طاقتور مردوں کی کردار کشی کے لیے کمزور عورتوں کا استعمال

عمران خان کے حمایتی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر میجر عادل راجہ کی جانب سے چار ٹاپ پاکستانی اداکاراوں پر جنرل باجوہ اور جنرل فیض سے تعلقات کا الزام لگائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر سوال کیا جا رہا ہے کہ طاقت ور مردوں کی کردار کشی کے لیے کمزور عورتوں پر کیچڑ اچھالنا کہاں کی مردانگی ہے؟

پاکستان میں کسی بھی خاتون کو آن لائن ہراساں کرنا، اس کے خلاف منفی مہم چلانا یا اس پر الزامات عائد کرتے ہوئے اس کی کردار کشی کرنا ایک عام رحجان بن چکا ہے، ملک میں سوشل میڈیا پر بڑھتی سیاسی، معاشرتی اور نظریاتی تقسیم نے آن لائن ہراساں کرنے کے رحجان کو بہت فروغ دیا ہے اور بظاہر اس کا سب سے بڑا نشانہ عموماً پاکستانی خواتین ہی بنتی ہیں، اس بات سے قطع نظر کہ چاہے وہ کوئی اداکارہ ہوں، صحافی ہوں، سماجی شخصیت یا سیاستدان۔ گذشتہ چند روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پر چند معروف اداکاراؤں کی کردار کشی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف ایک منفی مہم چلائی جا رہی ہے۔ اس مہم کا آغاز تب ہوا جب ایک عمرانڈو وی لاگر نے جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو گندا کرنے کے لیے چار اداکاراؤں کا نام لے دیا۔ اس وی لاگ کے بعد سوشل میڈیا پر کبریٰ خان، مہوش حیات، سجل علی اور ماہرہ خان کی کردار کشی شروع ہو گئی اور ان کی جعلی ویڈیوز اور تصاویر شیئر ہونے لگیں۔

لیکن سوشل میڈیا پر خواتین پر الزامات لگانے کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں، ماضی میں بھی ہمیں درجنوں ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں خواتین کو سوشل میڈیا پر ٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار کشی بھی کی جاتی رہی ہے۔ لیکن خواتین کی کردارکشی اور ٹرولنگ صرف اداکارؤں تک محدود نہیں بلکہ اس کی لپیٹ میں تقریباً ہر شبعے سے تعلق رکھنے والے خواتین آتی ہیں، جیسا کہ سینئر صحافی عاصمہ شیرازی اور غریدہ فاروقی۔

