صحافیوں کی گرفتاری: سپریم کورٹ مشکل میں پھنس گئی


سپریم کورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صحافیوں کی گرفتاریوں اور ہراسانی کے خلاف جسٹس فائز عیسی کا تشکیل کردہ دو رکنی بنچ تو ختم کر دیا لیکن جسٹس عیسیٰ کی جانب سے جسٹس بندیال کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دینے کے بعد اب صورت حال مزید گھمبیر ہو گئی ہے اور پانچ رکنی بینچ کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے 25 اگست کو اس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس بندیال نے یہ ریمارکس دے دئیے کہ ہمارا سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے حکم میں مداخلت کا ارادہ نہیں ہے اور اگر کوئی مناسب وجہ نہ ہوئی تو صحافیوں کا کیس دوبارہ دو رکنی بینچ کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے یہ ریمارکس دیئے کہ صحافیوں کی گرفتاری کے خلاف دائر کردہ آئینی درخواست کی سماعت کے لیے موجودہ پانچ رکنی بنچ میں جسٹس فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ 20 اگست کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مندوخیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی تھی۔ اسی روز ایک عدالتی حکم میں بینچ نے کہا تھا کہ درخواست میں اٹھایا گیا بنیادی حقوق کا معاملہ عوامی مفاد کا ہے لہٰذا یہ آئین کی دفعہ 184(3) کے ذریعے از خود نوٹس لینے کے اختیار پر پورا اترتا ہے۔ تاہم قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لینے کے اختیار کی وضاحت کرنے کے لیے ایک 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا تھا۔ لارجر بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔
حیران کن طور پر نئےبنچ نے جسٹس فائز عیسی بنچ کے 20 اگست کے حکم کو معطل کردیا تھا اور قرار دیا تھا کہ پہلے دو رکنی بینچ کے فیصلے کا دائرہ اختیار دیکھا جائے گا کہ کیا وہ ایسا کرنے کا مجاز تھا بھی یا نہیں۔ لارجر بنچ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبداللطیف آفریدی اور درخواست گزار صحافیوں کو 25 اگست کے روز دوبارہ کیس کی تیاری کرکے عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ کیس کی سماعت کے آغاز پر اتارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے کہا عدالتی حکم پر اپنی رائے دینے سے پہلے کچھ وضاحت دینا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ایک خط لکھا ہے، جسٹس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے ایک بینچ کی مانیٹرنگ دوسرا بینچ نہیں کر سکتا، خط میں کہا گیا ہے کہ ایک بینچ دوسرے بینچ کی کارروائی کاجائزہ بھی نہیں لے سکتا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1977 میں ایک بینچ کو دوسرے بینچ کیخلاف احکامات دیتے دیکھا ہے، تاہم مجھے یقین ہے کہ یہ عمل دوبارہ نہیں دوہرایا جائے گا، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عام طور پر ایک ہی مقدمہ مختلف بینچز کے سامنے سماعت کے لیے مقرر ہوتا رہتا ہے جبکہ ضرورت کے پیش نظر ایک بینچ دوسرے بینچ کے احکامات میں ترمیم، تبدیلی بھی کرتا رہتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ کا ایک بینچ دوسرے بینچ کے احکامات پر اپنا حکم جاری نہیں کر سکتا، انکا کہنا تھا کہ میرے خیال میں صحافیوں کے کیس کی سماعت کرنے والا لارجر بنچ مانیٹرنگ بینچ نہیں ہے۔ اس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دئیے کہ سب سے اہم ایشو سپریم کورٹ کا وقار اور اسکا اتحاد ہے۔
جسٹس فائز عیسی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو سپریم کورٹ میں طلب کرنے کے حکم نامے پر عملدرآمد روک دینے والے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارا سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے حکم میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ لیکن دو رکنی بینچ کے حکم سے ایک مشکل سامنے آئی جسکا تدارک ضروری ہے، جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ میں نے ڈیڑھ سال فل کورٹ کی سربراہی کی ہے، اور اسی دوران مجھے اندازہ ہوا کہ بڑے بنچ بنانے سے عدالتی کام بلکل رک جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مناسب وجہ نہ ہوئی تو یہ کیس دوبارہ دو رکنی بینچ کے سامنے چلا جائے گا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ عدلیہ کے ادارے پر اعتماد نہ کرنا بھی ایک اہم پہلو ہے، چیزوں کو تباہ کرنا آسان ہے لیکن بنانا بہت مشکل ہوتا ہے لہازا اگر کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا تو موجودہ عدالتی نظام نہیں چل سکتا۔
دوران سماعت اتارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ہمشیہ روایت رہی ہے کہ نوٹسز جاری کرکے معاملہ چیف جسٹس کو بنچ کی تشکیل کے لیے بھیجا جاتا رہا۔ اٹارنی جنرل نےماضی کے مختلف فیصلوں اور احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سال 2005 میں ازخودنوٹس کے ایس او پیز جاری کیے گئے، جن کے مطابق کوئی بھی بنچ سوموٹو نوتس لینے کی سفارش چیف جسٹس کو بھیجے گا، اور یہ اختیار چیف جسٹس کا ہو گا کہ سو موٹو نوٹس کس بنچ کو رنا ہے ور کب مقرر کرنا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 2016 میں نیب اختیارات پر بھی اخک بنچ نے ازخود نوٹس کی سفارش کی تھی۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آپ جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں وہ دو رکنی بنچ کی سفارش تھی، نوٹس لینے کی سفارش کے بعد تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جبکہ تین رکنی بنچ میں سفارش کرنے والا کوئی جج شامل نہیں تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا ک قاضی فائز کے بنچ نے جوڈیشل آرڈر دیا ہے۔ ماضی میں ججز از خود نوٹس لیکر معاملہ چیف جسٹس کو بھیجتے رہے ہیں۔ لہازا کیس کب سنا جانا ہے اور کونسا بنچ سنے گا اسکا تعین چیف جسٹس نے کرنا ہوتا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ جسٹس قاضی کے 20 اگست کے حکم میں کوالٹی ہے۔ یہ حکمنامہ مفاد عامہ کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو مدنظر رکھ کے دیا گیا۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید جان نے سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کو معاملے کے حل کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے 20 اگست کے حکم کو تھوڑا سا بہتر کردیا جائے تو معاملہ حل ہوجاۓ گا۔ انہوں نے کہا کہ قاضی فائر عیسی کے حکم کے مطابق صحافیوں کیس 26 اگست کو اسی بنچ میں لگانے کے حکم کو تبدیل کردیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ میری عدالت کو یہی تجویز ہے جو کہ مسئلے کے حل کے لیے قابل عمل ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے دو رکنی فائز عیسی بنچ نے 7 اگست 2021 کو سنیئر صحافی عامر میر اور وی لاگر عمران شفقت کی گرفتاری میں ایف آئی اے کی جانب سے اعلی عدلیہ کو ملوث کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔ پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی جانب سے دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے بعد 20 اگست کو عدالتی حکمنامے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو 26 اگست کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کیوں کی اعلیٰ عدلیہ آزادی اظہار کو یقینی بنانے کی بجائے صحافیوں پر جبر کے واقعات میں حکومت اور ریاست کی معاون اور مددگار بنی ہوئی ہے؟ اس کیس کی اگلی سماعت 26 اگست کے روز مقرر کی گئی ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے شروع کیا جانے والا یہ معاملہ اب کیسے حل ہوتا ہے؟

Back to top button