر متوازی قرار دے دیا

تاجروں اور صنعتکاروں نے حکومت کی طرف سے پیش کردہ آئندہ مالی سال 2020-21 کا بجٹ غیر متوزی قرار دے دیا. تاجر رہنما میاں زاہد حسین نے وفاقی حکومت کے بجٹ کو اسٹیٹس کو کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے بعد معیشت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت کی جانب سے اپنا دوسرا بجٹ پیش کرنے کے بعد اپنے ردعمل میں سابق چیئرمین کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میاں زاہد حسین نے کہا کہ یہ ایک اسٹیٹس کو بجٹ ہے اس میں کوئی خاص سمت نہیں ہے، کورونا کے بعد معیشت کی شروعات کے لیے بجٹ میں کوئی چیز شامل نہیں ہے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا زیرو ریٹنگ کا مطالبہ تھا اس پر کوئی بات نظر نہیں آئی جس کو ہمیں کرنا تھا، گورننس میں بھی کوئی خاص اقدام نظر نہیں آیا۔میاں زاہد حسین کا کہنا تھا کہ ریونیو کے شعبے خاص کر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں خاصے اقدامات بتائے ہیں جو بظاہر کاروباری برادری کے لیے اچھی نہیں ہیں لیکن جب تفصیلات آئیں گی تو دیکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ محسوس ہوتا ہے کاروباری برادری کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ آڈٹ کو ایک دوسال کے لیے مؤخر کیا جائے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس کو انہوں نے مزید سخت کردیا ہے۔
سابق چیئرمین کاٹی کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مجموعی طور پر کاروباری سرگرمیوں میں شاید مشکلات میں مزید اضافہ ہو۔
معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد نے کہا کہ بجٹ مجموعی طور پر زیادہ برا نہیں ہے، امپورٹ اور کسٹم ڈیوٹیز میں ریلیف ہے اور اسی طرح ہوٹل کی صنعت پر بھی کچھ ریلیف ہے تاہم اس کو 6 مہینے کے بجائے پورے سال کے لیے ہونا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ ٹیکس نہیں لگائے گئے تو ٹیکس کم بھی نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ پنشن اور تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونا اچھا فیصلہ ہے کیونکہ یہ صرف سرکاری ملازمین کے لیے جبکہ اس وقت دہاڑی دار اور دیگر کمزور طبقوں کو مدد کی ضرورت ہے۔
لاہور چیمر آف کامرس کے عہدیداران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کورونا وائرس کے باعث صحت سے متعلق اشیا پر ریلیف دیا ہے جو اچھی چیز ہے جبکہ آڈٹ سے متعلق الیکٹرونک نظام سے نمائندوں کو براہ راست جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ حالات میں اچھا بجٹ پیش کرنا مشکل کام تھا، حکومت نے اپنے اخراجات کم کیے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ مزید کم ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں جس طرح ہم نے ریلیف مانگا تھا اس طرح نہیں دیا گیا ہے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے71 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا جس میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران ہمارے رہنما اصول رہے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، سرکاری اداروں میں زیادہ شفافیت لائی جائے، احتساب کا عمل جاری رکھا جائے اور ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں میرٹ پر عمل درآمد کیا جائے۔