انھیں ان کے کام کی وجہ سے کئی مرتبہ کپتان کے عمرانڈوز اور یوتھیوں کی جانب سے ٹرولنگ اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے خلاف اخلاق سے گرے ٹرینڈز بھی چلائے گئے۔ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے حنا پرویز بٹ کو بھی اکثر سوشل میڈیا پر ان کی مخالف سیاسی سوچ رکھنے والوں کی جانب سے ٹرول کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ یہ رویے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ٹرولنگ کے ساتھ ساتھ اب کردارکشی بھی کی جاتی ہے۔ کبھی کوئی ویڈیو تو کبھی کسی تصویر کو غلط رنگ دیا جاتا ہے۔ یہ سب باتیں بطور انسان اور بطور عورت انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ میں کوشش کرتی ہوں ایسی باتیں نہ پڑھوں لیکن آپ جو مرضی کر لیں آپ تک گالیاں اور اخلاق سے گری باتیں پہنچ ہی جاتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ میرا ایک بیٹا ہے، سوچیں کہ آپ کا بیٹا، باپ، گھر والے ایسی باتیں پڑھ یا دیکھ لیں تو ان کے لیے کتنی تکلیف دہ بات ہو گی۔ جو لوگ یہ سب کرتے ہیں وہ آپ کے بارے میں ایک غلط رائے بنانا چاہتے ہیں۔ لوگ اس رائے پر اس لیے یقین کر لیتے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ آپ بطور ماں کیسی ہیں یا بطور ایک بیٹی یا انسان کیسی ہیں۔‘ حنا پرویز بٹ نے بتایا کہ ’جب جب میری تصاویر یا ویڈیوز وائرل کر کے مجھے ٹرول کیا گیا تو میں سائبر کرائم کے محکمے میں گئی۔ شکایات بھی درج کروائی ہیں اور کئی اکاونٹس بند بھی ہوئے ہیں لیکن یہ تو ہر دوسرے دن کی کہانی ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی جھوٹی سوشل میڈیا مہم پر سوشل میڈیا صارفین بغیر کسی ثبوت کے باآسانی یقین کیسے کر لیتے ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’کسی بھی خاتون کے بارے میں جب ایسی منفی مہم چلائی جاتی ہے یا اسے ٹرول کیا جاتا ہے تو ایسا نہیں کہ بس کسی نے اٹھ کر کوئی وی لاگ بنا دیا اور الزام لگا دیا اور لوگ اس مہم کو اٹھا کر اس پر بات کرنے لگ جائیں۔ ایسی مہم  باقاعدہ طور پر ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ اس میں ایک بندہ بکواس شروع کرتا ہے جس کے بعد باقی لوگ پلان کے مطابق اس مہم کو اٹھاتے ہیں۔ نگہت داد کہتی ہیں کہ پاکستانی ادکاراؤں کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے اشارہ دیا۔ جس کے بعد مختلف لوگوں کی جانب سے ان خواتین کا نام بھی لیا گیا اور تصویریں آنا شروع ہو گئیں۔ یہی نہیں اگر آپ غور کریں تو ایسی مہم میں مواد بھی ہر جگہ ایک سا ہی ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک رہی بات لوگ ایسی باتوں پر اتنی آسانی یقین کیسے کر لیتے ہیں تو آپ یہ دیکھیں کہ اس کیس میں بھی ان خواتین کے نام لیے گئے ہیں جنھوں نے آئی ایس پی آر کے ڈاراموں میں کام کیا ہے۔ تاہم یہاں ہدف ان خواتین سے زیادہ کوئی اور تھا، لیکن کیونکہ یہ خواتین آسان ہدف تھیں اس لیے خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔‘ انھوں نے کہا کہ جو لوگ ایسی مہم ڈیزائن کرتے ہیں وہ انتہائی چالاکی سے یہ سب کرتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے کام کریں کہ وہ اپنی مرضی کی بات بھی کر لیں اور کسی قانون کی گرفت میں بھی نہ آئیں۔

اس طرح کے الزامات اور مہم کے قانونی پہلوؤں پر مزید بات کرتے ہوئے نگہت داد کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کے تحت ہمارے ملک میں باقاعدہ کوئی نظام دکھائی نہیں دیتا۔یہ قانون خواتین کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا لیکن قانون موجود ہونے کے باوجود بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ خواتین کو وہ تحفظ مل رہا ہے جو انھیں ملنا چاہیے۔ نگہت داد کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ یہ تمام خواتین اب آگے بڑھ کر ایسے لوگوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں جو کسی کی کردار کشی کرتے ہیں۔

اس حوالے سے جینڈر ایکسپرٹ اور سماجی کارکن ڈاکٹر فوزیہ سعید کہتی ہیں کہ ایسی باتوں پر لوگ اس لیے جلدی یقین کرتے ہیں کیونکہ انھیں مرچ مسالے لگا کر کی گئی بات زیادہ پسند آتی ہے۔ ایسی کہانیوں کو سننے والے بھی زیادہ ہوتے ہیں اور سننانے والے بھی زیادہ ہوتے ہی۔ ہمارے معاشرے کے پدر شاہی نظام میں خواتین کی کردار کشی کرنا آخری حربہ ہوتا ہے جس کے تحت آپ ہر اس خاتون کو نشانہ بناتے ہیں جس کی کامیابی تک آپ نہیں پہنچ سکتے ہیں اور زیادہ تر ایسے الزامات نامور خواتین لگائے جاتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ نے اس موضوع پر بتصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ عرصہ دراز سے یہی ہوتا آ رہا ہے کہ جب بھی کسی مرد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے تو عورت کا ہی کندھا استعمال کیا جاتا کے۔ ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ عدلیہ ہو، کوئی سرکار افسر ہو، فوج ہو، سیاست دان ہو یا پھر کوئی اور طاقتور شخص ہو، ہمیشہ عورت کے کردار پر بات کرکے اصلی ہدف تک پہنچا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جیسے انتہائی پدرانہ معاشرے میں، یہ خواتین کا کردار ہے جس کی ہمیشہ جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ عورت چاہے کتنی ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو، اسے ہمیشہ شک کا نشانہ بنایا جائے گا جبکہ طاقتور مرد پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا ہے۔ چار پاکستانی اداکاراؤں کے معاملے میں بھی مردوں کے زیر تسلط اداروں کے درمیان طاقت کے کھیل میں خواتین کو پیادے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ افسوس ناک ہ

Back to top button