طالبان قندوز شہر کے مرکز تک پہنچ گئے

- شہر کے ایک رہائشی نے فون پر بتایا کہ ’طالبان شہر کے مرکزی چوک تک پہنچ گئے ہیں۔ طیارے ان پر بمباری کر رہے ہیں۔قندوز کے رہائشی نے بتایا کہ ’یہاں مکمل انتشار ہے۔اے ایف پی کے مطابق طالبان نے قندوز اور سرِپُل شہروں پر قبضے کا دعویٰ کیا جبکہ خبر ایجنسی کے نمائندے نے قندوز شہر جنگجوؤں کے قبضے کی تصدیق کی۔
جمعے سے اب تک طالبان دو صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر چکے ہیں لیکن قندوز جو کہ شمال میں ہے، پر قبضہ سب سے اہم ہے۔افغان حکومتی فورسز نے بڑی حد تک دیہی علاقوں کو عسکریت پسندوں کے حوالے کر دیا ہے لیکن اب وہ ملک کے کئی بڑے شہروں کے دفاع کے لیے لڑ رہی ہیں۔خیال رہے کہ جمعے کو طالبان نے نمروز صوبے کے دارالحکومت زرنج پر قبضہ کیا تھا اور اس سے اگلے روز صوبہ جوزجان کے صوبائی دارالحکومت شبرغان پر قبضہ کر لیا تھا۔گذشتہ روز کابل میں افغان ایئر فورس کے ایک پائلٹ کو بم دھماکے میں ہلاک کر دیا گیا۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو ہونے والے اس دھماکے کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی ہے۔
حکام کے مطابق پائلٹ حمید اللہ عظیمی اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی میں نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا۔دھماکے میں پانچ شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔فورس کے کمانڈر عبدالفتاح اسحاق زئی کے مطابق حمید اللہ عظیمی کو امریکی ساختہ بلیک ہاک اڑانے کی تربیت دی گئی تھی اور وہ گذشتہ چار برسوں سے افغان ایئر فورس میں تھے۔انہوں نے بتایا کہ حمید اللہ عظیمی ایک سال قبل سکیورٹی خطرات کی وجہ سے اپنے خاندان کے ساتھ کابل منتقل ہو گئے تھے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ حملہ طالبان نے کیا ہے۔‘روئٹرز نے سب سے طالبان کی پائلٹس کو ہلاک کرنے کی مہم کی خبر دی تھی جبکہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہونے والی ہلاکت سے قبل کم از کم سات افغان پائلٹس ہلاک ہو چکے ہیں۔طالبان نے ایک ایسے پروگرام کی تصدیق کی جس میں امریکی تربیت یافتہ افغان پائلٹوں کو ’نشانہ بنایا اور ختم کیا جائے گا۔
امریکی اور افغان عہدیداروں کا خیال ہے کہ یہ جان بوجھ کر افغانستان کے امریکہ اور نیٹو کے تربیت یافتہ فوجی پائلٹوں کو تباہ کرنے کی کوشش ہے کیونکہ ملک بھر میں لڑائی نے شدت اختیار کر لی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے بی 52 بمبار اور گن شپ طیاروں کو حملے کا حکم دیا ہے۔امریکی محمکہ دفاع سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے بتایا ہے کہ بی 52 طیارے قطر کے العدید ایئربیس سے افغانستان جا رہے ہیں اور وہ قندھار، ہرات اور لشکر گاہ کے ارد گرد طالبان کے ٹھکانوں پر حملہ کر رہے ہیں۔
