طالبان نے اقلیتی کمانڈر کو بغاوت پر گولی مار کر ہلاک کر دیا

طالبان نے اپنے پہلے اقلیتی کمانڈرمولوی مہدی کو ملک سے فرارہونے کی کوشش کے دوران ایران بارڈر پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے طالبان کے واحد کمانڈر اور رہنما مولوی مہدی کو صوبے ہرات میں ایران کی سرحد کے قریب گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔
یاد رہےکہ مولوی مہدی کو کچھ سال قبل ہی طالبان نے اپنی تنظیم میں بطور کمانڈر شامل کیا تھا اور وہ اقلیتی برادری سے طالبان میں شمولیت حاصل کرنے والے اب تک کے واحد کمانڈر تھے۔
رپورٹس کے مطابق شیعہ مکتبہ فکر اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے مولوی مہدی کی شمولیت کو طالبان کی پالیسیوں میں تبدیلی اور اقلیتوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے سے تعبیر کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ افغانستان میں حکومت کے قیام کے بعد طالبان نے مولوی مہدی کو ہزار کمیونیٹی کے اکثریتی صوبے کا کمانڈر انچیف مقرر کیا تھا تاہم ان کے اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ہزارہ شیعہ کمانڈر مولوی مہدی اور طالبان کے درمیان اختلافات کی خبریں کافی دن سے زیر گردش تھیں اور آج طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے مولوی مہدی کی ایران فرار ہونے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت کی تصدیق کردی۔
