صداقت عباسی نے بھی عمران خان کو ننگا کر دیا

کپتان کے سیالکوٹی ٹائیگر عثمان ڈار کے بعد عمرانڈو صداقت عباسی نے بھی عمران خان کی معصومیت کا جنازہ نکالتے ہوئے بشریٰ بی بی اور عمران خان کو سانحہ 9 مئی کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صداقت عباسی نے انکشاف کیا کہ عمران خان کی گرفتاری سے پانچ روز قبل یعنی چار مئی کو جی ایچ کیو کے قریب ریلی نکالنے کا فیصلہ ہوا تھا جبکہ 7 مئی کو فیصلہ ہوا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری کی صورت میں آئی ایس آئی آفس اور جی ایچ کیو پر دھاوا بولنا ہے۔ نو مئی کے واقعات چیئرمین پی ٹی آئی کی ذہن سازی کا نتیجہ تھا۔ عمران خان نہیں چاہتے تھےکہ جنرل عاصم منیر آرمی چیف بنیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کابیانیہ اداروں کیخلاف تھا۔ 9مئی کو جو کچھ ہوا اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتا۔

صداقت عباسی کا کہنا تھا کہ سربراہ تحریک انصاف کے بیانیہ میں ایک سال میں شدت آگئی تھی۔7 مئی کو بشریٰ بی بی کی مشاور ت پر عمران خان نےایک زوم میٹنگ کی۔ عمران خان چاہتے تھے کہ ان کی گرفتاری پر بہت بڑا ری ایکشن آئے جس سے ادارے پریشر میں آجائیں اورپریشر میں آکر کوئی ڈیل ہوجائے۔ان کا بیانیہ مزاحمت کے بعد مفاہمت کا تھا لیکن مزاحمت کے بعد مفاہمت نہیں ہو سکی۔ مزاحمت میں ہمارے ملکی اداروں کا امیج خراب ہوا۔البتہ پی ٹی آئی در بدر ہو گئی ہے۔صداقت عباسی نے کہا کہ عمران خان نے واضح کیا کہ ہماری لڑائی اسٹیبشلمنٹ سے ہے، چھ مئی کی ریلی نکالنے کا مقصد بھی اسٹیبشلمنٹ کو پیغام دینا تھا۔نو مئی کی پلاننگ اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ہدایت عمران خان نے دی،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے حامی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف سرکاری اداروں کے خلاف متشدد خیالات رکھتے ہیں، جس نے اُن کے بقول ریاست کو کافی زیادہ نقصان پہنچایا۔

صداقت عباسی نے چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا یہ بات عام تھی کہ اگر وہ گرفتار ہو گئے تو پارٹی کارکنان سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ان اداروں سے ٹکرا جائیں گے جن کے انہوں نے نام لیے، اس سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب یہ لڑائی سیاسی نہیں رہی بلکہ اب یہ ایک مخصوص ادارے کے ساتھ لڑائی ہے۔ان سے سوال کیا گیا کہ پی ٹی آئی صورتحال کو مؤثر طریقے سے کیوں نہ سنبھال سکی؟ جواب میں صداقت علی عباسی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی’سخت مؤقف’ رکھنے والے لوگوں سے متاثر ہوچکے تھے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے اقدامات کے نتائج کا درست اندازہ نہیں لگایا تھا اور جب انہیں احساس ہوا تو بہت دیر ہو چکی تھی۔صداقت عباسی نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے سیاست سے بھی کنارہ کشی کا اعلان کرتے ہوئےپی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ مخالف ایجنڈے کی سختی سے مذمت بھی کی۔

خیال رہے کہ صداقت عباسی کئی مہینوں سے عوام کی نظروں سے غائب تھے اور خیال کیا جا رہا تھا کہ انہیں 9 مئی کے واقعات کے بعد اٹھا لیا گیا تھا۔انٹرویو کے دوران وہ یہ واضح کرنے سے قاصر نظر آئے کہ اتنے مہینوں کے بعد وہ اچانک 9 مئی کو ہونے والے پُرتشدد واقعات کی مذمت کرنےکیلئے کیوں منظرِعام پر آگئے۔جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ میں 9 مئی واقعہ ہونے کے بعد ایک ماہ تک ایک دوست کے پاس رہا، پھر میں فیملی کے ساتھ گلگت بلتستان چلا گیا۔صداقت علی عباسی نے انٹرویو کے دوران اعلان کیا کہ وہ سیاست چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ 9 مئی کے واقعات کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں ایسی کسی چیز کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتا جس سے میرے ملک کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسی طرح سے پی ٹی آئی کے روپوش رہنما عثمان ڈار بھی اچانک ٹی وی پر آئے اور ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے نو مئی کے واقعات کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیا اور مختلف دعوے بھی کیے تھے جبکہ پروگرام کے دوران ہی انہوں نے تحریک انصاف چھوڑنے اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

Back to top button