کاہنہ نو،ٹیوشن سنٹرکی چھت گرنے سے14بچے جاں بحق

لاہور کے علاقے کاہنہ نو میں ٹیوشن پڑھنے کے دوران گھر کی چھت گرنے سے متعدد بچے دب گئے، ملبے سے 20 بچوں کو نکالا گیا، 14 جاں بحق ہوگئے۔
کاہنہ نو کے دیہاتی علاقے بستی عید گاہ میں گھر میں کسی نے ٹیوشن سینٹر کھولا ہوا تھا، جہاں روزانہ 35 کے قریب بچے پڑھنے آتے تھے، اس گھر کی دھماکے سے چھت گرگئی جو کہ ٹی آر گارڈر کی بنی ہوئی تھی۔
ترجمان ریسکیو کاکہناہے کہ ملبے سے نکالے گئے6کی حالت خطرے سے باہر ہے، ملبے میں مزید 10 سے 15 بچوں کی موجودگی کا خدشہ ہے۔
محلے داروں نے فوری طور پر امدادی اداروں کو فون کیا، پولیس اور امدادی ادارے پہنچ گئے، ساتھ اہل محلہ بھی ہیں، فوری طور پر کئی بچوں کو نکال لیا گیا جبکہ بقیہ کی تلاش جاری ہے۔
امدادی ادارے کے مطابق نکالے گئے بچوں کی سانسیں بند ہورہی تھیں امدادی کارکنان نے فوری طور پر بچوں کے منہ اور ناک سے مٹی نکالی تاکہ سانسیں بحال ہوسکیں اور انہیں ہسپتال روانہ کردیا۔ نکالے گئے کئی بچوں کی حالت نازک ہے، کئی زخمی ہیں، نکالے گئے کئی بچوں کی نبض بھی نہیں چل رہی تھی اس لیے ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔
اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ گھر کی چھت پر مٹی کی بھی بڑی مقدار موجود تھی، چھت گرنے پر بچے مٹی میں دب گئے۔
امدادی ادارے کے مطابق آپریشن ابھی جاری ہے فوری طور پر بچوں کی تعداد کا تعین نہیں ہوسکا، تاحال 20 بچے نکال لیے ہیں، ان کی مجموعی تعداد بیس سے پچیس کے درمیان ہوسکتی ہے جب کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں 35 بچے ٹیوشن پڑھنے آتے تھے۔
امدادی ادارے اوزاروں کے بجائے ہاتھوں سے مٹی ہٹانے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ پھنسے بچوں کو نقصان نہ پہنچے، آپریشن مکمل ہونے میں مزید ڈھائی سے تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔
ایم ایس ٹی ایچ کیو کاہنہ نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں 14 بچے جاں بحق ہوگئے اور کئی زخمی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق ہونے والوں کی بلند درجات کی دعا اور لواحقین سے اظہار تعزیت کی، وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا اور انہیں ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کاہنہ نو میں ٹیوشن سنٹر میں چھت گرنے کانوٹس لے لیا۔مریم نواز نے چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ریسکیو آپریشن احتیاط سے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ گھر میں ٹیوشن سینٹر بنایا ہوا تھا، خستہ حال عمارت کو بچوں کو پڑھانے کیلئے استعمال کیا گیا، اسے ٹھیک نہیں کرایا گیا، پہلی توجہ بچوں کو ملبے سے نکالنا ہے۔
